۱م سیف،یہ خاتون حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی رضاعی والدہ تھیں،ان کا ذکر انس کی حدیث میں آیا ہے۔ عاصم بن علی نے سلیمان بن مغیرہ سے انہوں نے ثابت سے،انہوں نے انس سے روایت کی،آج رات کو میرے گھر بچہ پیداہوا،جس کا نام اپنے جدّ امجد کے نام پرابراھیم رکھا،اورپھر میں نے اسے ام سیف کی تحویل میں دے دیا،جو ابوسیف لوہار کی زوجہ تھیں،حضورِاکرم اپنے صاحبزادے کو اُٹھا کو ابوسیف کے گھر کو روانہ ہوئے،میں حضور کے آگے نکل گیا،اور جلد ی جلدی چل کر ابوسیف کے گھر جاپہنچا،اور وہ اپنی بھٹی کو گرم کررہے تھے،ان کا ذکر آچکاہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی خولی بن عمرو بن خیمثہ بن الحارث بن معاویہ بن عوف بن سعید بن جعفی الجعفی بنو عدی بن کعب کا حلیف تھا۔ ابنِ اسحاق نے ان کا سلسلۂ نسب یہی بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور لوگوں نے جعفی بن ندحج لکھا ہے، لیکن ابن سلام اور ابن ہشام نے انھیں عجلی بن نجیم سے منسوب کرکے عجلی لکھا ہے، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ صحیح جعفی ہے۔ ہم ان کا نسب مکمل طور پر ان کے بھائی خوفی کے تذکرے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ صاحب غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ ان دونوں بھائی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ۔۔۔
مزید
بن الدخشم بن مالک بن غنم بن عوف بن عمرو بن عوف۔ بعض لوگوں نے ان کا سلسلۂ نسب مالک بن الدخشم بن مالک بن الدخشم بن مرضحہ بن غنم لکھا ہے۔ یہ صحاب بقول اسحاق، موسیٰ اور واقدی العقبہ میں موجود تھے۔ ابومعشر لکھتا ہے کہ العقبہ میں موجود نہ تھے۔ واقدی سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے۔ غزوۂ بدر میں بالاتفاق موجود تھے۔ اس غزوے میں جو شخص قیدی بنالیا گیا تھا۔ وہ سہل بن عمرو تھا۔ جس کے بارے میں عتبان بن مالک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تھی کہ وہ منافق ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ کلمۂ شہادت نہیں پڑھتا؟ عتبان نے جواب دیا پڑھتا ہے لیکن اس کے کلمے کا کیا اعتبار! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا کیا وہ نماز نہیں پڑھتا، یارسول اللہ پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کے کیا کہنے! آپ نے فرمایا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ۔۔۔
مزید
بن رافع بن مالک بن عجلان بن عمرو بن عامر بن زریق الانصاری، نزرجی، زرقی: آپ رفاعہ بن رافع کے بھائی تھے۔ جناب مالک اپنے بھائی خلاد اور رافعہ کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا، بعد ازا ادائے نماز حاضر خدمت ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو السلام علیکم کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا، جاؤ! پھر سے نماز ادا کرو کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اس کی تخریج تینوں نے کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج ابواسید الساعدی: ابن ہشام نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب مالک کے دادا کا نام البدن تھا نہ کہ البدی جیسا کہ ابراہیم بن عقبہ نے اپنے چچا موسیٰ سے بروایت الزہری بیان کیا ہے۔ یہ صحابی انصاری، خزرجی، ساعدی تھے۔ غزوۂ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ محمد بن اسحاق وغیرہ اور میرے چچا نے شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ سے پیشتر یہ بات روایت کی ہے۔ ہمیں ابوجعفر نے اپنے استاد نے یونس بن بکیر سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بنو ساعدہ کے بعض اشخاص کے حوالے سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسید مالک بن ربیعہ کو کہتے سنا کہ اگر میں بدر کے موقع پر تمہارے ساتھ ہوتا تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جہاں میں نے بلاشک و شبہ فرشتو۔۔۔
مزید
بن ربیعہ السلوبی: ان کی کنیت ابومریم تھی، اور مرہ بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن کی اولاد سے تھے۔ مرہ کی اولاد اپنی والدہ سلول بنت ذہل بن شیبان بن ثعلبہ سے منسوب تھی۔ جو یزید بن ابی مریم کا والد تھا۔ یہ صحابی حدیبیہ کے موقع پر اسلامی لشکر میں موجود تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت رضوان کی تھی اور ان کا شمار کوفیوں میں تھا۔ ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنے والد کے اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک جاتا ہے، بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا، کہ ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا کہ مجھ سے اوس بن عبداللہ ابومقاتل سلولی نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن ابی مریم نے اپنے والد سے روایت کی کہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا اے اللہ! تو سر منڈوانے والوں کو معاف فرما۔ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ب۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج ابواسید الساعدی: ابن ہشام نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب مالک کے دادا کا نام البدن تھا نہ کہ البدی جیسا کہ ابراہیم بن عقبہ نے اپنے چچا موسیٰ سے بروایت الزہری بیان کیا ہے۔ یہ صحابی انصاری، خزرجی، ساعدی تھے۔ غزوۂ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ محمد بن اسحاق وغیرہ اور میرے چچا نے شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ سے پیشتر یہ بات روایت کی ہے۔ ہمیں ابوجعفر نے اپنے استاد نے یونس بن بکیر سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بنو ساعدہ کے بعض اشخاص کے حوالے سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسید مالک بن ربیعہ کو کہتے سنا کہ اگر میں بدر کے موقع پر تمہارے ساتھ ہوتا تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جہاں میں نے بلاشک و شبہ فرشتو۔۔۔
مزید
الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔
مزید
الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔
مزید
الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔
مزید