ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام حکیم( رضی اللہ عنہا)

ام حکیم دخترِ حارث بن ہشام قرشیہ مخزومیہ ،ان کی والدہ کانام فاطمہ تھا،جو ولید کی دختر اور خلد کی ہمشیرہ تھیں،وہ غزوۂ احد میں بحالتِ کفر شریک تھیں،اور فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا،وہ اپنے عمزاد عکرمہ بن ابوجہل کی بیوی تھیں،جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو عکرمہ بھاگ کر یمن چلا گیاتھا،ام حکیم نے حاضر ہو کر گزارش کی ،یارسول اللہ !اگر آپ اجازت دیں تو میں عکرمہ کو واپس لے آؤں،آپ نے اجازت دے دی،اور بیوی شوہر کو ڈھونڈھ لائی،اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ بعد میں جب عکرمہ شہید ہو گئے تو خالد بن سعید (جب اسلامی لشکر نے مرج الصفرکے مقام پر دمشق کے قریب کیمپ کیا)ان سے نکاح کی خواہش کی،ام حکیم نے کہا ،اگر تم کفار کے لشکر کی شکست کا انتظار کر سکو ،خالد نے کہا میری چھٹی حس مجھےبتا رہی ہے،کہ میں اس معرکے میں مارا جاؤں گا، چنانچہ مرج الصفر کے پل کے پاس ان کی رسم عروسی ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حکیم( رضی اللہ عنہا)

ام حکیم دختر وداع خزاعیہ،بقول ابونعیم وابوعمر انہوں نے ہجرت کی ،ابن مندہ لکھتے ہیں کہ وداع سےصفیہ دختر جریر نے روایت کی ،کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہ آپس میں ہدایا کا تبادلہ کیا کرو،کہ اس سے سینے کی خباثتیں زائل ہوجاتی ہیں،نیز فرمایا،کہ افطارمیں جلدی کرو،اورسحری میں تاخیر،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حکیم( رضی اللہ عنہا)

ام حکیم دختر عثمان بن مظعون،یہ خاتون عمر کے ساتھ اعتکاف کی کرتی تھیں،اسے عمر بن ذر نے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے،اور ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے،ابونعیم نے ان کے والد کا نام حکیم اور ان کا اپنا نام خولہ لکھاہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حکیم( رضی اللہ عنہا)

ام حکیم دختر عتبہ بن ابووقاص،یہ خاتون مہاجر خواتین سے ہیں،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حمید( رضی اللہ عنہا)

ام حمید انصاریہ جو ابوحمید ساعدی کی زوجہ تھیں،یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے ، انہوں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے،انہوں نے زید بن حباب سے،انہوں نے عبدالحمید بن مندر بن ابوحمید ساعدی سے،انہوں نے اپنےوالد سے ،انہوں نے اپنی دادی ام حمید سے روایت کی،کہ میں نے رسولِ کریم صلیہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی،یا رسول اللہ !ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہین،لیکن ہمارے شوہر ہمیں روکتے ہیں،حضورِ اکرم نے فرمایا،خواتین کا گھروں کے اندر نماز ادا کرنا،اس سے بہتر ہے کہ وہ برآمدوں میں نماز ادا کریں،اور اسی طرح برآمدوں میں پڑھی ہوئی نماز صحن کی نماز سے جماعت کے ساتھ نماز سے بہتر ہے۔ اسے ابنِ وہب نے داؤد بن قیس سے،انہوں نے عبداللہ بن سوید انصاری سے،انہوں نے اپنی بھتیجی ام حمید سے،جو ابوحمید کی زوجہ تھیں،انہوں نے حضوراکرم سے اسی طرح روایت کی، تینوں نے انکا ذکر ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حرام( رضی اللہ عنہا)

ام حرام دخترملحان بن خالد بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار انصاریہ خزرجیہ،ان کی والدہ کا نام ملیکہ دختر مالک بن عدی بن زید مناہ بن عدی بن عمرو بن نجار تھا،اور ام حرام انس بن مالک کی خالہ تھیں،اور عبادہ بن صامت کی زوجہ،اورا ن کا نام رمیصاء تھا،اور ایک روایت میں غمیصاء مذکور ہے،لیکن ان کا صحیح نام معلوم نہیں ہوسکا،حضور ِاکرم ان کا احترام فرماتے اور ان سے ملاقات کو جاتے اور وہاں قیلولہ فرماتے،آپ نے انہیں بتایا کہ انہیں شہادت نصیب ہوگی۔ ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبدالصمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے،انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے ،انہوں نے انس بن مالک سے،انہوں نے اپنی خالہ حرام سے روایت کی کہ حضورِاکرم ان کے گھر تشریف لائے،قیلولہ فرمایا،جب جاگے تو مسکرارہے تھے،میں نے وجہ پوچھی،ت۔۔۔

مزید

(سیّدہ )اخت حارث( رضی اللہ عنہا)

اخت ِحارث بن سراقہ،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ جب مقتولین بدر کے نام مدینے میں پہنچے،تو ان کی رشتہ دار خواتین نے آہ و زاری شروع کردی،لیکن ام حارث بن سراقہ اور ان کی ہمشیرہ جو بنوعدی بن نجار سے تھیں،فیصلہ کیا،کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی تک انتظار کریں گی،اگر ان کے مقتولین بہشتی ہیں،تو وہ صبر کریں گی،لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم بھی روئیں گی۔ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو دونوں بہنیں حاضر خدمت ہوئیں،تو آپ نے بتایا، کہ مقتولین جنت میں ہیں،اور انہیں فردوس میں اعلیٰ مقام عطاہواہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حرملہ( رضی اللہ عنہا)

ام حرملہ دختر عبدالاسود بن خزیمہ بن اقیش بن عامر بن بیاضہ بن سبیع بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن خزاعہ،آغاز بعثت میں اسلام قبول کیا ،اور پھر اپنے شوہر جہم بن قیس بن عبد بن شرجیل کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور ابوموسیٰ نے ان کا نسب لکھاہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِ ابی ہشام( رضی اللہ عنہا)

ام ہشام دختر حارثہ بن نعمان انصاریہ،ایک روایت میں ام ہاشم ہے،ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ ابوالفضل بن ابوالحسن طبری نے باسنادہ ابویعلی احمد بن علی سے،انہوں نے زبیر سے ،انہوں نے جریر سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے،انہوں نے عبداللہ بن ابوبکر سے،انہوں نے یحییٰ بن عبداللہ سے،انہوں نے ام ہشام دختر حارثہ سے روایت کی،کہ انہوں نے سورۂ ق والقرآن المجید، حضورِاکرم کی زبانِ مبارک سے سُن سُن کر یاد کرلی تھی کیونکہ آپ ہر جمعے کے خطبے میں اس سورہ کی تلاوت فرماتے تھے۔ ابوداؤد سجستانی نے یحییٰ بن ایوب اور ابن ابی الرجال سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے،انہوں نے عمرہ سے،انہوں نے ہشام دختر حارثہ سے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سعاد(رضی اللہ عنہا)

سعاد دختر رافع بن ابو عمرو بن ثعلبہ انصاریہ از بنو مالک بقول ابن حبیب انہوں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید