ام ہاشم یاام ہشام دختر حارثہ بن نعمان انصاریہ،بیعتِ رضوان میں شریک تھیں،ان سے عبدالرحمٰن بن سعد خبیب بن عبدالرحمٰن اورعمرہ نے روایت کی۔ ابوالفرج بن ابوالرجاءاور عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسناد ہما،مسلم بن حجاج سے،انہوں نے عمروالناقد سے،انہوں نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے،انہوں نے عبداللہ بن ابوبکر بن حزم سے،انہوں نے یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ سے،انہوں نے ام ہشام دختر حارثہ بن نعمان سے روایت کی،کہ ہم اور رسول کریم دو سال میں ایک دفعہ یا سال میں ایک بار یاہرسال کچھ عرصے گزرنے کے بعد روشنی کیا کرتے، میں نے سورۂ ق کو رسولِ کریم کی زبان سے سُن کر یادکرلیا،کیونکہ آپ ہر جمعے کے خطبے میں اس کی قرأ ت فرماتے،تینوں نے اس کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ام حسان دخترشداد،ہم نے ان کے بیٹے حسان کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سعاد دختر سلمہ بن زہیر بن ثعلبہ،اس خاتون نے رسولِ کریم رؤف رحیم سے درخواست کی کہ آپ انہیں اس بچے کے لئے جو ان کے پیٹ میں ہے،اپنی بیعت سے مشرف فرمائیں،آپ نے فرمایا ،تو قابل احترام آزاد خاتون ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ہلال بن بلال مسلم بن حجاج نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہے،مگر ان سے کوئی روایت بیان نہیں کی ابنِ مندہ نے ام ہلال دختر بلال لکھاہے اور نیز یہ بھی لکھا ہے کہ مسلم نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ سےغلطی ہوئی ہے،کیونکہ ان کا نام ام بلال دخت ہلال ہے، جیساکہ پہلے گزرچکا ہے،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے،مقام تعجب ہے کہ ابن مندہ نے پیشترازیں ام بلال لکھاہے،اور یہاں دونوں نام بدل دئیے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
صعبہ دختر سہل بن عمروبن زید بن عمروبن اشہل انصاریہ،بقول ابنِ حبیب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام حفید،ان کا نام ہزیلہ دختر حارث ہلالیہ تھا،یہ خاتون ام المومنین میمونہ دختر حارث کی بہن تھیں اور ابنِ عباس اور خالد بن ولید کی والدہ ،ہم ابن عباس کی حدیث میں ان کا ذکر کر آئے ہیں،یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گھی،پنیر اور گوہ پیش کی تھی،اول الذکر دو اشیاء تو آپ نے استعمال کی تھیں،اور گوہ بوجہ اس کی غلاظت کے نہ کھایا،لیکن آپ کے سامنے باقی لوگون نے گوہ کا گوشت کھایا حفید صحرا نشین تھیں۔ ابوالفضل بن ابوالحسن طبری نے باسنادہ احمد بن علی سے انہوں نے ابوعوانہ سے،انہوں نے ابنِ بشیرسے،انہوں نے سعیدبن جبیر سے،انہوں نے ابنِ عباس سے روایت کی،کہ میری خالہ ام حفید نے حضورِ اکرم کو مذکورہ اشیاء بطور ہدیہ پیش کیں،آپ نے اول الذکر دو اشیاء استعمال کیں،لیکن گوہ کو بوجہ کراہت نہ کھایا،البتہ باقی لوگوں نے کھالیا،اگر گوہ حرام ہوتی تو آپ اپنے ۔۔۔
مزید
ام الحصین دخترِ اسحاق احمیہ ،یحییٰ بن محمود اور ابویاسر نے باسناد ہما مسلم ابوالحسین سے،انہوں نے احمد بن حنبل سے ،انہوں نے محمد بن سلمہ سے،انہوں نے ابوعبدالرحیم سے،انہوں نے زید بن ابی انیسہ سے،انہوں نے یحییٰ بن حصین سے،انہوں نے ام حصین اپنی دادی سے روایت کی کہ وہ حجتہ الوداع میں حضورِ اکرم کے ساتھ تھیں اس نے اسامہ اور بلال کو دیکھا،کہ ایک نے اونٹنی کی باگ پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے نے آپ کوگرمی سے بچانے کے لئے کپڑا تان رکھاتھا،تاکہ آپ رمی جمار کرسکیں،ابوعبدالرحیم کا نام خالد بن ابو یزید تھا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سعدہ دختر قمامہ،ان سے مروی ہے،کہ وہ عورتوں کی امامت کیا کرتیں،اور ان کے درمیان کھڑی ہوتیں تھیں،جیسا کہ جناب ام سلمہ سے مروی ہے،کہ ان کی روایت کے مطابق انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اخت حذیفہ بن یمان،کوئی ان کا نام فاطمہ اور کوئی خولہ بتاتاہے،ابواحمد بن سکینہ نے باسناد ابوداؤد سے ،انہوں نے مسدودسے،انہوں نے ابوعوانہ سے،انہوں نے منصور سے،انہوں نے ربعی سے، انہوں نے اپنی بیوی سے،انہوں نے اختِ حذیفہ سے روایت کی،کہ ایک موقع پر حضورِ اکرم نے خواتین کو مخاطب کرکے فرمایا،اے خواتین تم چاندی کے زیور سے اپنے آپ کو سنوارسکتی ہو،مگر تم میں سے جو عورت سونے کا زیور پہن کر اس کی نمائش کرتی ہے،اسے عذاب دیا جائے گا،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سعدی دخترعمرو المریہ،یہ ابو عمر کا قول ہے،ابن مندہ اور ابو نعیم نےسعد دختر عوف بن خارجہ بن سنان لکھا ہے،یہ خاتون طلحہ بن عبیداللہ کی زوجہ اور یحییٰ بن طلحہ کی والدہ تھیں،ان سے یحییٰ بن طلحہ، زفربن عقیل اور محمد بن عمران بن طلحہ نے روایت کی۔ ابو الفضل بن ابوالحسن الفقیہہ نے باسنادہ تا ابو یعلی موصلی ہارون بن اسحاق سے،انہوں نے محمد بن عبدالوہاب قناد سے،انہوں نے مسعر بن کدام سے،انہوں نے اسماعیل بن ابو خالد سے،انہوں نے شعبی سے،انہوں نے یحییٰ بن طلحہ سے انہوں نے اپنی والدہ سعد المریہ سے روایت کی،کہ رسولِ کریم کی وفات کے بعد ایک بار حضرت حضرت عمر رضی اللہ عنہ طلحہ کے پا س سے گزرے،وہ غمزدہ تھے، حضرت عمر نے کہا،کیا تجھے عمزاد کی امارت اچھی نہیں لگی،انہوں نے کہا نہیں ایسی کو ئی بات نہیں، میں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سنا،کہ آپ کو ایک ایسے کلمے کا ۔۔۔
مزید