ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خالد( رضی اللہ عنہا)

ام خالد دخترِ یعیش بن عمرو الانصاریہ از بنومالک،بقولِ ابنِ حبیب ،انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خالد( رضی اللہ عنہا)

ام خالد دختر خالد بن سعید بن عاص بن امیہ قرشیہ امویہ،ان کا نام امہ اور ان کی والدہ کا نام ہمینہ تھا، جو خلف خزاعیہ کی بیٹی تھیں،انہوں نے اسلام قبول کیا اور ہم ان کا ذکر پہلے کر آئے ہیں۔ ابوبکر بن عویس اور کئی راویوں نے محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے حبان سے،انہوں نے ابن مبارک سے،انہوں نے خالد بن سعید سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے اپنی والدہ ام خالد سے روایت کی کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے زرد رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی،آپ نے فرمایا خوب،خوب،عبداللہ نے کہا،یا رسول اللہ ،حبشہ اسے حسنہ کہا جاتا ہے،ام خالد کہتی ہیں کہ میں اُٹھ کر حضور اکرم کی خاتم نبوت سے کھیلے لگ گئی،میرے والد نے مجھے جھڑکا،لیکن رسول اکرم نے فرمایا،اسے مت روکو۔ محمد بن اسماعیل نے فضل بن دکین سے،انہوں نے اسحاق بن سعید سے،انہوں نے اپنے و۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خلاد( رضی اللہ عنہا)

ام خلاد،یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے حضورِ اکرم سے اپنے شہید بیٹے کےبارے میں دریافت کیا تھا، ان کا قصہ خلاد انصاری کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خناس( رضی اللہ عنہا)

ام خناس،ابنِ ماکولا نے خا اور نون خفیفہ سے لکھاہے،اور خناس سکونی کا ذکرکیا ہے،اور مزید لکھا ہے، کہ ام خناس مسعود کی زوجہ تھیں اور انہیں حضورِ اکرم سے صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خارجہ( رضی اللہ عنہا)

ام خارجہ دختر بن ضمضم انصاریہ از بنو عدی بن نجار،بقول ابنِ حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سعیدہ(رضی اللہ عنہا)

سعید دختر رفاعہ بن عمرو بن عبید بن امیہ ،انصاریہ اشہلیہ،بقول ابن حبیب انہوں نے رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والسّلام سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید