خدامہ دختر جندل اسدیہ،ایک روایت میں حذافہ ہے،انہوں نےہجرت کی،لیکن ان سے کوئی روایت مروی نہیں ، یہ عروہ بن زبیر اور ابن اسحاق کا قول ہے،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
نسیبہ دخترِ حارث ام عطیہ انصاریہ،وہ اپنی کنیت سے مشہورہیں،ان کا ذکر کنیتوں کے تحت زیادہ تفصیل سے آئے گا،یہ و ہ خاتون ہیں جنہوں نے حضورِاکرم کی صاحبزادی کو غسل دیا تھا،ان سے حفصہ دختر سیرین نے روایت کی،یہ ابوعمر کا قول ہے،لیکن ابن مندہ اور ابونعیم نے انہیں دختر کعب لکھا ہے اور نیز لکھاہے،کہ اسی خاتون نے حضوراکرم کی صاحبزادی کو غسل دیا تھا،اور ان کا نام امِ عمارہ نسیبہ دختر کعب لکھا ہے،لیکن ابوعمر نے ان کا نام ام عطیہ دختر حارث بیان کیا ہے،اور ان کا نام نسیبہ دختر کعب کا بھی ذکر کیا ہے،اور ان سے محمد بن سیرین اور ان کی ہمشیرہ حفصہ نے روایت کی ہے،نُسَیبہ کے علاوہ ایک اور خاتون نَسِیبہ نامی ہیں،جن کا پورا تعارف ام عمارہ نَسیبہ دختر کعب انصاریہ ہے،یہ خاتون حضورِ اکرم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں،ان سے ایک حدیث مروی ہے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ اور ۔۔۔
مزید
نسیبہ دختر کعب بن عمرو،ام عمارہ انصاریہ،بیعت عقبہ میں تھیں،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے، انہوں نےابنِ اسحاق سے بہ سِلسلۂ حاضرین عقبہ بیان کیا ہے ،کہ بنو خزرج سے باسٹھ(۶۲)مرد جن میں نو نقیب تھے،اور دو خواتین شریک ہوئی تھیں،خیال ہے کہ خواتین نے بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی،لیکن آپ ان سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے،بلکہ ہاتھ اٹھارکھتے،اور جب وہ اقرار کر چکتیں تو فرماتے،جاؤ،تمہاری بیعت ہوگئی۔ جن خواتین نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے بیعت کی،دونوں بنومازن بن نجار سے تھیں،ایک نسیبہ تھیں،اور ان کی ہمشیرہ دخترانِ کعب بن عمرو بن مبذول بن عمروبن غنم بن مازن بن نجار تھیں، نسیبہ کا شوہر زید بن عاصم بن کعب اور ان کے دونوں بیٹے عبداللہ اور حبیب بھی ساتھ تھے،حبیب وہی ہیں،جنہیں مسیلمہ نے پکڑ لیا تھا،یہ واقعہ بیان ہوچکا ہے ایک اور روایت کے مطابق دوسری خاتون کا ۔۔۔
مزید
خزیمہ دختر جہم بن قیس عبدریہ از بنو عبدالدار بن قصٰی! انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی،ان کی والدہ کا نام خولہ امِ حرملہ دختر اسود تھا،ابو عمر نے ان کاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لہیہ جوحضرت عمر کی ام ولد تھیں،انہیں صحبت حاصل ہوئی،جعفر نے انہیں صحابیہ شمار کیا ہے اور باسنادہ زہری کے بھتیجے سے،انہوں نے چچاسے روایت کی،کہ اہلِ علم کی ایک جماعت نے ام المومنین حفصہ کایہ واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے ایک دن لہیہ کو بھیجا،کہ جاؤاور دیکھو،کہ رسول اکرم میرے گھر سے نکل کر کس بیوی کے پاس گئے ہیں،لہیہ نے آپ کو ام المومنین صفیہ کے حجرے میں پایا،اور انہیں بتادیا،حفصہ کہہ رہی تھیں،اس یہودیہ نے آپ کو دھوکا دیا ہے،ام المومنین نے لہیہ سے کہا،واپس جاؤ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صفیہ کے حجرے سے نکلیں،تو جو کچھ میں نے صفیہ کے بارے میں کہا ہے اسے بتادینا،ام ولد نے ایسا ہی کیا،ام المومنین صفیہ نے کہا،مجھ سے بلند مرتبہ کو ن ہوسکتا ہے،میں نبی کی بیٹی ہوں،ہارون میرے باپ،موسیٰ میرے چچااور محمد رسول اللہ میرے شوہر ہیں،حضور واپس آئے تو جناب صفیہ رو رہی تھیں،۔۔۔
مزید
نسیبہ دختر نیار بن حارث بن ہلال بن احیحہ انصاریہ از بنوجحجبا،بقولِ ابن حبیب ،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
لیلی دختر عبداللہ بن عبد شمس بن خلف بن ضرار بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب قرشیہ عدویہ،یہ وہی خاتون ہیں جن اک عرف الشفاء تھا،یہ جعفر بن محمد بن حبان کا قول ہے، ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لیلی دختر ابی حثمہ بن حذیفہ بن غانم بن عامر بن عبداللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب بن لوئی قرشیہ عدویہ،عامر بن ربیعہ کی زوجہ تھیں،اور بیٹے کا نام عبداللہ اور کنیت ام عبداللہ تھی دونوں ہجرتیں کیں،اور دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز اداکی،ان سے الشفاء نے روایت کی،نیز یہ پہلی خاتون ہیں جو مدینے میں بحیثیت مہاجر داخل ہوئیں،ایک روایت میں ام سلمہ پہلی مہاجر خاتون ہیں۔ ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن حارث سے، انہوں نے عبدالعزیز بن عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے،انہوں نے اپنی والدہ لیلیٰ سےروایت کی کہ عمر بن خطاب ہم پر اسلام کے بارے میں بہت سختی کرتے تھے،جب ہم نے حبشہ جانے کا ارادہ کیا تو اس اثنا میں حضرت عمر آگئے اور میں اپنی سواری پر سوار رخصت ہونے کو تیار کھڑی تھی،پوچھا،ام عبداللہ کہاں جا رہی ہو،میں نے کہا،تم نے ہمیں اسلام ۔۔۔
مزید
لیلی دختر ابوسفیان بن حارث بن قیس بن زید بن امیہ انصاریہ اشہلیہ،بقولِ ابنِ حبیب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
لیلی دختر اطنابہ بن منصور بن معیص بن جَثم انصاریہ از بنو حبلی،بقولِ ابنِ حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید