لیلی دختر ثابت منذر انصاریہ از بنو مالک بن نجار،بقول ابنِ حبیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
لیلی دختر سماک بن ثابت بن سفیان بن جثم بن عمرو بن امرءالقیس انصاریہ از بنو حارث بن خزرج، بقولِ ابن حبیب حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
لیلی غفاریہ،یہ خاتون حضورِاکرم کے ساتھ غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی تیمارداری کے لئے جایا کرتی تھیں،ان سے موسیٰ بن قاسم نے یہ بات اسی طرح روایت کی ہے، انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی،کہ آپ نے جناب عائشہ سے فرمایا، کہ سب سے پہلے ایمان قبول کرنے والے علی بن ابی طالب تھے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لیلی جو عائشہ صدیقہ کی آزاد کردہ کنیز تھیں،ان سے ابوعبداللہ مدنی نے روایت کی،انہوں نے حضورِ اکرم کی خدمت میں گزارش کی،یارسول اللہ!آپ بعض اوقات بیت الخلاء سے نکلتے ہیں،تو میں آپ کے بعد داخل ہوئی ہوں،وہاں مجھے سوائے کستوری کی خوشبو کے اور کچھ نظر نہیں آتا،فرمایا،انبیا کے اجسام اس مادے سے بنائے گئے ہیں،جس سے اہلِ جنت کے جسم بنائے گئے ہیں،اس لئے ہمارے جسم سے جو غلاظت نکلتی ہے،اسے زمین نگل لیتی ہے،(یہ حدیث راوی کا اختراع ہے)۔ ابنِ اثیر کے نزدیک ابو عبداللہ مدنی مجہول الحال ہے،تینو ں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لیلی جو عبدالرحمٰن بن ابی لیل کی پھوپھی تھیں،حضورِ اکرم کے بیعت کی،اور آپ سے روایت بھی کی،ام حمادہ دختر محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے اپنی پھوپھی سے روایت کی،کہ ام لیلی اس کے لئے میں قمیض چادر اور اوڑھنی ہر مہینے رنگا کرتی تھی،اور اسی طرح کپڑوں کو رنگدار پانی میں ڈبو دیتی تھی، اور کہا کرتی کہ انہوں نے حضور نبیِ کریم سےانہی امور پر بیعت کی ہے۔ غسام نے ام لیلی اور ابوعمر نے لیلی لکھا ہے،واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
لیلی سدوسیہ جو بشیر بن خصاصہ کی زوجہ تھیں،ان سے ایاد بن لقیط نے روایت کی،حضور اکرم نے ان کے خاوند کا نام زجم سے بدل کربشیر کردیا تھا،لیلی سے مروی ہے،کہ انہوں نے دودن کا روزہ رکھنے کی خواہش کی،انہوں نے شوہر سے ذکر کیا،تو انہوں نے کہا،کہ حضور نبی کریم نے ایسے روزے سے جو یہود کا معمول تھا،منع فرمایا ہے،آپ کا فرمان ہے،کہ دن کو روزہ رکھو اور رات کو افطار کرو، تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لمیس دختر عمرو بن حرام انصاریہ،بقول اَبن حبیب انہیں حضورِاکرم سے بیعت حاصل ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
لسیبہ دختر کعب اور ایک روایت میں دختر حرب آیا ہے،ام عمارہ انصاریہ از بنو نجار،طبرانی نے ان کا نام لام سےلکِھاہے،لیکن زیادہ تر نسیبہ نون سے لکھاجاتا ہے،ہم اگلے باب میں پھر ذکر کریں گے، ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
لبابہ دخترابولبابہ انصاریہ،انہوں نے حضورِاکرم کی زیارت کی،ان سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھی،وہ مجھے کہتاکہ اللہ اور اس کے رسول کے خائن کو رسّی سے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دے،ہم یہ واقعہ لبابہ کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ایک دن ان کا بھائی رفاعہ بن عبدالمنذر ان کے قریب سے گزرا،میرے والد نے اپنے بھائی کو آواز دی،ادھر آؤ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے،رفاعہ نے کہا،میں تم سے اس وقت تک کلام نہیں کروں گا،جب تک کہ تمہیں اللہ اور اس کا رسول معاف نہ کردیں،اس دَوران حضور نبی کریم نے میرے والد کے بارے میں دریافت فرمایا،تو لوگوں نے صورتِ حال بیان کی،آپ نے فرمایا،اگر وہ میرے پاس آجاتا،تو میں اس کے بارے میں سوچ وبچار کرتا،آخر ذیل کی آیات نازل ہوئی۔ " یٰاَیُّھَا الذین اَمنوالاتخونواللہ والرسول " اور" اٰخرون مرجون لامراللہ" ابونعیم اور ابن مندہ نے ذکر کیا۔۔۔
مزید
لبابہ دختر حارث بن حزن بن بجیربن ہُزَم بن دویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ ان کی کنیت ام الفضل تھی اور عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں،انہوں نے چھ بیٹے جنے،فضل، عبداللہ،معبد،عبیداللہ،قثم اورعبدالرحمٰن ،یہ خاتون لبابتہ الکبریٰ کہلاتی تھیں،اور ام المومنین میمونہ کی بہن تھیں اور خالد بن ولید کی خالہ تھیں،براویتے خدیجتہ اکبریٰ کے بعد یہ دوسری خاتون تھیں،جو ایمان لائیں حضورِاکرم ان کے یہاں تشریف لاتے،اور دن کو قیلولہ فرماتے،یہ نجیب خواتین میں شمار ہوتی ہیں،جنہوں نے چھ بیٹوں کو جنم دیا،اس عہد میں یہ شرف صرف انہیں کو حاصل ہوا،عبداللہ بن یزید ہلالی کہتاہے۔ (۱)مَاوَلَدَت نَجِیبَۃٌمِن فَحلٍ کِشَۃٍمِن بَطنِ اُمّ الفضلٖ (ترجمہ)کسی نجیب عورت نے ایک جوانمرد سے،اس طرح چھ لڑکے نہیں جنے،جس طرح کہ ام الفضل کے بطن سے چھ بیٹے تولد ہوئے۔ (۲)اَکرِم بِھَا مِن کَھ۔۔۔
مزید