پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر اوس بن شریق ام سعید،بن خثیمہ انصاریہ از بنو خطمہ،بقول ابن حبیب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر ہبیرہ،نسائی نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے،ابوالقاسم یعیش بن صدقہ الفقیہہ نے باسنادہ ابو عبدالرحمٰن نسائی سے،انہوں نے عبداللہ بن سعید سے،انہوں نے معاذ بن ہشام سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابو یحییٰ بن ابو کثیر سے،انہوں نے زید سے،انہوں نے ابوسلام سے، انہوں نے ابواسماء رحبی سے روایت کی کہ انہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مولیٰ ثوبان نے بتایا،کہ ہند دختر ہبیرہ حضورِ اکرم کی میں آئیں اور ان کے ہاتھ میں موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں، آپ نے انگوٹھیاں دیکھ کر ہاتھ پر ضرب لگائی،بعد میں وہ خاتون خاتون جنت کے گھر گئیں،اور حضورِ اکرم کے بارے میں شکایت کی،جناب فاطمتہ الزہرا نے اپنے گلے سے سونے کا ہار جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تحفتہً دیا تھا،اتارکر ہاتھ میں پکڑلیاا تنے میں حضورِ اکرم تشریف لے آئے اور ہار دیکھ کر فرمایا،اے فاطمہ!کیا تو پسند کرے گی کہ لوگ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر منبہ بن حجاج قرشیہ سہمیہ،فتح مکہ کے موقعہ پر بیعت کی اور اسلام لائیں،بقول واقدی عبداللہ بن عمرو بن عاص کی والدہ تھیں،ابن دباغ نے ان کے ذکر سے غسانی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر منذر بن جموح بن زید بن منذر انصاریہ ساعدیہ ،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی یہ ابنِ حبیب کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر محمودبن مسلمہ بن خالد بن عدی انصاریہ،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضورسے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر ربعیہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم،ان کی ولادت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی،جبار بن واسع کی زوجہ تھیں،ان کی ایک بیوی بنو انصار سے تھی،جبار نے انصار یہ کو طلاق دے دی،اس وقت اس کا ایک شیر خوار بچہ بھی تھا،ایک سال کے بعد جبار بن واسع فوت ہوگئے اور خاتون کو حیض نہ آیا،مطلقہ بیوی نے وراثت میں حصہ مانگا،کہ اسے حیض نہ آیا تھا،دونوں اپنا مقدمہ حضرت عثمان کے پاس لے گئیں،چنانچہ انہوں نے اسے وراثت سے حصہ دے دیا،جب جناب ہند نے حضرت عثمان سے شکایت کی،تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہار عمزادکا حضرت علی کیا دھرا ہے،ابوعمرنے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر سماک بن عتیک بن امراء القیس،اسید بن حضیر انصاری کی پھوپھی تھیں،یہ خاتون حارث بن اوس بن معاذ کی والدہ تھیں،یہ عدوی کا قول ہے،انہیں حضورِ اکرم کی بیعت نصیب ہوئی،ابن حبیب کے مطابق جناب ہند کے عبداللہ اور عمرو نامی سعد بن معاذ سے دو بیٹے تھے،ابن الدباغ نے غسانی سے روایت کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہنددختر عمرو بن حرام انصاریہ جو عبداللہ بن عمرو کی ہمشیرہ تھیں،اور جابر بن عبداللہ کی پھوپھی،ان کی حدیث واقدی نے ایوب بن نعمان سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر ولید بن عتبہ بن ربعیہ بن عبد شمس قرشیہ عبثمیہ،جو معاویہ کی خالہ زاد تھیں،ابوعمر نے ان کا نام فاطمہ لکھا ہے،بقولِ دار قطنی امام مالک نے ان کا نام فاطمہ لکھاہے،مگراور لوگوں نے بربنائے روایت زہری نے ان کا نام ہند لکھا ہے او ریہی درست ہے۔ ابو احمد بن عبدالوہاب بن علی بن سکینہ نے باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے احمد بن صالح سے، انہوں نے عتبہ سے،انہوں نے یونس سے،انہوں نے ابن شہاب سے،انہوں نے عروہ بن زبیر سے،انہوں نے حضرت عائشہ اور ام سلمہ سے روایت کی،کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربعیہ نے سالم کو متبنیٰ بنا رکھا تھا،اور اس کا نکاح اپنے بھائی کی بیٹی ہند دختر ولید بن عتبہ سے کردیا تھا،جوانصار کی ایک خاتون کا مولیٰ تھا،اور جاہلیت میں متبنیٰ کو ثلبی بیٹے کی طرح سمجھاجاتا،اور جائداد کا وارث قرار دیا جاتا،تاآنکہ قرآ ن کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ادعوھم لِاٰبائھم،تم۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند دختر یزید بن برصاء از بنوابوبکر بن کلاب،ابوعبیدہ نے اس خاتون کو ازواج النبی میں شمارکیاہے، احمدبن ابو صالح مصری کے مطابق ان کا نام عمرہ دختر یزید تھا،اس میں زبردست اختلاف ہے۔ ۔۔۔

مزید