جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر عبدالمطلب بن ہاشم قرشیہ ہاشمیہ ،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں، ان کے اسلام کے بارے میں اختلاف ہے،اور ابن اسحاق اور علماکی ایک جماعت کا خیال ہے،کہ حضورِاکرم کی پھوپھیوں میں سے سوائے جناب صفیہ کے اور کسی نے اسلام قبول نہیں کیا،اور عاتکہ ابوامیہ بن مغیرہ مخزومی کی بیوی اور عبداللہ ام زبیر اور قریبہ کی والدہ تھیں،ان سے ام کلثوم دختر عقبہ بن ابی معیط وغیرہ نے روایت کی۔ عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے،انہوں نے حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے،انہوں نے عکرمہ سے،انہوں نے ابن عباس سے (ح) عبیداللہ بن احمد نے یزید بن رومان سے،انہوں نے عروہ بن زبیر سےروایت کی ،کہ عاتکہ دختر عبدالمطلب نے ضمضم بن عمرو الغفاری کے قریش مکہ کے پاس آنے سے تین دن پیشتر ایک خواب دیکھا،جب صبح ہوئی تو اپنے بھائی عباس کو بلایااور بتایا ،۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر عوف بن عبدالحارث بن زہرہ قرشیہ زہریہ جو عبدالرحمٰن بن عوف کی ہمشیرہ تھیں اور مسور بن محزمہ کی والدہ تھیں،انہوں نے اور ان کی بہن شفأ نے ہجرت کی،ابوعمرنے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)عاتکہ(رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر خالد بن منقذبن ربعیہ اور ایک روایت میں عاتکہ دختر بن خلیف بن منتقذبن ربعیہ بن اصرم بن قبیس بن حرام بن حبشیہ بن سلول بن کعب بن عمرو بن ربعیہ بن ربعیہ خزاعہ ہے،یہی خاتون ام معبدہیں،جن کے بیٹے کا نام معبدتھا،ان کے شوہرکا نام اکثم بن ابوالجون خزاعی تھا،اور ان کی کنیت ابومعبد تھی،یہ وہی خاتون ہیں جن کے خیمے میں حضورِاکرم ہجرت کے موقعے پر اُترے تھے۔ عبدالمالک بن وہب مذجحی نے حر بن صباح نخعی سے،انہوں نے ابومعبد خزاعی سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کےایک کونے میں ایک بکری دیکھی،دریافت فرمایا،کیادودھ دیتی ہے،ام معبد نے کہا،یہ تو گئی گزری حالت میں ہے،فرمایا،کیا میں اس کا دُودھ دُوہ لوں،اس نے عرض کیا،بصد شوق،اگر اس سے کچھ حاصل ہو سکتاہے،آپ نے اس کے تھنوں کو چھؤا،اللہ کا نام لیا،اور برتن منگوایا ،تاکہ اپنے ساتھیوں کی دعوت کریں،آپ نے برتن می۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر نعیم بن عبداللہ عدویہ،ابونعیم اور ابوعمر نے انصاریہ لکھاہے،عبداللہ بن عقبہ نے ابوالاسود سے،انہوں نے حمید بن نافع سے،انہوں نے زینب دختر ابو سلمہ سے،انہوں نے عاتکہ سے روایت کی کہ ایک عورت حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اورگزارش کی کہ اس کا داماد فوت ہوگیاہے،اور اس کی لڑکی نے اس قدر گریہ زاری کی ہے،کہ مجھے اس کی بینائی کے بارے میں خطرہ پڑگیاہے،کیا وہ آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتی ہے،آپ نے فرمایا،اس کی عدت تو صرف چار ماہ اور دس دن ہے،اور تم میں ایک عورت ایسی بھی تھی،جو سال بھر روتی رہی،اور جب سال ختم ہونے کو آیا،اور وہ گھر سے نکلی،تو بصرہ کے مقام پر وہ تیر کا نشانہ بن گئی،راوی نے روایت بیان کی،لیکن عورت کا نام نہیں لیا۔ متعددراویوں نے باسنادہم ترمذی سے،انہوں نے انصاری سے،انہوں نے معن سے ،انہوں نے مالک سے،انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محم۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عالیہ( رضی اللہ عنہا)

عالیہ دختر طبیان بن عمرو بن عوف بن عبد بن ابوبکر بن کلاب الکلابیہ،حضورِاکرم نے ان سے نکاح کیا،اور کچھ عرصہ آپ کے پاس رہیں،پھر انہیں طلاق ہوگئی،اور بہت کم علمأ نے ان کا ذکر کیا ہے،یہ ابو عمر کا قول ہے،لیکن ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےکہ آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اس خاتون کو طلاق دےدی تھی،اور عالیہ نے اپنے عمزادے آیت تحریمہ کے نزول سے پہلے نکاح کرلیا تھا اور جب انکے جسم پر برص کے نشان دیکھے تھے،توطلاق دے دی تھی،ابو نعیم نے یہ روایت سعید بن ابوعروہ سے بیان کی،اور زہری سے مروی ہے،کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظبیان سے عمرو کی لڑکی کو طلاق دی،تو آیت تحریم کے نزول سے پہلے انہوں نے اپنے عمزاد سے نکاح کرلیا،یحییٰ بن کثیر کی روایت ہےکہ حضورِاکرم نے عالیہ دختر ظبیان کے شبِ اول ہی طلاق دے دی تھی، لیکن عبداللہ بن محمد بن عقیل لکھتے ہیں کہ حضور نے بنو عمروبن ک۔۔۔

مزید

(سیّدہ)عاتکہ(رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختراسیدبن ابوالعیص بن امیہ بن عبدشمس قرشیہ امویہ عتاب بن اسید کی ہمشیرہ تھیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی،مگر ان سے کوئی حدیث مروی نہیں،یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ زبیر نے محمد بن سلام سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفاء دختر عبداللہ عدویہ کو پیغام بھیجا کہ کل صبح کا کھانا میرے ہاں کھانا،میں دوسرے دن گئی،تو عاتکہ دختر ِاسید کو ان کے دروازے پر دیکھا،ہم دونوں اکٹھی اندر داخل ہوئیں،تھوڑی دیر تک ہم دونوں سے باتیں کیں،پھر اُٹھے اور ایک ابریشمی کپڑا عاتکہ کو دیا،اور مجھے بھی دیا،لیکن اس کا کپڑا میرے کپڑے سے بہتر تھا، میں نے کہا،اے عمر!تیرا بھلا نہ ہو،میں نے اس سے پیشتر اسلام قبول کیا،پھر میں تیری عمزادہوں، اور میں اس کے آنے سے پہلے تیرے دروازے پر پہنچی،انہوں نے کہا،میں نے یہ کپڑا تیرے لئے ہی رکھاہوا تھا،لیکن جب تم دونوں جمع ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر ولید بن مغیرہ مخزومی،خالد بن ولید کی ہمشیرہ اور صفوان بن امیہ جمحی کی زوجہ تھیں، صفوان کی چھ بیویاں تھیں،جب اسلام قبول کیا،تودو کو طلاق دے دی،اور عاتکہ کو صفان نے حضرت عمر کے عہد خلافت میں طلاق دی،ہم اس واقعے کو ام وہب کے ترجمے میں بیان کریں گے، ابوموسیٰ نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)عاتکہ(رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر زید بن عمرو بن نفیل قرشیہ عدویہ،ہم ان کا نسب ان کے بھائی سعید بن زید کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،یہ خاتون عمر بن خطاب کی عمزاد تھیں،ان کا نسب نفیل میں جمع ہوجاتا ہے،مدینے کو ہجرت کی ،عبداللہ بن ابوبکر صدیق کی زوجہ تھیں،چونکہ یہ خاتون بڑی حسین وجمیل تھیں،اس لئے شوہرکو ان سے اتنی سخت محبت تھی،کہ وہ ان سے جدائی برداشت نہیں کرسکتے تھے،اور غزوات میں شریک نہ ہوتے،چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا،کہ بیوی کو طلاق دے دو،اس پر انہوں نے ذیل کے اشعار کہے۔ (۱)یَقُولُونَ طَلَّقَھَا وَخِیمَ مَکَانَھَا مُقِیمَاتَمنَی النَّفسَ اَحلَام نَائِمِ (ترجمہ)میرے لوگ کہتے ہیں کہ اسے طلاق دےاور گھر سے نکال دےجبتک وہ رہے گی تیرا نفس غلط تصورات میں مبتلا رہے گا۔ (۲)وَاَنَّ فِرَاقِی اَھلَ بَیتِ جَمِیعُھُم عَلٰی کَثرَۃِ مِنِّی لِاَحدِی العِظَائِمِ (تر۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عائشہ( رضی اللہ عنہا)

عائشہ دختر عبدالرحمٰن بن عتیک نضیری،ہم ان کا ذکر ان کے خاوند رفاعہ کے ترجمے میں کر آئے ہیں، ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عائشہ( رضی اللہ عنہا)

عائشہ دختر حارث بن خالد بن ضحر قریشیہ تمیمیَّہ ام کی اور ان کی دوبہنوں فاطمہ اور زینب کی ولادت حبشہ میں ہوئی،جب وہاں سے واپس ہوئیں تو راستے میں پانی پیا،جس سے وہ خود زینب ،بھائی موسیٰ اور والدہ ریطہ میں فوت ہوگئیں،اور بقول ابن اسحاق فاطمہ بچ گئیں،ابوعمر اور ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید