منگل , 08 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 23 June,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )عائشہ( رضی اللہ عنہا)

عائشہ دخترقدامہ بن مظعون قرشیہ جمحیہ،اس خاتون اور ان کی والدہ رائطہ دختر سفیان خزاعیہ نے آپ سے بیعت کی،عبدالوہاب بن ابوحبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابراہیم بن ابوالعباس اور یونس المعنی سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عثمان بن ابراہیم بن محمد بن حاطب سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنی والدہ عائشہ سے روایت کی،کہ وہ خوداور ان کی والدہ دختر سفیان حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر تھیں،اور حضور خواتین سے بیعت لے رہے تھےاور فرمارہے تھے کہ میں تم سے ان امور پر بیعت لے رہاہوں،کہ تم شرک نہیں کروگی،نہ چوری اور نہ زناکروگی اور نہ اولادکوقتل کروگی اور نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاؤ گی اور نہ میری نافرمانی کروگی،عورتوں نے سرجھکا رکھے تھے،فرمایا،کہو،ہاں ہم ان احکام کی تعمیل بہ قدر استطاعت کریں گی،وہ ہاں کہے جاتی تھیں اور میں بھی ماں کے کہنے پر ان کی نقل۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عائشہ( رضی اللہ عنہا)

عائشہ دختر عمیر بن حارث بن ثعلبہ انصاریہ از بنوحرام،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عائشہ( رضی اللہ عنہا)

عائشہ ،یحییٰ بن معین روایت کی کہ ابوحنیفہ فقیہ نے عائشہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضورِاکرم نے فرمایا، کہ ٹڈی دل دنیامیں خدا کا لشکر ہے،نہ اسے کھاؤ،اور نہ اسے حرام قرار دو،نیز اس راوی نے ابو حنیفہ سے ،انہوں نے عثمان بن راشد سے انہوں نے عائشہ دختر عجرو سے،انہوں نے ابن عباس سے روایت کی کہ یہ خاتون تابعیہ ہیں،اوراکثرعلمأ کی یہی رائے ہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عفراء(رضی اللہ عنہا)

عفراء دختر عبید بن ثعلبہ بن سواد بن غنم بن مالک بن نجار انصاریہ،جومعاذ،معوذ اور عوف کی والدہ تھیں اور اسی نام سے ان کی اولاد پہچانی جاتی ہے،ابن کلبی کا قول ہے،کہ جب غزوۂ بدر میں معاذ اور معوذ شہید ہوگئے،تو عفراء نے حضورِاکرم کی خدمت میں عوف کے بارے میں دریافت کیا،یا رسول اللہ ،کیا یہ میرا بیٹا بُرانکلا،فرمایا ،نہیں،معاذاور معوذ لا ولد فوت ہوئے،ہاں البتہ عوف صاحبِ اولاد تھے،ابن کلبی کے علاوہ اور لوگوں کا خیال ہے،کہ معاذ معرکۂ بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے، بقولِ ابنِ حبیب عفراء نے حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عجمأ( رضی اللہ عنہا)

عجمأ انصاریہ،ابو امامہ بن سہل بن حنیف کی خالہ تھیں،سعید بن ابو ہلال نے مروان بن عثمان سے انہوں نے ابوامامہ سے،انہوں نے اپنی خالہ عجمأ سےروایت کی،حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ اگر ایک بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کے مرتکب ہوں،تو اس لذت کے بدلے انہیں سنگسار کردو،ابن مندہ ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عجوز(رضی اللہ عنہا)

عجوز از بنونمیر،ان سے ابوالسلیل نے روایت کی کہ انہوں نے رسولِ اکرم کو ابطح میں پیشتراز ہجرت نماز پڑھتے دیکھا،آپ نے کعبے کی طرف رُخ کیا ہواتھا،اور دعامیں یہ فقرات فرمارہے تھے۔ "اَلّٰلھُمَّ اغفِرلِی ذَنبِی خَطَائِی وَجَھِلِّی"،ہم عجوزبن نمیر کے ترجمے میں زیادہ تفصیل سے لکھ آئے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عکناء(رضی اللہ عنہا)

عکناء یا عکثاء دختر ابو صفر اور مہلب کی ہمشیرہ،ہشام بن سفیان نے عبداللہ بن عبیداللہ سے،انہوں نے ابواشعشاء سے روایت کی کہ عکثاء نے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے محرم کی دس تاریخ کو عاشورا کا روزہ رکھنے کا حکم دیا،میں نے ابوالشعشاء کے بارے میں رائے دریافت کی،کہا، کہ شیخ مجہول ہے اور یہ شخص جابر بن زید نہیں ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )النوار( رضی اللہ عنہا)

النوار دختر قیس بن حارث بن عدی،ابن حبیب کے مطابق نوار دخترقیس بن لوذان بن عدی بن مجدعہ ہے،لیکن ابن حبیب اور عددی دونوں ان کی بیعت کے قائل ہی۔ غسانی نےابوعمر پر استدراک کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)الصبعتہ(رضی اللہ عنہا)

الصبعتہ دخترحضرمی،بقول جعابی حضری کا نام عبداللہ بن عمار بن ربیعہ تھا،یہ خاتون علاء بن حضرمی کی ہمشیرہ اور طلحہ بن عبیداللہ کی والدہ تھیں،جعفر نے ان کا ذکر اس حدیث میں جو عبداللہ بن رافع نے اپنے والد سے روایت کی،کیاہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ صبعہ دختر حضرمی گھر سے نکلیں،اور میں نے انہیں اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ کو یہ کہتے سنا،کہ عثمان بن عفان کا محاصرہ سخت ہوگیا ہے،کیا اچھا ہو،اگر تو اس معاملے میں مصالحت کے لئے گفتگو کرے،تاکہ یہ مصیبت ان سے ٹل جائے۔ بلاذری نے واقدی سے روایت کی،کہ یہ خاتون حضورِاکرم کے عہد میں فوت ہوئیں،اور مجھ آل طلحہ کے کسی آدمی نے بتایا ،کہ وہ اسلام لائیں اور یہ قول اس شخص کے قول سے زیادہ مشتبہ ہے،جس نے کہاتھا،کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت تک زندہ رہیں،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )علاثہ(رضی اللہ عنہا)

علاثہ جعفر مستغفری نے خلیل بن احمد سے، انہوں نےمحمد بن اسحاق سے ،انہوں نے قتیبہ سے، انہوں نے قتیبہ سے،انہوں نے یعقوب بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ابوحازم بن دینار سے روایت کی،کہ کچھ لوگ سہل بن سعد کے پاس آئے،اور دریافت کیا کہ حضورِ اکرم کا منبر کس لکڑی کا بناہواہے،انہوں نے جواب دیا،مجھے نہیں معلوم کہ کس لکڑی کا ہے البتہ مجھے اس کا علم ہے،کہ جس دن منبر مسجد میں رکھاگیا،اور آپ اس پر بیٹھے،حضورِاکرم نے ایک خاتون علاثہ کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ اپنے غلام کو جو نجار تھا،بھیجے،تاکہ میرے لئے ایک منبر بنادے،تاکہ میں لوگوں سے خطاب کرتے وقت اس پر بیٹھ سکوں۔ جعفر نے اس خاتون کا ترجمہ حرف عین کے تحت لکھاہے،اور اسے خوداس نے یا اس کے شیخ خلیل نے ان نام کے لکھنے میں گڑبڑکردی،کیونکہ یہ بڑامشکل ہے کہ ابن اسحاق کو یا ان لوگوں کو جوان سے اوپر ہیں،اس خاتون کانام بھول گئے ہیں،راوی نے یہ۔۔۔

مزید