عقرب دختر سلامہ بن وقش بن زغیہ بن زعوراء بن عبدالاشہل انصاریہ اشہلیہ،بقولِ ابنِ حبیب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت سے مشرف ہوئیں۔ ۔۔۔
مزید
اروی رضی اللہ عنہا،دختر عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف قریشیہ ہاشمیہ،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں،ابو جعفر نے انہیں اور ان کی بہن عاتکہ کو صحابیات میں شمار کیا ہے،ان کے علاوہ اور کوئی بھی اس کا قائل نہیں ابن اسحاق او ر ان کے ہمنوا کہتے ہیں،کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھیوں میں سے سوائے صفیہ اور ایمان لائی تھیں،محمد بن حارث بن تیمی کا قول ہے،کہ جب طلیب بن عمری اسلام لائے،تو اپنی والدہ اروی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا،کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں آپ کیوں اسلام قبول نہیں کرتیں ،حالانکہ آپ کے بھائی حمزہ مسلمان ہو گئے ہیں،ماں نے جواب دیا،میں انتظار کر رہی ہوں،کہ جو کچھ میری بہنیں کریں گی،میں بھی کروں گی،بیٹے نے کہا،امی!میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں، آپ دیکھتی نہیں،کہ میں اسلام لاچکا ہوں اور کلمۂ شہادت۔۔۔
مزید
اروی رضی اللہ عنہا،دختر ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس،بقول جعفر یہ ان عورتوں میں سے تھیں، جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی،جعفر نے باسنادہ زاہر سے ،انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیاہے،اس نسب سے معلوم ہوتا ہے،کہ یہ خاتون حضرت عثمان اور مروان کی پھوپھی تھیں۔ ۔۔۔
مزید
اروی دختر انیس،انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایٔت کی کہ جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئےوُہ وضو کرلے،اسے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ،انہوں نے اروی سے روایت کی،ایک روایت میں ابواروی آیا ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اروی دختر کریز بن عبد شمس،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا نسب یہی لکھاہے،لیکن صحیح یوں ہے، کریز بن ربعیہ بن عبد شمس،یہ خاتون حضرت عثمان کی والدہ تھیں،اور ان کی والدہ ام حکیم بیضادختر عبدالمطلب تھیں ،جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں،ان کی وفات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی۔ یحییٰ بن محمودنے اجازۃً باسناد ہ تا ابوبکر بن ابی عاصم،انہوں نے عبداللہ بن شبیب سے،انہوں نے ابراہیم بن یحییٰ بن ہانی سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں حازم بن حسین سے،انہوں نے عبداللہ بن ابوبکر سے،انہوں نے زہری سے،انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے،انہوں نے ابن عباس سے روایت کی کہ ام عثمان،ام طلحہ،ام عمار بن یاسر،ام عبدالرحمٰن بن عوف،ام ابوبکر صدیق، زبیر اور سعد اور ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لائیں،ایک روایت میں اروی دختر عمیس آیا ہے،ج۔۔۔
مزید
اروی دختر ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب،جو یحییٰ اور واسع پسران حسبان منقذ کی والدہ تھیں، ان کی حدیث عطاف بن خالد نے اپنی والدہ سے،انہوں نے اپنی والدہ اروی سے سنی،عبدالقدوس بن ابراہیم نے عطاف بن خالد سے ،انہوں نے اپنی والدہ سے،اور انہوں نے ان کی والدہ اثیمہ سے،جو عطاف کی دادی اروی تھیں،ابو نعیم کے بقول وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئیں، جب وہ ابھی چھوٹی عمرکی بچی تھیں۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابو عمر نے اپنے ترجمے میں ان کانام اثیمہ مخزومیہ جدّہٗ عطاف بن خالد تحریر کیاہے،اور ان کی نسبت نہیں لکھی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے انہیں ہاشمیہ لکھاہے۔ ۔۔۔
مزید
الصماء دختر بسرمازینہ از بنومازن بن منصور،عبداللہ بن بسرکی بہن تھیں،یہ ابوعمر کا قول ہے،ایک روایت میں صماء دختر بسر ہے،بقول ابو نعیم پہلی روایت درست ہے،ابراہیم بن محمد وغیرہ باسنادہم ابوعیسٰی سلمی سے ،انہوں نے حمید بن مسعدہ سے،انہوں نے سفیان بن حبیب سے ،انہوں نے ثوربن یزید سے انہوں نے خالد بن معدان سے،انہوں نے عبداللہ بن بسر سے،انہوں نے اپنی بہن سے روایت کی،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم نے فرمایا،بیعت کے دن سوائے فرضی روزے کے تم روزہ نہ رکھو،اور اگر تمہیں انگور کی بیل کی چھال یا درخت کی کونپل ملے تو اسے ہی چبالو۔ اس روایت کو فضیل بن فضالہ نے عبداللہ سے اور انہوں نے اپنی خالہ سے روایت کی،اور ابو داؤد سجستانی نے یزید بن قیس سے جو اہل جبلہ سے ہیں،انہوں نے ولید سے،انہوں نے ثور سے ،انہوں نے اپنی ہمشیر ہ صماء سے روایت کی۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،ابو عمر نے بسر بن اب۔۔۔
مزید
اثیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،دختر حارث بن ثعلبہ بن صخر بن حرام انصاریہ،انہیں صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
اثیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،دختر راشد ان کا قصّہ ہم عامربن مرقش کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے مختصراًذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید