اسیرہ انصاریہ،ان سے حمیصہ دختر یاسر نے روایت کی،ابوعمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الشفاء دخترعبداللہ بن عبد شمس بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی قرشیہ عدویہ ام سلیمان بن ابو حثمہ،ایک روایت میں ان کا نام لیل مذکور ہے،قدیم الاسلام ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے بیعت کی،اور ہجرت کی،ان کی والدہ کا نام فاطمہ دختر ابو وہب بن عمرو بن عائد بن عمر بن مخزوم تھا،یہ خاتون عقلمند اور فاضلہ تھیں،اور حضوراکرم ان کے یہاں تشریف لایا کرتے تھے،انہوں نے آپ کے لئے ایک بستر اور چادر رکھی ہوئی تھی،جس میں حضورِ اکرم آرام فرماتے،اور یہ چیزیں ان کے پاس رہیں،تا ٓنکہ مروان نے ان سے لے لیں،اوریہ خاتون چیونٹیوں کے دفعیہ کا منتر جانتی تھیں،حضورِاکرم نے فرمایا کہ وہ منتر جناب حفصہ کو سکھادیں۔ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکاکین کے قریب ایک مکان مرحمت فرمایا تھا،جس میں وہ اپنے بیٹے سلیمان کے ساتھ منتقل ہوگئی تھیں،اور حضرت عمر رضی اللہ۔۔۔
مزید
اسماء دخترابن اشعریہ،انہیں صحبت نصیب ہوئی،جعفر نے اسی طرح اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اسماء دخترالصلت سلمیہ،ان کے متعلق اور ان کے نام کے متعلق اختلاف ہے،احمد بن صالح مصری نے اسماءدختر صلت سلمیہ لکھاہے،جو ازواجِ مطہرات سے تھیں،قتادہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ابنِ اسحاق نے اسماء دختر صلت سلمی لکھاہے،جن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا، اور پھر طلاق دے دی،علی بن عبدالعزیز جرجانی کے بقول ان کا نام اور نسب یوں تھا،سناء دختر صلت بن حبیب بن حارثہ بن ہلال بن حرام بن سماک بن عوف بن امراءالقیس بن بہہ بن سلیم سلمیہ،حضور نے ان سے نکاح کیا،مگر رخصتی سے پہلے ہی وہ فوت ہوگئیں۔ ابوعمر کہتےہیں،کہ سناء کی روایت درست ہے،مگر ان کی علیحدگی کے بارے میں جوکچھ مذکور ہے، وہ اسنادسے ثابت نہیں،ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اسماء دختر حارث،جو خطاب مخزومی کی بیوی تھیں،زیاد بن عبداللہ نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ قبولِ اسلام بہ موقعہ فتح مکہ خطاب مخزومی اور ان کی بیوی اسمأ دخترِ حارث کا نام لیا ہے،ابوموسیٰ نے کتابتہً انہوں نے ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابراہیم بن یوسف سے،انہوں نے زیاد بن عبداللہ بکائی سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی،ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ذکرکیا ۔ ۔۔۔
مزید
اسماءدخترِ محزبتہ التمیمہ،ان کی کنیت ام جلا س تھی،اور یہی ام عیاش بن ابی ربعیہ ہیں،جن کا ذکر پہلے گزر چکاہے،اسماء دختر سلمہ کے ترجمہ میں،اور ان کے بارے میں جو گفتگو بیان ہوئی ہے،وہ قائل کا وہم ہے،ابن مندو اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اسماء،مقینۂ عائشہ،جعفر مستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے،(مقینہ کے معنی مشاطہ کے ہیں ،جو دلہن کا بناؤسنگار کرتی ہے)اور لکھا ہے،بشرطیکہ ان کی روایت کردہ حدیث درست ہو۔ ولید بن مسلم نے اوزاعی سے،انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے،انہوں نے کلاب بن تلاد سے،انہوں نے اسماء سے جو جناب عائشہ کی مشاطہ تھیں،روایت کی ،کہ جب ہم نے جناب عائشہ کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلوت کے لئے بٹھایا،تو جلد ہی رسولِ کریم تشریف لے آئے،اور دودھ اور کھجور ہمیں عطافرمایا،اور کہاکہ کھاؤ اور پیئو،ہم نے عرض کیا،یا رسول اللہ ہم روزے سے ہیں،آپ نے پھر فرمایا،فرمایا،کھاؤ،پیئو اور جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو،ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
اسماءدختر مرشد الحارثیہ جو بنو حارثہ کی بہن تھی،ان کی حدیث دربارۂ استحاضہ ہے،حرام بن عثمان نے عبدالرحمٰن اور محمد پسرانِ جابر،انہوں نے اپنے والد سےروایت کی،کہ اسماء دخترِ مرشد نے حضورِ اکرم صلیّ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گزارش کی ،یا رسول اللہ !مجھے اس دفعہ حیض میں ایسی صورت پیش آئی جو بیشتر ازیں کبھی پیش نہیں آئی تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وضاحت کرو،انہوں نے کہا،طہر کے تین یا چار دن ہی گزرنےپائے تھےکہ پھر حیض جاری ہو گیا، چنانچہ مجھے نماز ترک کرنا پڑی،حضور نے فرمایا،اگر پھر کبھی ایسی صورت پیش آجائے تو تین دن کے بعد غسل طہرکرلو،اور نماز ادا کرو،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ابوعمر کا قول ہے،کہ اسماء کی یہ حدیث درست نہیں،کیونکہ صرف حرام بن عثمان ہی اس کا راوی ہے، جوبالاجماع ضعیف ہے،امام شافعی کا قول ہے،کہ حرا م بن عثمان کی حدیث حرام ہے۔ ۔۔۔
مزید
اسماءدختر نعمان بن جون بن شراحیل،بقولِ ابوعمران کا نام اسماءدختر نعمان بن اسود بن حارث بن شراحیل بن نعمان تھا،ابن الکلبی کے مطابق،اسماء دخترِنعمان بن حارث بن شراحیل بن کندی بن جون بن حجر آکل المراء بن عمرو بن معاویہ بن حارث الاکبر کندبہ تھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نکاح کیا ،تو اس نے آپ سے اظہار بیزاری کیا،جس پر آپ نے اسے علیحدہ کردیا۔ یونس نے ابنِ اسحاق سے روایت کی کہ رسولِ کریم نے کعب جونیہ کی بیٹی اسماء سے نکاح کیا،اور دخول سے پہلےہی اسے طلاق دے دی،ابوعمر لکھتے ہیں،کہ اس پر تو سب کا اتفاق ہے،کہ آپ نے کعب بن جونیہ کی بیٹی سےنکاح کیا،لیکن اس میں اختلاف ہے،کہ علیحدگی کی وجہ کیا تھی،قتادہ لکھتے ہیں کہ آپ نے کعب بن جونیہ کی لڑکی سے نکاح کیا،جب رات کو اس کے کمرے میں داخل ہوئے،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے بُلا کر طلاق دیدی،بعض کا خیال ہے،کہ اس۔۔۔
مزید
اسماء دختر سلمہ،ایک روایت میں سلامہ بن محزمہ بن جندل بن ابیر بن نہشل بن وارم تمییہ دارمیہ مذکور ہے،بقولِ ابو عمران کی کنیت ام الجلاس تھی،ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ان کانام اسماء دخترِ محزبہ تمییہ لکھا ہے،وہ جلاس اور عیاش کی والدہ تھیں،یہ دونوں ابو ربعیہ کے بیٹے تھے،ان سے عبداللہ بن عیاش اور ربیع دخترِ معوذ نے روایت کی،اور ابن مندہ اور ابو نعیم نے عبداللہ بن حارث کی وہ حدیث روایت کی،جو انہوں نے عبداللہ بن عیاش بن ابو ربعیہ سے روایت کی،ان سے مروی ہےکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بہ غرض عیادت مریض یا کسی اور مقصد کے لئے ابو ربعیہ کے گھر تشریف لائے،اسماالتیمیہ نے گزارش کی ،یارسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے،آپ نے ارشاد فرمایا،تو اپنی بہن کے لئے وہی کچھ کر،جو تو اپنے لئے چاہتی ہے،اس کے بعد آپ کے پاس عیاش کا ایک بیٹا لایا گیا،جو مریض تھا،جب حضور صلی اللہ علی۔۔۔
مزید