منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

بنوالحریش ہانی بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

بنوالحریش ہانی بن عبداللہ بن شیخرنےبنوالحریش کےایک آدمی سے یعیش بن صدقہ بن علی نے باسنادہ تااحمدبن شعیب،انہوں نے قتیبہ سے،انہوں نے ابوعوانہ سے،انہوں نے ابوبشر،انہوں نے ہانی بن شیخرسے،انہوں نےالحریش سے،انہوں نےاپنے والدسےروایت کی،کہ میں سفرمیں تھا، حضورکی خدمت میں آیا،آپ کھاناکھارہےتھےاورمیں روزے سےتھا،مجھےآپ نے کھانےکی دعوت دی،میں نے گزارش کی،یارسول اللہ میں توروزےسےہوں،فرمایا،آؤ بھی،کیاتمہیں معلوم نہیں،کہ خداوندتعالیٰ نے مسافرکوکتنی رعائتیں دی ہیں،میں نے عرض کیا،یارسول اللہ!وہ کون سی رعایتیں ہیں،فرمایا،روزہ اورآدھی نماز،یہ آدمی ہی عبداللہ بن شیخرہیں،انہوں نے اپنے والدسے روایت کی اورکہا ،"کنت مسافراً "الی آخرہ،ابونعیم نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

بنواسلم رضی اللہ عنہ

بنواسلم،عبداللہ بن احمدخطیب نے ابومحمدسراج سے،انہوں نے ابوالقاسم عبیداللہ بن عمربن احمد بن شاہین سے،انہوں نے ابومحمدبن ماسی بزاز سے،انہوں نے ابوشعیب حرانی سے،انہوں نے علی بن جعدسے،انہوں نے زہیرسے،انہوں نے سہیل بن ابوصالح سے،انہوں نے والدسے،انہوں نے بنواسلم کے ایک آدمی سے روایت کی میں حضورِ اکرم کے پاس تھا،کہ ایک آدمی جسے بچھونے کاٹا، آیا، فرمایا،اگرشام کوتونے یہ کلمات پڑھے ہوتے توتجھے کوئی چیز دکھ نہ دیتی، اَعوذُ بکلامات اللہ التامتہ من شرکل ماخلق، ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

بنوحارثہ اسماعیل بن امیہ رضی اللہ عنہ

بنوحارثہ اسماعیل بن امیہ بنوحارثہ کے ایک شیخ سے،ایک اونٹ ایک کنویں میں گِرپڑااوروہ اسے کسی طرح ذبح نہیں کرسکتے تھے،پس انہوں نے اس کے پہلومیں خنجرمارکر اسے ذبح کردیا،پھرحضور اکرم سے اس کے کھانے کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے اجازت دےدی۔ ابواحمدنے باسنادہ ابوداؤد سے،انہوں نے قتیبہ سے،انہوں نے یعقوب سے،انہوں نےزیدبن اسلم سے،انہوں نے عطاء بن یسارسے،انہوں نےبنوحارثہ کے ایک آدمی سےروایت کی،کہ وہ احد می ایک گھاٹی میں اونٹ کابچہ چرارہاتھا،اسے موت نےآلیا،لیکن اسے ذبح کرنے کے لئےاس کے پاس کچھ نہ تھا،چنانچہ انہوں نے اس کےسینے کوپتھرسےزخمی کردیا،اورخون بہ گیا،پھ وہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئےاورحضورِاکرم کوصورتِ حال سے آگاہ کیا،اورکھانے کی اجازت دے دی۔ ۔۔۔

مزید

ابوادریس عابداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

ابوادریس عابداللہ بن عبداللہ بن عمرو الخولانی،یہ غزوہ حنین کے سال پیداہوئے،کبار تابعین سے ہیں،وہ فضالہ بن عبید کے بعد امیر معاویہ اور یزید کے طرف سے عبدالملک بن مروان کے عہد تک دمشق کے قاضی رہےاور اسی دوران میں وفات پائی،مکحول کہتے تھے،کہ انہوں نے ادریس کی طرح کا کوئی آدمی نہیں دیکھا،انہوں نے عبادہ بن صامت،شداد بن اوس،ابوالدرداءاور عبداللہ بن مسعود سے سماع کیا،معاذ سے ان کے سماع کے بارے میں اختلاف ہے،ابوعمر نے ان کاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوامامہ اسعد بن زرارہ انصاری رضی اللہ عنہ

ابوامامہ اسعد بن زرارہ انصاری خزرجی بعدہٗ از بنومالک نجار،عقبۂ اول و دوم میں موجود تھے اور انصار کے نقیب تھے،بہ قول واقدی یہ پہلے آدمی ہیں،جو ذکوان بن عبد قیس کے ساتھ بعدازقبولِ اسلام مدینے میں واپس آئے اور بعد از ہجرت انہوں نے بدر سے پہلے نویں مہینے ماہ شوال میں وفات پائی، ایک روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پیشتر وفات پا گئے تھے، لیکن پہلی روایت اصح ہے،ہم اسعد کے ترجمے میں ان کا ذکر زیادہ تفصیل سے لکھ آئے ہیں،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابواسرائیل انصاری رضی اللہ عنہ

ابواسرائیل انصاری،مدنی ہیں،اور انہیں صحبت حاصل ہوئی،عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سےبیان کیا کہ میرے والد نے عبدالرزاق سے،انہوں نے ابن جریج سے،انہوں نے ابنِ طاؤس سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابواسرائیل سے بیان کیا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ،اور میں نماز پڑھ رہاتھا،صحابہ نے حضوراکرم کو بتایا، یارسول اللہ،یہ وہ شخص ہے جو نہ بیٹھتا ہے،نہ لوگوں سے باتیں کرتا ہےاور نہ سائے میں کھڑاہوتا ہے،اور روزہ رکھتا ہے،حضورِاکرم نے فرمایا،اسے کہوکہ بیٹھے،باتیں کرے سائے میں آرام کرے اور روزے رکھے،تینوں نے اس کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالجعدغطفانی اشجعی رضی اللہ عنہ

ابوجعد غطفانی اشجعی از بنواشجع بن ریث بن غطفان،وہ سالم بن ابوجعد کے والد ہیں،ان کا نا م رافع تھا، اوراشجع کوفی کے مولیٰ تھے،انہیں حضورِاکرم کے صحبت نصیب ہوئی،بغوی نے ان کا ذکر کیا ہے، بقول ابوعمر ان کی وہ حدیث جو انہوں نے حضرت علی اور ابن مسعود سے روایت کی،احترام سے سنی گئی،ان کے بیٹے سالم نے ان سے روایت کی،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،نیکی پرانی نہیں ہوتی،جرم کو نہیں بھلایاجاتا،اور گناہ فنانہیں ہوتا،ابونعیم ،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالجعدبن جنادہ رضی اللہ عنہ

ابوجعد بن جنادہ بن ضمرۃ الضمری از بنوضمرہ بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ الکنانی الضمری ایک روایت میں ان کا نام اورع ہے،ایک میں جنادہ اور ایک میں عمرو بن بکر،یہ ابوعمرکاقول ہے،انہیں صحبت میسر آئی،اور مدینہ میں بنوضمرہ کے محلے میں ان کاگھر تھا،ان سے عبیدہ بن سفیان حضرمی نے روایت کی،کئی راویوں نے باسنادہم ابوعیسیٰ ترمذی سے،انہوں نے علی بن خشرم سے،انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے،انہوں نے محمد بن عمرو سے،انہوں نے عبیدہ بن سفیان سے،انہوں نے ابوجعدضمری سے روایت کی کہ( یہ زعمِ محمد بن عمرو انہیں حضور اکرم کی صحبت حاصل ہوئی)حضور اکرم نے فرمایا،جس شخص نے بوجہ کاہلی تین جمعے قضاکردئیے،اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتا ہے،تینوں نے ان کا ذکر کیاہے،امام بخاری ان کے نام سے ناواقف ہیں اور ان سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالجدعاء رضی اللہ عنہ

ابوالجدعاء،ابوبکر بن علی نے ان کاذکر کیاہے،خالد الخدار نے عبداللہ بن شفیق سے،انہوں نے ابوالجدعاء سے روایت کی،کہ انہوں نے ایک محفل میں کہ جس میں وہ چوتھے آدمی تھے،بیان کیا ، کہ انہوں نے حضورِاکرم کو فرماتے سُنا ،کہ میری امت میں ایک آدمی کی شفاعت سے بنوتمیم کے کئی آدمی بہشت میں جگہ پالیں گے ہم نے گزارش کی،آپ کے سوایارسول اللہ!حضور اکرم نے فرمایا، ہاں،ابوموسیٰ نے اسی طریقے سے اس کا ذکر کیا ہے،لیکن ان کا نام عبداللہ بن ابوالجدعاء مشہور ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالجعدافلح رضی اللہ عنہ

ابوالجعدافلح جو ابوالقعیس کے(جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے)بھائی تھے، حضورِ اکرم نے ام المومنین کو حکم دیا،کہ اپنے رضاعی چچاکو اپنے پاس آنے کی اجازت دے،یعیش بن علی بن صدمہ نے باسنادہ ابوعبدالرحمٰن نسائی سے،انہوں نے اسحاق بن ابراہیم سے،انہوں نے عبدالرزاق سے،انہوں نے ابنِ جریج سے،انہوں نے عطا سے،انہوں نے عروہ سے،انہوں نے جناب عائشہ سے روایت کی کہ میرا رضاعی چچا ابوالجعد ملاقات کرنے آئے،جب حضورِ اکرم تشریف لائے تو ام المومنین نے آپ سے ذکر کیا ،ٓپ نے فرمایا انہیں ملاقات کی اجازت دیدو، ابونعیم،ابوعمر ،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید