ابو تمام ثقفی،ابوموسیٰ نے کتابتہً حسن بن احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے (یعنی معجم الاوسط میں) انہوں نے احمد بن خلید سے،انہوں نے عبداللہ بن جعفرالرقی سے،انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے،انہوں نے زید بن انیسہ سے،انہوں نے ابوبکر بن حفص سے،انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ بنو ثقیف کے ایک آدمی نے جس کا نام ابوتمام تھا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شراب کی ایک ٹھلیا بطور ہدیے کے پیش کی،آپ نے فرمایا،ابوتمام شراب تو حرام ہو چکی ہے،اس نے عرض کیا،اس کی قیمت خرچ فرمادیجئیے،آپ نے فرمایا،جس نے اس کا پیناحرام کردیا ہے اس کی قیمت بھی حرام کردی، ابوموسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوتمیم الجیثانی،ابن لہیعہ نے ابوہبیرہ سے،انہوں نے ابو تمیم الجیثانی سے روایت کی،کہ جب معاذ بن جبل یمن آئے،تو انہوں نے ان سے قرآن پڑھا،دولابی نے انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوتمیمہ الہجیمی،ابونعیم نے انہیں نسبت سے لکھا ہے،مگر ابنِ مندہ اور ابوعمر نے نسبت کا ذکر نہیں کیا، ایک روایت میں ان کا نا م ظریف آیا ہے۔ ابواسحاق السبیعی نے ان سے روایت کی کہ انہوں نے آپ سے دریافت کیا،کہ آپ کس کی دعوت دیتے ہیں،فرمایا،میں تجھے اس خدا کی طرف بُلاتاہوں،کہ اگر تجھے دُکھ پہنچے اور تواسے بلائے،تواسے دُور کردیتا ہے اگرتیری زمین بنجر بن جائے،تو اسے بلائے،تو کھیتی اُگ آتی ہے،اوراگر صحرا میں تیری اُونٹنی گم ہوجائے،تواسے بلائے،تواُونٹنی واپس آجاتی ہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابوعمر انہیں صحابہ میں نہیں شمار کرتے۔ ابوعمر نے باسنادہ بکر بن عبداللہ مزنی سے روایت کی کہ لوگوں نے ابوتمیمہ سے پوچھا،کہئیے،آپ کا کیا حال ہے،انہوں نے کہا،اللہ کی دونعمتوں سے بہرہ ور ہوں،مستورگناہ اور لوگوں کی تعریف، ابوعمرکا قول ہے،کہ ی۔۔۔
مزید
ابوطریف ہذلی،ان کا نام سیار بن سلمہ یا ابن نبیشہ الخیراورکنیت ابوطریف تھی،ابوحاتم انہیں ان لوگوں میں شمارکرتے ہیں،جن میں نام معلوم نہیں ہوسکا،جب حضوراکرم نے طائف کا محاصرہ کیا،یہ وہاں موجودتھے۔ یحییٰ بن ابوالرجاء نے اجازۃً باسنادہ تا ابن ابوعاصم،ابوبشربن طریف سے،انہوں نے ازہر بن قاسم سے،انہوں نے زکریا بن اسحاق سے،انہوں نے ولید بن عبداللہ بن ابوسمیرہ سے،انہوں نے ابوطریف سے روایت کی،کہ وہ محاصرۂ طائف میں حضورِاکرم کے ساتھ تھے،آپ نے ہمیں نماز مغرب ایسے وقت میں پڑھائی،کہ اگر کوئی شخص ہم پر تیراندازی کرتا،تووہ بآسانی ہدف دیکھ پاتا، تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوطرفہ کندی،جعفر نے ان کا ذکرکیاہے،مگران کی صحبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،بقیہ نے ولید بن کامل سے انہوں نے ابوطرفہ سے روایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس کی صحبت مرض پر غالب ہو،وہ دوااستعمال نہ کرے،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواُبی ابن ام حرام،عبادہ بن صامت کے ربیب تھے اور نام عبداللہ یا عبداللہ بن ابی عبداللہ بن کعب یاعبداللہ بن عمروبن قیس بن زید بن سواد بن مالک بن غنم بن نجار تھا،ان کی والدہ ام حرام،ملجان کی بیٹی اورام سلیم کی بہن تھیں،وہ انس بن مالک کی خالہ کے بیٹے تھے،قدیم الاسلام تھے،اور دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی،شامی تھےان سے ابراہیم بن ابی عیلہ نے روایت کی کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا،کہ سَناء اور شہد کا استعمال کرو،کہ ان میں سوائے موت کے ہر مرض کاعلاج ہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبیدہ بن مسعود بن عمروبن عمیربن عوف بن عقدہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف الثقفی، جو مختار بن ابی عبیدکے اورصفیہ زوجہ عبداللہ بن عمرکے والدتھے،حضورِاکرم کے عہدمبارک میں ایمان لائے بعد میں حضرت عمرنے انہیں ۱۳سال ہجری میں بھرتی کرلیا،اورایک بڑالشکردے کر جس میں بدریوں کی کافی تعداد شامل تھی،عراق کوروانہ کیا،اورجسرابوعبیدہ کا واقعہ ان ہی کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ اس واقعہ کے امیرلشکرتھے،اورجسرکے مقام پر جو حیرہ اورقادسیہ کے درمیان واقع ہے، لڑتے ہوئے شہیدہوگئے تھے،اس واقعہ کو یوم قس الناطف اوریوم المروحہ بھی کہتے ہیں، ایرانیوں کاامیرلشکر مروان شاہ بہمن تھا،ایرانیوں کا لشکرکثیرالتعدادتھا،اورابوعبیدنے ایرانیوں کے ململہ نامی ہاتھی پر جورسالے کے ساتھ تھا،حملہ کیاتھا،ابوعبیدایک بڑی تعدادکے ساتھ جواٹھارہ سو افراد پر مشتمل تھی،جوقتل ہوگئے تھے،ایک اور ۔۔۔
مزید
ابوعبید،رفاعہ بن رافع الزرفی کے مولیٰ تھے،صحابہ میں شمارہوتے ہیں،مگر بے دلیل عبداللہ بن اسود نے ابومعقل سے،انہوں نے ابوعبیدسے ابوعبید سے روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،جواللہ کے نام پر سوال کرے،وہ ملعون ہے،اورجوایسے سائل کونہ دے وہ بھی ملعون ہے،ابن مندہ اورابونعیم نے ذکرکیاہے،فرق یہ ہے کہ ابن مندہ نے ابومعقل سے روایت کی ہےاورابوعبیدکاذکرنہیں کیا۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبیدزرقی،ان کی حدیث کا ذریعہ ان کے بیٹے ہیں،ان کی حدیث کو عبدریہ بن عطأ اللہ نے روایت کیا،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبید،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام تھے،اورآپ کا کھاناپکاتے تھے،ان سے ایک حدیث مروی ہے،ابویاسر نے باسنادہ عبدللہ بن احمدبن حنبل سے روایت کی،انہوں نے عثمان سے انہوں ابان العطارسے،انہوں نے قتادہ سے،انہوں نے قتادہ سے،انہوں نے شہر بن جوشب سے،انہوں نے ابوعبید سےروایت کی کہ انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ وسلم کے لئے گوشت پکایا، حضورِ اکرم نے فرمایا،اس کا بازومجھے دو،میں نے تعمیل کی،آپ نے پھر اپنی بات دہرائی،میں نے دوسرا بازو پیش کیا،آپ نے تیسری دفعہ پھربازوطلب فرمایا،میں نے عرض کیا،یارسول اللہ بکری کے کتنے بازوہوتے ہیں،فرمایا،بخدا اگرتم خاموش رہتے،توتم اس وقت تک ہنڈیا سے نکال کردیتے رہتے،جب تک میں طلب کرتا رہتا،تینوں نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید