ابواحمد بن حجش،ابن معین نے ان کا نام عبداللہ بن حجش لکھاہے،جو غلط ہے،ہاں ان کے بھائی کا نام عبداللہ ہے،ہم ان کا نسب ان کے اور ان کے بھائی کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،وہ بنواسد خزیمہ سے اسدی ہیں،اور بنوعبدشمس کے حلیف۔ ابواحمد شاعر تھےاور سابقون الاولون سے تھے،عبداللہ بن احمد نے یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سےدربارۂ مہاجرینِ مدینہ بیان کیا،کہ ابوسلمہ کے بعد سب سے پہلے مہاجرین میں سے جس نے ہجرت کی،وہ عامر بن ربیعہ تھے،اور عبداللہ بن حجش اپنے اہل وعیال اوراپنے بھائی ابواحمدعبد حجش سمیت ہجرت کرآئے تھے۔ ابواحمد نابینا تھے،اور مکے کے نشیب و فراز میں بغیر کسی ساتھی کے گھومتے پھرتے رہتے،اور ابوسفیان کی بیٹی فارعہ ان کے نکاح میں تھی،یہ لوگ اپنے مکی مکانات خالی کرگئے تھے،ایک دن عتبہ بن ربیعہ،عباس بن عبدالمطلب اور ابوجہل بن ہ۔۔۔
مزید
ابوعیب،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے،صحبت اورروایت سے فیضیاب ہوئے،ان سے ابونصیرہ اورحازم بن قاسم نے دوحدیثیں روایت کیں،ایک یہ ہے کہ جبریل میرے پاس بخار اورطاعون لے کر آئے،بخار تو میں نے مدینے کے لئے رکھ لیا،اورطاعون شام کو بھیج دیا،طاعون میری امت کیلئے باعثِ شہادت ہے،ان سے مسلم بن عبدللہ ابونصیرہ نے روایت کی۔ دوسری حدیث بھی ابونصیرہ نے ان ہی سے روایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو گھرسے نکلے،میں ساتھ ہولیا،راہ میں ابوبکرسے اورپھرعمرسے ملاقات ہوگئی،انہیں بھی ساتھ لے لیا، پھرایک انصار کے گھرکے پاس سے گزرے،صاحبِ خانہ سے فرمایا،کہ ہمیں تازہ کھجور کھلاؤ،وہ کھجورکا خوشہ لے آئے،سب نے کھجورکھائی،اورپھرپانی پیا،اس کے بعدآپ نے فرمایا،یہی وہ نعمتیں ہیں، جن کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ یہ حدیث ہیثم بن۔۔۔
مزید
ابوعائشہ،ابن ابی عاصم اور حسن بن سفیان نے انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے،ابوموسیٰ نے اذناً حسن بن احمد سے ،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے ابوعمرو بن حمدان سے،انہوں نے حسن بن سفیان سے،انہوں نے اسحاق بن بہلول بن حسان سے،انہوں نے ابوداؤد حضری سے ،انہوں نے بدربن عثمان سے،انہوں نے عبداللہ بن مروان سے،انہوں نے ابوعائشہ (جوایک راست گوآدمی تھے)روایت کی،کہ ایک صبح کو حضوراکرم ہمارے یہاں تشریف لائے ،فرمایا،گزشتہ رات کو میں خواب میں دیکھا،کہ آسمانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں اوراوزان وہی ہیں،جوتم دنیا میں استعمال کرتے ہو،میں نے ایک پلڑے میں وہ اوزان رکھے،اوردوسرے میں اپنی امت کو،امت کا پلڑابھاری نکلا،پھر میں نے اوزان اتارکرباری باری ابوبکر،عمراورعثمان کو رکھا،توان کا وزن زیادہ نکلا، اس کے بعد میں جاگ اٹھا،اس حدیث کو شریک نے اشعث سے،انہوں نے اس۔۔۔
مزید
ابواخزم بن عتیک بن نعمان بن عمرو بن عتیک بن عمروبن مبذول بن مالک بج نجار،ان کے بھائی کا نام سہل تھا،وہ بیعت عقبہ میں موجودتھے،اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،اور معرکۂ حسر(جس میں ابوعبید ثقفی مارے گئے)میں بھی شریک تھے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالسبع زرقی انصاری،انہیں صحبت نصیب ہوئی،اورغزوۂ احد میں شہید ہوئے،ان کانام ذکوان بن عبدقیس تھا،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شہدائے غزوۂ احد ازبنوزریق بن عامر،ذکوان بن عبد قیس کا نام لیا ہے،اورہم ذکوان کے ترجمے میں اس کا ذکر کر آئے ہیں،ابوعمر نے انکا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزہیرانماری یا تمیمی،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کے بارے میں حدیث نقل کی ہے،آپ نے فرمایا،جب تم کوئی دعاکرو،تواس کے آخر میں آمین ضرور کہو،کیونکہ اس کی مثال ایسی ہے،جیسی کتاب یا خط پر مہر،مگراس حدیث کا اسناد درست نہیں۔ ضمضم بن زرعہ نے شریح بن عبید الحضرمی سے،انہوں نے ابوزہیر نمیری سے(انہیں صحبت نصیب ہوئی)روایت کی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ تم ٹڈی دل کو ہلاک مت کرو،کیونکہ یہ خدائی لشکر ہے، ایک روایت میں ان کا نام فلاں بن شرحبیل مذکورہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزہیر بن اسید بن جعونہ بن حارث بن نمیر بن عامر بن صعصعہ نمیری قرہ بن دعموص کے ساتھ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،ان کا شمار اعراب بصرہ میں ہوتاتھا،عائد بن ربیعہ نے قرہ بن دعموص نمیر ی سے روایت کی کہ قرہ اور قیس بن عاصم بن اسید،ابوزہیر بن اسید اور یزید بن عمروحضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی،یارسول اللہ ،آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں،فرمایا،نمازقائم کرو،زکوٰۃ ادا کرو،رمضان کے روزے رکھو،کیونکہ اس مہینے میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالزہراءبلوی،صحابی تھے،فتح مصر میں موجودتھے،بقول، یونس ان سے کوئی روایت مروی نہیں۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواہاب بن عزیز بن قیس بن سدیدبن ربیعہ بن زید بن عبداللہ بن دارم التمیمی الدارمی،یہ خلیفہ کا قول ہے اور ام اہاب فاختہ دختر عامر بن نوفل بن عبدمناف بن قصیٰ ہے،یہ بنونوفل کے حلیف تھے، انہوں نے حضورِ اکرم سے روایت کی،کہ آپ نے تکیہ لگاکر کھاناکھانے سے منع فرمایا،یہ جعفر کا قول ہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوانس انصاری مدنی،ان سے ان کے بیٹے حمزہ نے روایت کی،ابراہیم بن ابی یحییٰ نے مالک بن حمزہ بن ابی انس سے،اس نے باپ سے،اس نے دادا سے روایت کی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،جب دشمن قریب آجائے تواس پر تیر برساؤ،اورجب تک وہ تم پر ہلہ نہ بول دیں،تلواروں کو نیام سے نہ نکالو، الیاس نے حمزہ بن ابی اسید سے،انہوں نے اپنے والد سے یہ روایت کی،کہ ہمیں کثیر التعداد آدمیوں نے جن میں مسمار بن عمر بن عویس اور محمد بن سرایا بن علی الفقیہہ شامل ہیں،باسنادہم محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ جعفی سے،انہوں نے ابواحمد سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن غسیل سے،انہوں نے حمزہ بن ابی اسید سے،انہوں نے ابواسید سے روایت کی ،کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں غزوۂ بدر میں ہدایت فرمائی،کہ دشمن قریب آجائے تو ان پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کردینایہ صحیح بخاری کی ۔۔۔
مزید