جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مریم بنت عثمان غنی

حضرت مریم بنت عثمان غنی ان کی والدہ ام عمرو بنت جندب تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت ام البنین بن عثمان غنی

حضرت ام البنین بن عثمان غنی  ان کی والدہ ام ولد تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت مریم بنت عثمان

حضرت مریم بنت عثمان  ان کی والدہ نائلہ بنت فرافصہ تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت ام سعید بن عثمان غنی

حضرت ام سعید بن عثمان غنی ان کی والدہ فاطمہ بنت ولید بن عبد شمس بن مغیرہ مخزومیہ تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حافظ دوست محمد للہی

حضرت مولانا حافظ دوست محمد للہی رحمۃ اللہ علیہ           حضرت مولانا حافظ دوست محد ابن حضرت خواجہ غلام للہی  (قدس سرہمائ) ۱۲۶۶ھ/۵۰۔ ۱۸۴۹ء میں للہ شرف ( ضلع جہلم ) میں پیدا ہوئے ۔ ابھی آپ شیر خوار ہی تھے کہ عارف یگانہ حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری قدس سرہ نے آپ کو ایک مکتوب میں تحریر فرمایا : ’’مولوی حافظ دوست محمد کو دعا‘‘           اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ حافظ بھی ہوئے اور مولوی بھی ۔ تکمیل علوم کے بعد تین سال تک والد ماجد سے کسب سلوک کیا اور سلسلۂ مجددیہ کے مقامات کی تکمیل کر کے سر ہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے ایماء سے خلافت و اجازت سے مشف ہوئے ۔           والد ماجدحضرت خواجہ غلام نبی لل۔۔۔

مزید

حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ

حضرت سعید بن عثمان غنی ان کی والدہ  فاطمہ بنت ولید مخزومیہ  تھیں، امیر معاویہ بن ابی سفیان ﷜ کے دور خلافت میں 56ھ میں خراسان کے گورنر مقرر ہوئے۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت ابان بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ

حضرت ابان ان کی والدہ ام عمرو بنت جندب تھیں۔ یہ فقہ میں امام تھے ان کی کنیت ابو سعید تھی ، عبد الملک بن مروان کے عہد خلافت میں سات سال تک مدینہ کے گورنر رہے ۔ اپنی والدہ اور زید بن چابت ﷜ سے احادیث سنیں  ، ان کی مرویات بہت تھوڑی ہیں۔ان کی مرویات میں سے یہ حدیث  ہے جسے انہوں نے اپنے والد عثمان ﷜ سے روایت کیا ہے۔ ’’جس نے صبح وشام یہ دعا پڑھی (بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء  وھو السمیع العلیم) اس دن یا اس رات اس کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی‘‘ جب ابان پر فالج کا حملہ ہوا تو انہوں نے نے فرمایا : واللہ میں اس ذکر کو پڑھنا  بھول گیا تاکہ اللہ کی قضاء پوری ہو جائے۔ اپنے دور کے فقہائے مدینہ  میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی وفات 105 ھ میں ہوئی ہے۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت عبد الملک بن عثمان غنی

حضرت عبد الملک بن عثمان غنی ان کی والدہ ام البنین بنت عتبہ  بن حصن تھیں، اور بچپن ہی میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ (نائلہ بنت فرافصہ کے بطن سے آپ کے ایک بیٹے عنبسہ کی ولادت بیان کی گئی ہے۔) (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت عمر بن عثمان غنی

حضرت عمر بن عثمان غنی ان کی والدہ ام عمرو بنت جندب تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید

حضرت ولید بن عثمان غنی

حضرت ولید بن عثمان غنی ان کی والدہ فاطمہ بنت ولید بن عبد شمس بن مغیرہ  مخزومیہ تھیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان شخصیت اور کارنامے)۔۔۔

مزید