مخدوم نوح بھکر ی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ پاکستان میں سلسلہ سہروردیہ کے سب سے پہلے بزرگ ہیں جو یہاں تشریف لائے اور بھکر میں مقیم ہوئے۔تحفتہ الکرام ،میں لکھا ہے،شیخ نوح بھکر ی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ از جلہ اولیاء سندھ واکمل مرید ان شیخ شہاب الدین سہروردیہ ہست، جب شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ ملتانی اپنے پیرو مرشد شیخ الشیو خ شہاب الدین ابو الفضل عمر سہروردی رحمتہ اللہ علیہبغداد شریف سے رخصت ہونے لگے تو آپ کے پیرو مرشد نے فرمایا کہ،سندھ کے ایک شہر بھکر میں ہمارے ایک مرید نوح سہروردی رحمتہ اللہ علیہ ہیں ان سے جاتے ہی ملیں کیونکہ وہ چراغ بتی اور تیل لے کرآئے تھے اور انہیں صرف روشن کرنے کی ضرورت تھی،چنا نچہ اس فرمان کی تعمیل میں حضرت زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ بھکر تشریف لائے تو شیخ موصوف کا انتقال ہو چکا تھا م۔۔۔
مزید
شیخ نعمت اللہ الملقب حاجی دیوان سہروردی رحمتہ اللہ علیہ مفتی غلام سرور لا ہور ی نے آپ کے متعلق بعنو ان حضرت حاجی دیوان سہروردی اس طرح تحریر فرمایا ہے کہ آپ قوم ڈو گر سے تھے،نام اسمٰعیل المعروف شاہ نعمت اللہ الملقب بہ حاجی دیوان تھے،آپ مخدوم شیخ نوح سندھی ہالائی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے جو سلسلہ سہروردیہ کے اکابر مشائخ تھے۔ عرصہ تین سو سال گز را ہے کہ حاجی دیوان صاحب ساکن موضع لاؤ دانہ ضلع لاہور میں مقیم ہیں لہذا ثابت ہواکہ حاجی دیوان صاحب لاہوری الا صل تھے بعد میں خانقاہ ڈوگر اں میں آکر آباد ہوئے، فقیر خدا پرست اس جگہ پر بیٹھ کر خدا کی عبادت میں مشغول ہوئے، اس وقت مسمی مسور قوم ڈوگراس مقام پر بطور خانہ بد وشوں کے رہتا تھا وہ حضرت کا مرید ہوا اور چاروں طرف سے لوگ ان کی کرامت کا شہرہ سن کر ان کے مرید ہونے لگے اور بڑا اجتماع مرید۔۔۔
مزید
شیخ الاولیاء اوہیہ چوہان سہروردی رحمتہ اللہ علیہ مصنف ،تذکرہ قطیبہ ،رقمطراز ہےکہ حضرت شاہ عبد الجلیل سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ آپ کو مئومبارک سے لاہور لائے تھے اور پھر خلافت سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں عطا کرکے قصور میں بھیجا تھا، یہ واقعہ ۱۴۷۵ءکے لگ بھگ کا ہے۔ قصور میں آپ کی اولاد موجود ہے،آپ لاہور میں اپنے پیرو مرشد کی خدمت میں کافی عرصہ رہ کر قصور گئے تھے، آپ نہایت خدا رسیدہ اور بزرگ ہستی تھے۔ شیخ جمال الدین ابوبکر ،تذکرہ قطبیہ ،میں لکھتے ہیں، شیخ الاولیا ء شیخ اوہیہ رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ روبہ ملک پنجاب نمود در شہر لہا نو ر بخدمت شیخ غطمہ اللہ تعالیٰ مشرف گشتند،آخر الا مربندگی قطب العالم عظم اللہ تعالیٰ شیخ اوہیہ خلافت دادہ در قصبہ قصور کہ در جوار شہر لہا نور است سکونت فر مودند و رخصت نمود از نکہ ۔۔۔
مزید
شیخ برہان سہروردی رحمتہ اللہ علیہ ابتدائی زندگی میں آپ ہند وؤں کے بہت بڑے گرو تھے، پیر فرح بخش نے آپ کا نام اچی پال لکھا ہے، اس جوگی کا کام پہا ڑوں میں ریاضت کرنا تھا، سلطان بہلو ل لودھی نے جب اپنی فوج پہا ڑی باغیوں کی سر کوبی کےلیئے بھیجی تو ہند و فوج نے محصور ہوکر اسلامی سپہ سالار کو پیغام بھیجا کہ اگر ہمارے گرو کا مقابلہ کوئی مسلمان ولی کرے اور جیت جائے تو نہ صرف ہم قلعہ کا قبضہ دے دیں گے بلکہ اسلام قبول کرلیں گے، سب نے شیخ کا کو چشتی لاہور رحمتہ اللہ علیہ کا نام لیا مگر چونکہ آپ ضعیف العمر تھے ،اس لئیے آپ نے حضرت شاہ عبد الجلیل سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا نام تجویز کیا، اگلے دن لاہور میں بادشاہ نے مجلس آراستہ کی جس میں اس جوگی کو شکت فاش ہوئی اور اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ بیعت: &۔۔۔
مزید
شیخ فیض اللہ المشہو رہدی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت قطب العالم رحمتہ اللہ علیہ کے بھائی تھے۔آپ کو بھی انہوں نے خرقہ خلافت عطا کرکے قصبہ چوہنی میں اقامت اختیا ر کرنے کو فرمایا تھا چنا نچہ آپ ان کے فرمان کے مطابق وہاں تشریف لےگئے اور ساری عمر رشد و ہدایت کی تلقین میں مصروف رہے۔ (لاہور کے اولیائے سہروردیہ)۔۔۔
مزید
ملک مردانہ کھو کھر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کافی کوشش کے باوجود آپ کی ابتدائی زندگی کے حالات دستیاب نہیں ہو سکے اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ آپ کب لاہور تشریف لائے اور کب واپس چلے گئے، نیز وفات کس سن میں واقع ہوئی لیکن آپ کا لاہور آکر حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر بیعت کرنا ثابت ہو چکا ہے۔ بیعت: غلام دستگیر نامی نے اپنے مضمون، لاہور کے ایک اولین سہر وردی بزرگ ،جو روزنامہ امر وز چھ مئی ۱۹۵۶ء میں چھپا تھا لکھا ہے کہ آپ نے حضرت قطب عالم شیخ عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور آپ کو خرقہ خلافت ملا تھا، جب آپ کے پیر و مرشد نے لاہور میں مسجد بنو انی شروع کی تو ملک مردانہ نے اس مسجد کی تعمیر میں ایک مز دور کی حثییت سے مفت کا م کیا تھا اور نہایت۔۔۔
مزید
شیخ یونس سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت قطب عالم عبد الجلیل سہر وردی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے،تذکرہ قطبیہ میں آپ کا ذکر جگہ جگہ ملتا ہے۔حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تبلیغ و ارشاد کےلیئے مختلف مقامات پر جاتے رہے اور سانگلہ میں آپ کے ساتھ مقیم رہے، پیر فرخ بخش،اذکار قلندر ی ،میں لکھتے ہیں۔ شیخ المشائخ حضرت شیخ یونس عرف کیسرہ مدت بسیا ر لیل و نہا ر در خدمت قبلہ پیرو مرشد خویش ریاضت ہا کشیدہ و خرقہ فقر حاصل کردہ قبر ش در موضع بنچ بر کنار قدیم دریائے راوی مشہو رو معروف و زیارت گاہ مردمان آں نواح است۔ تذکرہ تطبیہ میں حضرت جمال الدین ابوبکر رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ شیخ المشا ئخ حضرت یونس کبیر نے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رجوع کیا کہ اس وقت کس سے بیعت کی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔
مزید
شیخ میٹھ سیاہ پوش سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت عبد الجلیل چوہٹر بندگی رحمتہ اللہ علیہ کے خلفا میں سے تھے،تذکرہ قطبیھ،میں لکھا ہے کہ جب آپ طواف کعبہ کے بعد بغد اد تشریف لائے تو روضہ اقدس حضرت شیخ الشیو خ شہاب الدین سہر وردی پر حاضر ہوئے، وہاں سے حکم ہو اکہ لاہور جائیں، لکھا ہے، کہ حضرت شیخ الشیو خ او را فر مودند در باطن کہ برد شہر لہا نور راہی درپیش شیخ چوہٹربقیہ نصیب خود بگیر۔پس شیخ میٹھ سیاہ پوش رحمتہ اللہ علیہ بہ جانب شہر لہا نور راہی شد چوں بہ حضرت بندگی قطب عالم عظیم اللہ تعالیٰ رمید دست بیعت شد۔ پیر فرخ بخش فرحت اپنی تالیف،اذکار قلندری،میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت میٹھ سیاہ پوش رحمتہ اللہ علیہ مردے عزا بود عرصہ شریعت و طریقت را بقد م ہمت پیمووہ مدتے در جناب بندگی قطب عالم ماند سا نگلہ پہاڑ پر ذکر الہیٰ میں مشغول رہت۔۔۔
مزید
شیخ مولانا نجا ر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت قطب عالم شیخ عبد الجلیل چوہٹر بند گی رحمتہ اللہ علیہ کے خلفا ء میں سے تھے، آپ کے ساتھ لاہور سے باہر تبلیغ و تلقین کےلئیے مختلف مقامات پر جایا کرتے تھے،تذکرہ تطبیہ، میں لکھا ہے کہ حضرت قطب عالم موضع تیڑ ھ میں آپ گھر شادی کی ایک تقریب میں تشریف لے گئے تھے جہاں حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کی وجہ سے رزق کی کشائش ہوگئی تھی،اذکا ر قلند ری،میں پیر فرخ بخش فرحت لکھتے ہیں: مست شراب شوق حضرت مہا عرف نجا ر مردے صاحب دردے مدت ہادر خدمت پیرو مرشد خویش حضرت بندگی قدس سرہ قیام و ر زیدہ و محنت ہا کشیدہ خرقہ فقر حاصل نمو دہ مرقد آں در موضع تیڑ ہ بزرگ مشہو ر است۔ حضرت جمال الدین ابوبکر سہر وردی رحمتہ اللہ علیہ تذکرہ قطبیہ میں لکھتے ہیں،شیخ المشا ئخ مولانا نجار بخدمت آن یگانہ روزگار مرید گشت و درلیل۔۔۔
مزید
شیخ فرید الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت قطب عالم کے چھوٹے بھائی تھے۔ شیخ جمال الدین ابو بکر لکھتے ہیں کہ میں ایک دن شیخ فرید کو سبق یاد نہ کرنے پر زجر د تو بیخ کررہا تھا کہ وہ رونے لگ گیا، اس کے رونے کی آواز سن کر حضرت قطب عالم حجرہ سے باہر تشریف لے آئے اور فرمایا ابو بکر اس فرید کو کیوں تکلیف پہنچا رہے ہو میں نے عرض کیا کہ یہ پڑھتا نہیں آپ نے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو میں نے اللہ تعالیٰ بزرگ و برترسے دعا کی ہے کہ بر ادرم فرید پر فیض کے دورازے کھل جائیں۔ آپ ہر جمعہ کی رات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی نیاز پکا کر درویشو ں کو کھلایا کرتے تھے، جب آپ نے حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کرلیئے تو آپ نے ان کو خلا فت عطا کر کے قصبہ چوہنی کے اطراف میں بھیج دیا جس کی وراثت باد۔۔۔
مزید