آپ لاہور کے عظیم خلفائے چشتیہ میں سے ہیں شیخ سلیم چشتی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ سماع اور وجد میں بے مثال تھے۔ آپ کا لنگر عام و خاص کے لیے کھلا تھا آپ انیس ذوالحجہ ۱۲۲۸ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار لاہور میں ہے۔۔۔۔
مزید
آپ سلسلہ میران بھیکھہ کے خلیفہ اعظم تھے آپ جسے دیکھتے محبت خداوندی کا خوگر بنا دیتے تھے ایک رات سید اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنی گھوڑی پر سوار اپنے گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جا رہے تھے راستہ میں راہزنوں نے آگھیرا۔ آپ کی گھوڑی کا مطالبہ کیا آپ نے بڑے حوصلے سے سمجھایا کہ جس گھوڑی پر میں سوار ہوں نہایت کمزور اور لاغر ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہاں میرے گھر ایک گھوڑی ہے وہ میں دے سکتا ہوں اگر آپ لوگ تھوڑا سا وقت یہاں ٹھہریں تو میں ابھی لا کر دے دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ اپنے گھر آئے اور اچھی گھوڑی لے جاکر راہزنوں کے حوالے کردی راہزن گھوڑی لے کر چل دیے دوسرے دن تمام ڈاکو اپنے اہل و عیال کو ساتھ لیے آپ کے گھر پہنچے توبہ کی آپ کی گھوڑی کے ساتھ نذرانے پیش کر کے معافی کے خواستگار ہوئے۔ آپ ۱۲۲۷ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار رو پڑ میں ہے۔۔۔۔
مزید
آپ جامع کرامات تھے لاہور سے بیس میل کے فاصلہ پر قصبہ شرقیور میں رہتے تھے چونکہ آپ خواجہ تھے ابتدائی زندگی میں عام نو مسلم افراد کی طرح تجارت کرتے تھے۔ غلہ سبزی لے کر فروخت کرتے تھے بعض اوقات گندم اور چنے خرید کر مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ بعض اوقات شرقپور سے غلہ لے کر بیلوں پر لاد کر لاہور لاتے تھے اور اسی کاروبار میں گزر اوقات کرتے تھے ایک بار دوسرے بیوپاریوں کے ساتھ شرقپور سے لاہور آرہے تھے۔ نیاز بیگ کے قدیمی مدرسہ گنبد والا کے نزدیک پہنچے تو آپ کے بیل کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور غلہ زمین پر آگرا آپ نے اپنے ہمرائی تاجروں کو کہا کہ میرا غلہ تھوڑا تھوڑا تقسیم کر کے لاہور لے چلو مگر کسی نے پرواہ نہ کی اور سکھوں کے ڈر سے قافلہ چلتا گیا۔ ان دنوں مغل سلطنت کمزور ہوچکی تھی اور اس علاقہ میں سکھوں کے جتھے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔ شیخ محمد سعید اسی حالت میں بے یار و مددگار رہے اور اس ویرانے میں۔۔۔
مزید
آپ سید علیم اللہ جالندھری قدس سرہ کے مرید خاص اور خلیفہ اکمل تھے دوآبہ جالندھر میں قصبہ راؤں میں رہتے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری زندگی تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ آپ ۱۹؍ ذوالحجہ ۱۲۲۰ھ میں فوت ہوئے آپ کی تاریخ وفات ہے۔ بُد محمد سعید شیخ زمان ۱۲۲۰ھ۔۔۔
مزید
آپ سید علیم اللہ جالندھری کے خلیفہ تھے حضرت پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے اور بے پناہ مخلوق کو راۂ ہدایت سکھائی۔ آپ ۱۲۱۳ھ میں فوت ہوئے مزار پُر انوار جالندھر میں ہے میاں غلام رسول ساکن ٹانڈہ نے آپ کا سال وصال رضی اللہ عنہ (۱۲۱۳ھ) سے لیا ہے۔۔۔۔
مزید
آپ حضرت شاہ بھیکھہ چشتی کے خادم تھے افغان قوم سے تعلق رکھتے تھے اور جالندھر میں رہائش تھی آپ نے ظاہری علوم سید عبدالرشید سید کبیر اور سیّد عتیق اللہ جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے آپ کا لباس قلندر رانہ تھا۔ حضرت شاہ بھیکھہ کی وفات کے بعد آپ لاہور آگئے۔ اور شیخ شاہ بلاق قد وری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض کامل حاصل کیا آپ نے اپنی عمر میں نوے جلدیں تصنیف کیں ان میں فوائد آثار شرح دیوان خواجہ حافظ بڑی مشہور ہوئیں۔ آپ کا اپنا بھی ایک دیوان ہے جو بہت اعلیٰ شعروں پر مشتمل ہے آپ مولوی جان محمد ترکی جو بڑے عالم اجل تھے علمی وعظ کرتے رہتے تھے انہوں نے اپنی کتاب میں اُن کی فضیلت اور کرامات کا ذکر کیا ہے آپ کے شاگردوں میں ساچندلادر اور عظمت خان برکی صاحبِ دیوان ہوئے ہیں سیّد علیم اللہ جالندھری بھی ظاہری علوم میں آپ کے شاگرد تھے۔ آپ کی وفات ۱۱۷۰ ہجری میں ہوئی اور آپ کا مزار پر انوار جالندھ۔۔۔
مزید
آپ بڑے صاحب حال و ذوق بزرگ تھے شیخ نظام الدین نارنولی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے بعض تذکرہ میں آپ کو شاہ اعلیٰ پانی پتی کا خلیفہ لکھا ہے۔ کلام کرتے تو صحرائی جانور بھی متاثر ہوتے۔ آپ کی محفل سماع میں اُڑتے پرندے گرتے تھے اور حاضرین مرغ بسمل کی طرح تڑپتے تھے ایک دن حضرت ایک درخت کے نیچے سماع کر رہے تھے درخت پر ایک فاختہ بیٹھی تھی زمین پر گری اور تڑپنے لگی ایک شخص اٹھا اس نے اس تڑپتی ہوئی فاختہ کو پکڑا اور ذبح کرکے لے گیا آپ کو خبر ہوئی تو بڑے ناراض ہوئے وہ شخص دیوانہ ہوگیا اپنے بھائی کو قتل کردیا اس کے جرم میں خود پھانسی پر چڑھا۔ شیخ سعید خان ۱۰۶۷ھ میں فوت ہوئے۔ باسعادت شد چو در خلد بریں شیخ اسعد ہادی رہبر سعید قلزم فیض است سال وصل او ہم معلیٰ متقی اکبر سعید ۱۰۶۷ھ ۔۔۔
مزید
آپ شیخ اسحاق بن کاکو چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ تھے لوگ آپ کو میاں عارف کے نام سے پکارتے تھے آپ نے شاہجہاں کے زمانہ اقتدار میں اپنی مشیخیت کا علم بلند کیا بڑے مرید تھے ہر مہینے کے آخری ہفتہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور دس دن تک آپ کے حجرے کا دروازہ بند رہتا تھا جس دن حجرے سے برآمد ہوتے عام وخواص کو حجرے کے دروازے سے ہٹا دیا جاتا اگر کوئی حجرے کے دروازے پر بیٹھا رہتا تو جس پر آپ کی نگاۂِ جلال پڑجاتی تین دن تک بے ہوش رہتا تھا جس دن حجرے سے نکلتے سارا دن تنہا گزارتے تھے اور کسی کو پاس آنے کی اجازت نہ ہوتی تھی مجلس سماع میں بیٹھتے تو بڑے تڑپتے بعض اوقات خدشہ ہوتا تاکہ آپ ختم ہوگئے ہیں آخر کار اعتکاف میں ہی واصل بحق ہوئے آپ ۱۰۶۴ھ میں لاہور میں فوت ہوئے۔ آپ کا مزار حضرت طاہر بندگی مجدّدی کے احاطہ میں میانی کے قبرستان میں ہے۔ چوں جناب عارف چشتی ولی سوئے جنت شد ازیں عالم رواں سا۔۔۔
مزید
آپ اکبر آباد کے بلند پایٔہ مشائخ میں سے تھے ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے زمانہ تھے آپ کے پاس طالب عقبیٰ بھی آتے اور طالب دنیا بھی دونوں فیض یاب ہوتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ دنیا دار کا کام کردو اسکے دل میں درویشوں سے محبت پیدا ہوگئی طالب حق کا بھی کام کرو اس کے دل میں خدا کی محبت جاگزین ہوگی چونکہ آپ دین و دنیا کے دونوں قسم کے لوگوں کی حاجات پوری کرتے تھے آپ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ مجالس سماع میں بڑا حصہ لیتے تھے مخبر الواصلین نے آپ کا سال وصال ۱۰۴۴ھ لکھا ہے۔ مزار اکبر آباد میں ہے۔ خلیل دہر اسماعیل ثانی بہشتی شد چوآن نیکو سرشتے بتاریخ وصالش گفت سرور ولی الدین اسماعیل چشتی ۱۰۴۴ھ ۔۔۔
مزید
آپ بڑے مشہور ولی اللہ تھے وہ اویسی طریقے پر تھے ظاہری طور پر آپ کا کوئی مرشد نہ تھا لیکن روحانی طور پر وہ خواجہ معین اجمیری کے تربیت یافتہ تھے جو شجرۂ اپنے مریدوں کو لکھ کر دیتے اپنے نام کے ساتھ حضرت خواجہ اجمیری کی برہ راست نسبت قائم کرتے اپنی کتابوں میں بھی آپ نے لکھا تھا کہ مجھے حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ سے کسی واسطے کے بغیر فیض ملا ہے آپ کی بہت سی تصانیفات ہیں چنانچہ مکتوبات رموزات اسراریہ اور اس قسم کی کئی کتابیں آپ نے لکھیں۔ آپ کی وفات ۱۰۴۳ ہجری میں ہوئی۔ ز دنیا چو شد در بہشت برین ولی شیخ عالم خلیل خلیل بخوان مجمع تاریخ او بفرما مکرم خلیل خلیل ۱۰۴۳ھ ۔۔۔
مزید