حضرت ہود علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام "عاد" قبیلہ سے ہیں۔ اس قبیلہ کو "عاد اولیٰ" کہا گیا ہے اور "عاد ثانیہ"حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کو کہا جاتا ہے جو "قوم ثمود" کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص کا نام "عاد" تھا اس کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو "عاد" کہا گیا ہے۔حضرت ہود علیہ السلام کا نسب: ہود بن عبداللہ بن رباح بن خلود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا (پ۸ سورۃ اعراف ۶۵) ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو بھیجا۔ (صاوی علی الجلالین ص۱۸۴، جمل حاشیہ جلالین ص ۱۳۵) یہاں کئی مترجین نے ’’اخاھم‘‘ کا ترجمہ "ان کا بھائی" کیا ہے، جو سراسر غلط ہے۔ پوری قوم کے افراد آپ کے حقیقی بھائی بھی نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ کا نبی کفار کا دینی ۔۔۔
مزید
حضرت عزیرعلیہ السلام اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَةٍ وَّھِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا قَالَ اَنّٰی یُحْی ھٰذِہِ اللہ بَعْدَ مَوْتِھَا فَاَمَاتَہُ اللہ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَکْسُوْھَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللہ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ (پ۳ سورت بقرہ ۲۵۹) یا (کیا آپ نے نہیں دیکھا) مثل اس کے جو گزرا اوپر بستی کے، حالانکہ وہ گری ہوئی تھی اوپر چھتوں کے؟ آپ نے کہا کہ کیسے زندہ کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد؟ تو اللہ تعالیٰ نے اسے موت دی (مردہ رکھا) سو برس، پھر اٹھایا اس۔۔۔
مزید
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل: حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے کیونکہ ’’اسرائیل‘‘ آپ علیہ السلام کا ’’لقب‘‘ ہے یا آپ کا دوسرا نام ہے۔ لفظ ’’اسرائیل‘‘ میں ایک قول یہ ہے کہ یہ عجمی لفظ ہے۔ اسراء اور ایل سے مرکب ہے۔ اسرا کے چار معنی بیان کیے گئے ہیں۔ عبد (بندہ، عبادت کرنے والا)، صفوۃ (برگزیدہ)، انسان اور مہاجر (ہجرت کرنے والا)۔ اور ایل کا معنی ہے اللہ تعالیٰ۔ اس لحاظ پر حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ نام اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار اور اس کے برگزیدہ اور اس کے پیدا کردہ عظیم المرتبت انسان اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے یعنی ہجرت کرنے والے بھی تھے۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ لفظ عربی ہے اسراء کا معنی ہے رات کو لے جانا اور ایل کا معنی ہے اللہ تعالیٰ۔ اب اس لحاظ پر آپ کا ن۔۔۔
مزید
حضرت یونس علیہ السلام فَلَوْلَا کَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَا اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ (پ۱۱، سورۃ یونس ۹۸) پس کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان، (کسی سے ایسا نہ ہوا) سوائے قوم یونس کے، جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دنیوی زندگی میں اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انہیں ایک مدت تک۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے لوگ نینوی علاقہ موصل میں رہتے تھے کفرو شرک بت پرستی میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کے پاس بھیجا آپ نے انہیں ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کے متعلق حکم دیا لیکن قوم نے آپ کی تکذیب کی، آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ سے آگاہ کیا کہ اگر تم ایمان ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ علی سیوہانی علیہ الرحمۃ حضرت شیخ علی سیو ہانی علیہ الرحمتہ، حضرت شہباز قلندر کے رفیقِ سفر، مرید باوفا اور خلیفہ جا نثار تھے، فیض و فضلیت کے صاحب ،تقویٰ وتوکل کے روشن مینار تھے اور نا مور صحابی رسول حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہونے کا شرف رکھتے تھے، انتقال کے وقت اپنی اولاد کو (جو کہ درگاہ کے مجا ور و خدام تھے) وصیت کرتے ہوئے فرمایا: شہباز قلندر کے مزار شریف کی آمدنی (نذ رانہ) اپنے تصر ف میں نہ لائیے گا اور کبھی بھی اپنی ملکیت نہ سمجھیں بلکہ اس (نذ رانہ) پر غر یبوں کا حق ہے،مسا فروں غر یبوں ( بیوہ،یتیم،طالب علم، معذور) پر خرچ کیجئے گا۔(رسالہ سیر قلند ری ( قلمی ) ازخضر علی سیو ہانی بحوالہ تذکرہ مشا ہیر سندھ ( سند ھی) (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ ابو الوفا خوارزمی رحمتہ اللہ تعالی خواجہ ابو الوفا کو ارباب توحید اصحاب ذوق اور وجد کے صاف مشرب سے پورا حصہ ملا ہوا تھا۔چنانچہ ان کے رسالوں" شعروں سے خصوصاً رباعیات سے یہ مطلب ظاہر ہوتا ہے۔اس مطلب کے اثبات کے لیے ان کی چند رباعیاں نقل کی جاتی ہیں۔رباعی: اے آنکہ توئی حیات جان و جانم در وصف تو گرچہ عاجز و حیرانم بینائی چشم من توئی مے بینم دانائی عقل من توئی مے دانم من از توجدانہ بودہ ام تابودم انیست دلیل طالع مسعودم درذات تو ناپد یدم ارمعدوم در نور تو ظاہرم اگر موجودم چوں بعض ظہورات حق آمد باطل بس منکر باطل نشود جز جاہل در کل وجود ہر کہ جز حق بیند باشدز حقیقۃ الحقائق غافل اوہست نہاں و آشکار است جہاں بل عکس بود شہود اہل عرفاں بل اوست ہمہ چہ آشکار اچہ نہاں گراہل حقے غیر یکے ہیچ مداں بدکروم و اعتذار بدتر زگناہ چوں ہست دریں غدرسہ دعوی تباہ دعوی وجود دعو۔۔۔
مزید
حضرت بابا کمالجندی رحمتہ اللہ تعالٰی جب کمال جندی نے شیخ نجم الدینؒ کی صحبت میں تکمیل اور اکمال کا مرتبہ حاصل کیا۔حضرت شیخ نے ان کو خرقہ دیااور کہا کہ ترکستان کے ملک میں مولانا شمس الدین مفتی کا ایک صاحبزادہ ہے جس کا نام احمد مولانا کہتے ہیں۔یہ ہمارا خرقہ ان کو پہنچا دینااور ان سے تربیت حاصل کرنے میں دریغ نہ کرنا۔جب بابا کمال جند میں پہنچے تو بچے کھیل رہے تھے اور احمد مولانا چونکہ ابھی بچہ تھے۔ان میں موجود تھے۔لیکن کھیلتے نہ تھے۔ان کے کپڑے سنبھالتے تھے۔جب بابا کمال کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے استقبال کر کے ان کو سلام کہا"اور پھر کہا جند ہم دوسروں کے کپڑے سنبھالتے ہیں اور تم ہمارے جامہ کو سنبھالتے ہو۔بابا کمال نے ان کو اٹھا لیا اور مفتی صاحب کے مکان میں آئے۔مفتی صاحب نے کہا"ہمارا یہ فرزند مجذوب ہےشاید تمہاری خدمت اچھی نہ کرسکے۔اس کا چھوٹا بھائی دانشمند مولانا بڑا د۔۔۔
مزید