ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نام ونسب: اسم گرامی: رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘سے تعلق تھا۔۔ مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔ والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔بعض تذکرہ نگاروں نےآپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔(ضیائ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ فضیل بن عیاض موسیٰ صفات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اہل حضرت کے بادشاہ۔ درگاہ وصلت کے سرتاج۔ ولایت کے آسمان، درایت کے آفتاب، کثیر الفضائل ابو علی الفضیل بن عیاض قدس سرہ ہیں آپ مشائخ کبار اور اپنے زمانہ کے معزز داروں میں سے تھے۔ اکثر گریہ و زاری میں مصروف رہتے اور ہمیشہ رنج و غم میں ڈوبے رہتے تھے دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا تھا کہ آپ ہمیشہ کسی گہری اور سخت فکر میں محو رہتے ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ جناب خواجہ عبد الواحد سے پہنا تھا۔ آپ کے عبرت آمیز اور پر نصیحت کلمات میں سے چند کلمے یہ ہیں۔ "لا یتکمل ایمان العبد حتی یؤ دل ما افترض اللہ علیہ ویجتنب ماحرم اللہ علیہ ویرضی بما قسم اللہ لہ ثم خاف مع ذالک ان لا یتکمل الایمان ولا یقبل منہ" یعنی بندہ کا ایمان اسی وقت تکمیل کو پہنچتا ہے جب کہ وہ خدا کے مفروضات کو نہایت جرات و آزادی کے ساتھ ادا کرتا اور محرمات و ممنوعات سے محترز رہتا اور خدا کی ق۔۔۔
مزید
امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ نام ونسب: اسم گرامی: حسن بن علی۔کنیت:ابو محمد۔القاب: زکی،سراج،خالص،عسکری۔امام حسن عسکری سے ہی مشہور ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت امام حسن عسکری بن امام محمد تقی بن امام محمد نقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام حسن بن علی المرتضی۔رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔آپ کی والدہ محترمہ ام وَلد تھیں۔ والدہ محترمہ کا اسم گرامی سوسن تھا۔(خزینۃ الاصفیاء قادریہ:119/سفینۃ الاولیاء:45) تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 8/ ربیع الثانی 232ھ،مطابق 3/دسمبر846ء بروز پیر،مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: جملہ حالات میں مثل اپنے آبائے کرام رضی اللہ عنہم کے تھے، اللہ تعالیٰ نے طفولیت میں ہی اِن کو ولایت و کرامت و کمال علم و عقل و فہم و فراست عطا فرمادیاتھا۔مراۃ الاسرار میں لکھا ہے۔۔۔
مزید
حضرت شیخ الاسلام تقی الدین السبکی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خ۔۔۔
مزید
حضرت سید الانبیاء رحمۃ للعالمین سیدنا محمد مصطفیﷺ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حضور امامُ الاولیاء،سرورِ انبیاء، باعثِ ایجاد عالم، فخر موجودات، محبوب رب العالمین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، منبع فیض انبیاء ومرسلین، معدن علوم اولین و آخرین، واسطہ ہر فضل و کمال، مظہر ہر حسن و جمال اور خلیفہ مطلق و نائب کل حضرت باری تعالیٰ جل جلالہ کے ہیں۔ اوّل تخلیق: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپﷺ کے نور کو پیدا کیا۔ پھر اسی نور کو واسطہ خلقِ عالم ٹھہرایا۔ عالم ارواح ہی میں اس نور کو خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے عہد لیا گیا کہ اگر وہ حضور اقدس ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ جیسا کہ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِینَ الآیہ میں مذکورہے۔ اسی واسطے تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور ﷺ کی آمد کی ب۔۔۔
مزید
شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: سید محمد بختیار۔لقب: قطب الدین، کاکی۔مکمل نام: سید محمد قطب الدین بختیار کاکی۔آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: خواجہ قطب الدین سید بختیارکاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق(رضی اللہ عنہم اجمعین)۔(سیر الاقطاب:168/اقتباس الانوار:392/خزینۃ الاصفیاء:77) کاکی کی وجہ تسمیہ: اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فرماتےہیں: کاک’’ کُلچے‘‘ کو کہتے ہیں ۔حضرت کو ا۔۔۔
مزید
مجاہد جنگ آزادی امام فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:علامہ فضلِ حق خیرآبادی۔القاب:مجاہدِ جنگِ آزادی،بطلِ حریت،امام المناطقہ،رئیس المتکلمین وغیرہ۔والد کااسمِ گرامی:بانیِ سلسلہ خیرآبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ فضلِ حق خیرآبادی بن مولانا فضلِ امام خیرآبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)،آپ کاشجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔(حدائق الحنفیہ۔روشن دریچے:61) تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ،مطابق 1797ء کو خیرالبلاد"خیرآباد"(ضلع سیتاپور،اترپردیش، انڈیا) میں ہوئی۔ تحصیلِ علم:علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علام۔۔۔
مزید
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ نام ونسب: اسمِ گرامی:حسن۔کنیت: ابو محمد۔القاب:تقی،نقی، زکی، سیّد شباب اہل الجنّۃ، سبطِ رسول، مجتبیٰ،جواد،کریم،شبیہ الرسول،ریحانۃ النبی۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: امام حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف اِلٰٓی اٰخِرِہٖ۔ والد:سیّدالاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ۔والدہ:سیّدۃ النسآء،سَلَامُ اللہِ عَلَیْہَا۔نانا:سیّدالانبیاءﷺہیں۔ تاریخِ ولادت: بروز منگل 15؍رمضان المبارک 3ھ، مطابق فروری625ءکو مدینۂ منوّرہ میں پیداہوئے۔ سرورِ کونین ﷺ کو خوش خبری دی گئی۔آپ فوراً تشریف لائے، داہنے کان میں اَذان، اور بائیں کان میں اقامت کہی،گھٹی میں لعابِ دہن عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ جنّت کے نوجوانوں کا سردارہوا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرمایا کرتے تھے: ’’واللہ ما قامت النسآء عن مثلِ الحسن بن علی۔‘&lsquo۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مولانا سید سالم البار العلوی الحضرمی رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سید سالم اور آپ کے والدماجد کا اسمِ گرامی عید روس تھا۔ تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والدِ ماجد اور مشائخِ مکہ علامہ شیخ محمد سعید باصبیل، صالح بافضل، عمر باجنید، سید حسین حبشی، عبد الرحمٰن دہان اور اسعد دہان سے علم حاصل کیا۔ سیرت وخصائص: حضرت علامہ مولانا سید سالم البار العلوی الحضرمی رحمۃ اللہ علیہ زبردست عالم، زاہد اور متورع تھے۔ درس تدریس مسجدِ حرام میں فرماتے۔11 صفر 1324 ھ کو مکہ مکرمہ میں امامِ اہلسنت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت واجازت اور دیگر علوم سے مشرف ہوئے۔ آپ کے خلفاء کی کثیر تعداد دمشق اور شام میں موجود ہے۔ تاریخِ وصال: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 1327 ھ کو ہوا۔ ماخذ ومراجع: خلفاء اعلیٰ حضرت (رحمۃ اللہ علیہ)۔۔۔
مزید