بدھ , 26 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 13 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شاہ جعفر علی فریدی

حضرت شاہ  جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت شاہ جعفر علی فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب:خاندانِ بابافریدالدین گنج شکرعلیہ الرحمہ سےتعلق کی وجہ سے"فریدی"کہلاتے ہیں۔آپ کانام شیخ الاصفیاء حضرت سیدشاہ اشرف حسین کچھوچھوی قدس سرہ (برادر بزرگ و پیر ومرشد حضرت قطب العالم شاہ علی حسین کچھوچھوی اشرفی میاں قدس سرہ)نے رکھا،اور فرمایا یہ لڑکا قطبِ وقت ہوگا۔آپ نسبا ً فاروقی ہیں۔نسلی رشتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے واسطے سے شیخ الاسلام فرید الدین سعود گنج شکر قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1857ءکوواقعہ غدرسےپہلےمحلہ الہی باغ، ضلع گورکھپور(انڈیا)میں ہوئی۔ تحصیلِ علم:جامع مسجد گورکھپور،مدرسۂ چشمہ ٔرحمت غازی پور،مدرسہ احمدیہ ملکی محلہ آرہ وغیرہ میں عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔عربی وفارسی میں مہارت رکھتے تھے۔ بیعت وخلافت: آپ حضرت ۱شیخ المشائخ حافظ شاہ محمد ف۔۔۔

مزید

ابوجبیررضی اللہ عنہ

ابوجبیررضی اللہ عنہ یہ ابن الحصین بن سنان بن عبدبن کعب بن عبدالاشہل انصاری،اشہلی ہیں،جو صحابہ میں شمارہوتے ہیں،ابوعمر نے مختصراً انکا ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید

(سیّدہ)صفیہ(رضی اللہ عنہا)

(سیّدہ)صفیہ(رضی اللہ عنہا) صفیہ دختر حیئ بن اخطب بن سعنہ بن ثعلبہ بن عبید بن کعب بن خزرج بن ابی حبیب بن نضیر بن نحام بن ناخوم یا تنحوم  یا نخوم (یہود کے مطابق یہ لفظ ناخوم ہے،کیونکہ وہ اپنی زبان کا بہتر علم رکھتے ہیں) اور یہ بنو اسرائیل کے قبیلے لادی بن یعقوب سے تعلق رکھتے ہیں،جو بعد میں ہارون بن عمران کے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے سلسلے میں شامل ہوجاتے ہیں،اور جناب صفیہ کی والدہ برہ دختر سمئول تھیں،جو سلام بن مشکم کی زوجہ تھیں اس کے بعدوہ کنانہ بن ابوالحقیق کے نکاح میں آگئی تھیں،دونوں شاعر تھے،غزوۂ خیبر میں کنانہ بھی مارا گیا۔ انس بن مالک سے مروی ہے کہ جب حضورِاکرم نے خیبر کو فتح کیااور جنگی قیدی جمع ہوئے تو دحیہ بن خلیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئےاور گزارش کی،کہ انہیں ایک کنیز جنگی قیدیوں سے عطا کی جائے،آپ نے فرمایا کہ جاؤاورلے لو،انہوں نے جاکر صفیہ کا انتخاب۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سودہ(رضی اللہ عنہا)

  سودہ دخترزمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی قرشیہ عامریہ ،اور ان کی والدہ کا ناشموس دختر قیس بن زید بن عمرو بن لبید بن خراش بن عامر بن غنیم بن عدی بن نجارانصاریہ تھا،حضورِاکرم نے ان سے جناب خدیجتہ الکبریٰ کی وفات کے بعد نکاح کیا تھا، عقیل نے یہ قو ل زہری سےنقل کیاہے،اور یہی قول قتادہ ابوعبیدہ اورابنِ اسحاق کا ہے،کہ جناب سودہ سے حضورِاکرم کا نکاح حضرت عائشہ کے نکاح سے پہلے ہوا،لیکن عبداللہ بن محمد بن عقیل کے مطابق یہ نکاح جناب عائشہ کے نکاح کے بعد ہوا،اور یونس نے زہری سے روایت کی ہے،کہ جناب سودہ پہلے اپنے عم سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں جو بنوعامر بن لوئی سے تھے،جن کی وفات کے بعد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نکاح میں آئیں،ام المؤمنین بھاری بھرکم خاتون تھیں، حضور ِاکرم سے نکاح کے بعد ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ محمد بن اسحاق نے حکیم بن ح۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عمارہ(رضی اللہ عنہا)

(سیّدہ )عمارہ(رضی اللہ عنہا) عمارہ دختر حمزہ بن عبدالمطلب قرشیہ ہاشمیہ ،حضورِاکرم کے چچا کی بیٹی تھیں،واقدی نے امِ حبیبہ سے انہوں نے داؤد بن حصین سے ،انہوں نے عکرمہ سے،انہوں نے ابنِ عباس سے روایت کی کہ عمارہ اور ان کی والدہ سلمیٰ دختر عمیس مکے میں تھیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عمرہ قضیہ ادا کرنے  مکے آئے،حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسولِ کریم سے ذکر کیا،اور فرمایا،ہم کیوں اپنے چچا کی لڑکی کو مشرکین کے رحم وکرم پر چھوڑکر جائیں،حضورِاکرم کو کسی نے نہ روکا،اور آپ عمارہ کو اپنے ساتھ مدینے لے گئے،اس پر زید بن حارثہ نے جو حمزہ کے وصی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حمزہ میں مواخات قائم فرمادی تھی،حضور سے درخواست کی کہ عمارہ میری بھتیجی ہے، اس لئے مجھے اس کی کفالت دی جائے،جعفر کہنے لگے،میراحق فائق ہے،کیونکہ عمارہ کی خالہ میری بیوی ہے،راوی نے ساری حدیث بیان کی۔ (ا۔۔۔

مزید

حضرت شاہ عبد الحق

حضرت شاہ عبد الحق ۔۔۔

مزید

حضرت حکیم میر علی موہانی

حضرت حکیم میر علی موہانی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا نور الحق

حضرت مولانا نور الحق علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ عبد الحمید بدایونی

حضرت شاہ عبد الحمید بدایونی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید