حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ حسینی سادات عظام میں سے تھے اور حضرت خواجہ ابواسحاق شامی قدس سرہ کے خلیفہ اکبر تھے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں بے مثال خوارق و کرامات میں لاثانی تھے، آپ کا لقب قدوۃ الدین تھا، ظاہری و باطنی حسن و جمال کے پیکر تھے۔ آپ کا منور چہرہ دور سے روشن نظر آتا، جس شخص کی نگاہ آپ کے چہرہ پر پڑتی دل و جاں سے محبت کرنے لگتا تھا، آپ کی جبیں نور افشاں سے نور الٰہی کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ رات کو گھر میں روشنی کے بغیر تشریف لاتے تو سارا گھر روشن ہوجاتا تھا آپ اندھیرے میں بیٹھتے تو قرآن پاک کے حروف اعراب سمیت نمایاں نظر آتے تذکرہ العاشقین اور سیر الاقطاب کے مصنفین نے لکھا ہے کہ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔ ابو احمد بن سلطان فرغانہ ۔۔۔
مزید
ان کے نسب کا ذکر ان کےو الد کے ترجمے میں کیا جا چُکا ہے یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے جب حضور کے سامنے لائے گئے تو آپ نے ان کا نام محمد رکھا اور انھیں کھجور کی گھٹی دی انھوں نے مدینے ہی میں سکونت رکھی اور یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کردیے گئے۔ اسماعیل بن محمّد بن ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے والد ثابت بن قیس نے اس کی ماں جمیلہ بنت ابی سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس وقت محمّد اس کے پیٹ میں تھا۔ جب وضع حمل ہوا تو جمیلہ نے قسم کھائی کہ وہ ہرگز اسے دودھ نہیں پلائے گی اس پر ثابت بچّے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضور اکرم کی خدمت میں لائے اور واقعہ بیان کیا حضور نے فرمایا: اسے میرے قریب لاؤ چنانچہ مَیں بچّے کو حضور کے قریب لے گیا اس کے بعد حضور اکرم نے بچّے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا محمّد نام رکھا اور کھجور کی گھٹی دی۔ فرمایا: اسے ۔۔۔
مزید
سلام بن ابی الصہباء نے ثابت سے روایت کی کہ مَیں حض کو گیا اور ایک ایسے علاقے میں جانکلا جہاں دو بھائی جن میں ایک کا نام محمّد تھا بیٹھے ہوئے تھے اور وسواس کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے ابو موسیٰ ے اس کی تخریج کرکے ابنِ مندہ پر استدراک کیا ہے، لیکن ابنِ مندہ نے اس کی تخریج کی ہے، اس لیے استدراک کی کوئی ضرورت نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
ہم اس کے نسب کا ذکر اس کے والد کے تذکرے میں کر آئے ہیں انھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر تھی ان سے کوئی حدیث مروی نہیں انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے لیکن صحابیت کا انتساب درست نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
ان سے ان کے بیٹے یحییٰ نے روایت کی کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو رسوا کرنا چاہتا ہے تو اس کا مال، مکانوں کی تعمیر میں صرف کرادیتا ہے۔ یہ وہ صاحب ہیں جنھوں نے اس وقت جب حضرت خالد بن ولید نے حیرہ کو فتح کیا خریم بن اوس الطائی کے حق میں شہادت دی تھی کہ حضور اکرم نے خریم کو شماء بنتِ نفلہ عطا کی تھی جو خریم کو دے دی گئی ہم اس واقعہ کو خریم کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اس کے گواہ محمد بن مسلمہ اور محمّد بن بشیر تھے ایک روایت کے مطابق گواہ محمّد بن مسلمہ اور عبد اللہ بن عمر تھے تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ بن عامر سے اس نے ایک آدمی سے جس کا نام محمد بن ای برزہ تھا سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں اس طرح ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ سے، اس نے محمدک بن برزہ سے سنا، اور یہ سند صحیح تر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
بنو عتوارہ سے بھی تعلق تھا ان کا نام جاہلیت ہی میں محمّد رکھا گیا تھا اسی طرح محمّد بن سفیان کا بھی جیسا کہ ہم محمّد بن احیحہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ابو موسیٰ نے تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
بنو عتوارہ سے بھی تعلق تھا ان کا نام جاہلیت ہی میں محمّد رکھا گیا تھا اسی طرح محمّد بن سفیان کا بھی جیسا کہ ہم محمّد بن احیحہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ابو موسیٰ نے تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
بنو عتوارہ سے بھی تعلق تھا ان کا نام جاہلیت ہی میں محمّد رکھا گیا تھا اسی طرح محمّد بن سفیان کا بھی جیسا کہ ہم محمّد بن احیحہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ابو موسیٰ نے تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
اور ایک روایت میں ان کا نام محمّد بن فضالہ بن انس ہے ان کے والد اور دادا دونوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی ادریس بن محمّد بن یونس بن محمّد بن انس بن فضالہ الظفری نے اپنے دادے یونس بن محمّد سے اس نے اپنے باپ محمّد بن انس سے روایت کی کہ میں ابھی چند ہفتوں کا تھا کہ حضور ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے آپ کے سامنے لایا گیا حضور نےمیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائے برکت فرمائی نیز فرمایا کہ اس کا نام میرے نام پر رکھ دو، لیکن کنیّت نہ رکھنا مَیں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر حضور کے ساتھ حج کیا تھا۔ اور عمرو بن ابی فروہ نے اپنے اہلِ خانہ کے عمر رسیدہ لوگوں سے روایت کی کہ انس بن فضالہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے انھیں محمد بن انس اٹھا کر حضور اکرم کے سامنے لائے چنانچہ حضور نے عذق کا ٹیل انھیں بخش دیا، جسے نہ ہبہ کیا جاسکتا اور نہ بیچا جاسکتا ہے فضیل بن سلیمان نے یونس بن محّد ب۔۔۔
مزید