ابن قیس۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھامگردیکھنا ثابت نہیں ہے۔فضل بن شبیب نے عدی بن عدی کندی سے انھوں نے ان کے دادافروہ بن قیس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک غلام کاایک لونڈی سے نکاح کردیاتھااس لونڈی سے ایک بچہ پیداہوا انھوں نے اس بچہ پر حضرت عمرکے یہاں دعویٰ دائرکیاتھااس لڑکے کے باپ نے کہاکہ میں نے اس لڑکے کی ماں سے اس حالت میں نکاح کیاکہ وہ سمجھ دارتھی جب یہ لڑکابالغ ہواتومیراآقا اس پردعوی کررہاہےحضرت عمرنے فرمایالڑکا اس کو ملےگا جس کے نکاح میں وہ لونڈی ہے بعداس کے کہاکہ اے لوگواپنے باپ سے علیحدہ نہ ہو یہ بڑی ناشکری ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہاہے کہ حضرت عمرکے سامنے مقدمہ دائرکرنے سے ان کاصحابی ہو ناثابت نہیں ہوتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن حارث۔انصاری حارثی۔ان کاشماراہل حجاز میں ہے۔صحابی ہیں۔بعض لوگ ان کو اسلمی کہتےہیں اوربعض خزاعی۔ان سے عبداللہ بن رافع مولائےام سلمہ نے روایت کی ہے کہ انھون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ بعد مکہ کے ہجرت باقی نہیں اب جہاداورنیک نیت (کاثواب)البتہ ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن ثعلبہ بلوی۔فتح مصر میں شریک تھے۔یہ ابن یونس کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہاہے کہ ان کی کوئی روایت معلوم نہیں ہوئی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید