پیر , 24 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 11 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو ابن مخزوم غاضری رضی اللہ عنہ

  ابن مخزوم غاضری۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ اصفہان اورارجان کی حدود میں گئے تھےان سے کوئی روایت منقول نہیں ہے بیان کیاجاتاہے کہ انھوں نے مقام مارب میں جانے کے لیے ایک رہبراپنے ساتھ لیاتھاجب ان کو اس پہاڑ پرچڑھنادشوارہوگیاتوانھوں نےاپنے رہبرسے کہاکہ تیراارادہ کیاہے اس وقت سے ان کا لقب مارت مشہورہوگیاان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ

  ابن زرارہ۔انصاری۔ابراہیم بن علاء حمصی نے ولیدبن مسلم سے انھوں نے ولید بن سلیمان بن ابی سائب سے انھوں نے قاسم سے انھوں نے ابوامامہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس بیٹھے ہوئےتھے کہ یکایک عمروبن زرارہ آئےایک تہ بند باندھے ہوئے اورایک چادراوڑھے ہوئے تھے مگرتہ بند ان کا ٹخنوں سے نیچاتھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کاکنارہ اٹھالیااورنہایت عاجزی کے ساتھ کہنے لگےکہ یااللہ یہ تیرابندہ اورتیرے بندے کا اورتیری لونڈی کا بیٹاہےیہاں تک کہ عمروبن زرارہ نے آپ کا کلام سناتووہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ملتفت ہوئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ میری پنڈلیاں باریک ہیں(اس سبب سے میں نے تہ بندنیچے کرلی ہے)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ نے ہرچیزاچھی پیداکی ہے اے عمرو بن زرارہ اللہ نیچی تہ بند کرنے والوں کودوست نہیں رکھتا۔اس حدیث کو ابن قانع نے اسماعیل۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ

ابن عمرولیثی بعض لوگ ان کاعبیدبن  عمرو بیان کرتےہیں ۔ابونعیم نے کہاہے کہ ان کی حدیث قرۃ بن خالدسے مروی ہے انھوں نے سہل بن علی نمیری سے روایت کیاہے کہ وہ کہتےتھے فتح مکہ کے وقت عمربن عمر ولیثی کے عقد میں پانچ عورتیں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ ان میں سے ایک عورت کوطلاق دے دیں اس حدیث کو عبدالوہاب بن عطاء نے قرۃ بن خالد سے روایت کیاہے کہ انھوں نے کہایہ حدیث میں نے عبیدبن عمرو سے سنی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

صاحبِ مغرب حضرت مولانا عبدالسید

صاحبِ مغرب حضرت مولانا عبدالسید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

شاہ محمد ناصر افضلی

شاہ محمد ناصر افضلی (الہٰ آباد) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت عبدالرحیم محبوب اللہ قادری رفاعی

حضرت عبدالرحیم محبوب اللہ قادری رفاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مظہر حسن ٹونکی

حضرت مولانا مظہر حسن ٹونکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حسن بخش مفتی خیرآباد

حضرت مولانا حسن بخش مفتی خیرآباد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولاناحافظ سید نبی بخش خیر آبادی کے صاحبزادے،نسبی علاقہ حضرت حاجی صفت اللہ محدث خیر آبادی سے وابستہ ہے،حافظ قرآن پاک تھے، والد ماجد کے زیر تربیت رہ کر کتب درسیہ کی تکمیل کی،فقہ سے خاص دل چسپی تھی،بکثرت جزئیات فقہ! زبر تھیں،اس کے باوجود مسائل کے استفتاء پربتقاضائے احتیاط مراجعت کتب کرلیا کرتے تھے،ایک مرتبہ سیتا پور کے کسی شخص نے کوئی بات پوچھی،آپ نے سر سری طور پر جواب دیدیا،وہ چلے گئے، شب میں جب غور کیا تو غلطی نظر آئی،اسی وقت پاپیاوہ سیتا پور کے لیے روانہ ہوگئے،نصف شب کے قریب پہونچ کر اہل خانہ کو جگایا،اور مسئلہ کی صحیح صورت سے آگاہ کیا۔اپنے معمولات کےبہت پابند تھے،زمیندار ہونے کے باوجود بہت متواضع وخاکسار تھے،تعلقات غرباء اور سادہ مزاج لوگوں سے رکھتے تھے،تکلف وتضع سے متنضر اور خلوت نشین تھے،فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاں قدس سرہ۔۔۔

مزید

مولانا شاہ حاجی عبدالغفور خالصپوری

مولانا شاہ حاجی عبدالغفور خالصپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن حمزہ رضی اللہ عنہ

ابن حمزہ بن سنان۔اسلمی۔حدیبیہ میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔مدینہ میں آئے تھےبعداس کے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ اپنے جنگل کی طرف واپس جائیں چنانچہ آپ نے اجازت دی اور یہ چلے جب مقام صوعقہ میں جو مدینہ سےایک منزل فاصلہ پر ہے توایک لونڈی عرب کی ان کو ملی جونہایت حسین تھی شیطان نے ان کوبہکایااوریہ اس سے متلوث ہوگئےاوریہ محصن نے تھےبعداس کے ان پر ندامت طاری ہوئی اورپھرنبی صلعم کے حضور واپس آئے اورآپ سے سب حال بیان کیاآپ نے ان پر حد جاری کردی ایک شخص کو حکم دیا کہ ان کوسودرے مارے درہ نہ بہت سخت ہو نہ بہت نرم۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہے ان کا تذکرہ ابوموسی نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید