پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

مفتی داؤد بگھیو

حضرت مولانا مفتی داؤد بگھیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا مفتی محمد داؤد بن محمد احسان بگھیو گوٹھ دو دو بگھیو ( نزد شاہ پور جھانیہ ضلع نوابشاہ ) میں تقریبا ۱۳۲۹ھ بمطابق ۱۹۱۱ء کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : بچپن میں چروا ہے کاکام کرتے تھے ، چنانچہ آپ کے جانوروں کو بیماری لگی جس کے سبب آپ کا دل اس فانی کام سے اٹھ گیا اور دل میں حصول علم کی تڑپ پیدا ہوئی ۔ گھر والوں کو اطلاع دئے بغیر مورد کے قریب گوٹھ ’’دو نگھن ‘‘ میں پڑھنے لگے ۔مولانا محمد قاسم صاحب، مولانا محمد داوٗ د کھوکھر ( متوفی ۲۳، صفر المظفر ۱۳۶۰ھ) دولت پور والے اور اپنے برادر بزرگ مولانا محمد صالح بگھیو کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ عین العلوم امینانی شریف ( ضلع دادو) میں حضرت مولانا سید امیر محمد شاہ حسینی کے پاس مزید علم حاصل کیا۔ اس کے بعد سندھ کے نامور محقق ادیب و عالم علامہ مخدوم امیر احم۔۔۔

مزید

عبد الرزاق لکھنوی

حضرت مولانا عبدالرزاق لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت سید جلال احمد اکبری

حضرت سید جلال احمد اکبری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ عفیف الدین سلمان تلمسانی

حضرت شیخ عفیف الدین سلمان تلمسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وقت کے امام اور زمانہ کے شیخ تھے کلام آہستہ کرتے مگر سخن بلند ہوتا شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی کتاب منازل السایٔرین کی آپ نے شرح لکھی تھی جو بڑی مقبول ہوئی ۶۹۰ھ میں وفات پائی۔ چوں عفیف الدّین از دنیائے دوں سال وصلش خاص گو مخدوم خواں ۶۹۰ھ   یافت از فضل خدا در خلد جا ہم عفیف دین کامل راھنما ۶۹۰ھ       (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

ابو عبد اللہ خاقان صوفی

حضرت ابو عبداللہ خاقان صوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ بغداد کے کبار مشائخ میں سے تھے۔ بڑے صاحبِ کرامات اور صاحب مقامات جلیلہ تھے۔ ابن قصاب رازی﷫ فرماتے ہیں کہ میرا والد بغداد کے بڑے بازار میں دکانداری کرتے تھے۔ میں اگرچہ نو عمر تھا تاہم بعض اوقات دکان پر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن میں دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک شخص فقیرانہ لباس میں بازار سے گزرا، میں اس کے پیچھے گیا اور نہایت ادب سے سلام کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا، پیش کیا اس نے دینار لیا اور اپنی راہ لی میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے دینار خواہ مخواہ ضائع کیا میں اسی خیال میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا وہ مسجد شویزیہ میں داخل ہونے لگا دروازے پر تین اور فقیر بیٹھے تھے۔ اس نے وہ دینار انہیں دے دیا اور خود نماز میں مشغول ہوگیا ان تینوں میں سے ایک نے دینار لیا اور بازار کی طرف چلا گیا۔ اب میں اس فقیر کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ اس نے اس دینار سے تینوں ۔۔۔

مزید

سید غلام حسین

حضرت سید غلام حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

خواجہ محمد محمود

حضرت خواجہ محمد محمود عرف راجن بن خواجہ علم الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

شیخ عبد اللہ قریشی

حضرت شیخ عبداللہ قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آپ شیخ بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے جس زمانے میں آپ کے آباؤاجداد ملتان سے دہلی آئے تو سلطان بہلول نے اپنی دختر نیک اختر کی آپ سے شادی کردی آپ ایک مجذوب بزرگ تھے، ظاہری شان و شوکت کے بھی مالک تھے، سلوک کے ابتدائی دور میں آپ نے بے انتہا ریاضت اور انسانی طاقت سے وراء الوریٰ مجاہدے کیے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں سلوک کے ابتدائی مراحل میں روزانہ کم از کم ایک ہزار رکعت پڑھا کرتا تھا اور تین قرآن ختم کرتا تھا اور ایک ساعت اللہ کی یاد اور اس کے ذکر سے جو فوائد حاصل ہوتے وہ تمام عبادتوں سے زیادہ ہوتے تھے۔ شیخ حاجی عبدالوہاب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ایک رات میں اپنے مُرشد عبداللہ یوسف کی خِدمت میں حاضر ہوا، آپ اپنے علوم الٰہی سے بھی مجھے بہرہ یاب فرمایا کرتے تھے۔اس لیے اس رات جب مجھے مشاہدے کی کیفیت کے آخری مراحل تک پہنچادیا تو فرمای۔۔۔

مزید

شیخ محمد حلوی بن داؤد قرشی

حضرت شیخ محمد حلوی بن داؤد قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

عبد الرحمن مکی سوار

حضرت محمد عبدالرحمٰن مکی سوار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید