جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا کلثوم ابن  علقمہ رضی اللہ عنہ

   بن ناجیہ خزاعی مصطلقی۔ان کے بیٹے حضرمی نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں بنی مصطلق کے وفد میں تھاجب کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں حاضرہوئےتھے پس حضرت نے فرمایاکہ تم لوگ لوٹ جاؤتم قید نہ کیے جاؤگے۔ابونعیم اورابوعمرنے کہاہے کہ ان کاصحابی ہوناصحیح نہیں ان کی حدیثیں مرسل ہیں انھوں نے حضرت ابن مسعود سے حدیثیں سنی ہیں۔ان سے ان کے بیٹےحضرمی روایت کرتے ہیں اورابوعمرنے کہاہے کہ ان سے ان کے بیٹےحضرمی روایت کرتے ہیں اورابونعیم نے کہاہے کہ ان سے ان کے بیٹے حضرمی اورجامع بن شدادروایت کرتےہیں ابونعیم نے یہ بھی کہاہے کہ ان کے والد علقمہ بن ناجیہ صحابی ہیں۔اس حدیث کو یعقوب بن حمید نے اوریعقوب زہری نے حضرمی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کا داداسے روایت کیاہے اورابن مندہ نے اس حدیث کو دوسندوں سے روایت کیاہے ایک سے معلوم ہوتاہ۔۔۔

مزید

سیّدنا کلثوم ابن  حصین بن عبید رضی اللہ عنہ

  بن خلف بن بدربن احیمربن غفاربن ملیل بن ضمرہ بن بکیربن عبدمناہ بن کنانہ۔ کنیت ان کی ابورہم تھی غفاری ہیں۔اپنی  کنیت ہی سے زیادہ مشہورہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں تشریف لے آنے کے بعداسلام لائے تھےبدرمیں اوراحد میں شریک نہ تھے۔ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے درخت کے نیچے بیتہ الرضوان کی تھی احد کے دن ان کے نحریعنی سینہ میں ایک تیرلگ گیاتھاپس یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےحضرت نے اپنالعاب دہن ان کے زخم پرلگادیاوہ زخم فوراً اچھاہوگیااسی وجہ سے لوگ ان کو منحورکہنے لگے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کودومرتبہ مدینہ کا قاضی بنایاایک مرتبہ عمرۂ قضا میں اورایک مرتبہ سال فتح مکہ میں جب کہ آپ مکہ اورطائف اورحنین تشریف لے گئےتھے۔یہ کلثوم مدینہ ہی میں رہتے تھے۔ان کا تذکرہ انشأ اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں کیاجائے گا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابن م۔۔۔

مزید

سیّدنا کلاب ابن  عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ۔حافظ ابومسعود نے ان کاذکرکیاہے اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ یزید بن ابی خالد سے انھوں نے زید جزری سے انھوں نے شرحبیل مدنی سے انھوں نے کلاب بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ابوالہیثم بن تیہان نے کھاناپکایااور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی ہم بھی آپ کے ہمراہ تھےجب ہم لوگ کھاپی چکے توحضرت نےفرمایاکہ اس کابدلہ اپنے بھائی کودو ہم لوگوں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ کیابدلہ دیں آپ نے فرمایااس کے لیے اللہ سے برکت کی دعا مانگو جب کوئی شخص کسی کے یہاں کھاناکھائےاوراس کا پانی پیے بعد اس کے اس کے لیے برکت کی دعامانگے تویہی اس کابدلہ ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کلاب ابن  امیہ رضی اللہ عنہ

   ۔عبدان نے کہاہے کہ یہ امیہ اشکر کے بیٹے ہیں اورابن کلبی نے کہاہے کہ یہ امیہ حرثان بن شکربن عبداللہ بن زہرہ بن جندع بن لیث کے بیٹے ہیں کنانی لیثی ہیں۔بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ یہ اوران کے والد دونوں اسلام لائےتھےانھیں کے والد کایہ کلام ہے ع اتاہ مہاجران فولجاہابوجعفر نے کہاہےکہ کلاب بن امیہ سے اورعثمان بن ابی العاص سے ملاقات ہوئی کلاب نے پوچھاکہ تم یہاں کیسےآئے عثمان نے کہامیں مقام ابلہ کاعشرتحصیل کرنے پر مقرر کیاگیاہوں تو کلاب نے ان کو ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عشر لینے کی مذمت ۱؎میں سنائی اس حدیث کو خلید بن دعلج نے سعید بن عبدالرحمن سے انھوں نے کلاب سے روایت کیاہے ۔بخاری  نے کہاہے کہ ان کی کنیت ابوہارون ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے اس کے بعد انھوں نے حدیث اورپوراقصہ بیان کیاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ عشر لینے والے کی مذمت صرف اس۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔ان سے علقمہ بن نضلہ  نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جوشخص امیرانہ زندگی بسرکرتاہے قیامت کے دن وہ اللہ عزوجل کے سامنے طوق اورزنجیر کے ساتھ لایاجائےگاپھر اللہ چاہے تو اس پر رحم کرے یاکوئی دوسرافیصلہ اس کے حق میں فرمائے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ اس حدیث کے بعض ٹکڑے کعب بن عجرہ سے مروی ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب صحابی رضی اللہ عنہ

ہیں۔ان کے ہاتھ جنگ یمامہ میں کٹ گئےتھے۔عبدالکریم بن ابراہیم نے حرملہ بن یحییٰ سے انھوں نے ابن  وہب سے انھوں نے عمروبن حارث سے انھوں نے بکربن سوادہ سے انھوں نے زیاد بن نافع سے انھوں نے کعب سے روایت کی ہے کہ نماز خوف۲؎ہردوٹکڑے کے لیے ایک رکعت ہےیہ ابن مندہ اورابونعیم کابیان ہے ابن مندہ نے عبدالکریم سے اسی طرح روایت کیاہے مگرصحیح یہ ہے کہ حسن بن قتیبہ  نے حرملہ سے انھوں نے ابن وہب سے انھوں نےعمروسے انھوں نے بکربن سوادہ سے انھوں نے زیادسےانھوں نے ابوموسیٰ غافقی سے روایت کی ہے کہ جابر بن عبداللہ نے ان سے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے دن نماز خوف پڑھی اورہر ٹکڑے نے ایک رکعت آپ کے ساتھ پڑھی۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎مطلب اس کایہ ہے کہ امام مسافرہواورقصرنمازپڑھے ورنہ اگرمقیم ہوتوہرٹکڑے کودورکعت  ملیں گی۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن  یسار رضی اللہ عنہ

  بن ضبہ بن ربیعہ بن قزعہ بن عبداللہ بن محزوم بن غالب بن فظیعہ بن عسربن بغیض بن ریث بن غطفان عبسی ثم المخزومی۔فتح مصرمیں شریک تھےاوروہاں انھوں نے ایک احاطہ گھیرلیاتھا وہاں یہ قاضی بھی تھے۔سعید بن عفیر نے کہاہے کہ اسلام میں یہ سب سے پہلے قاضی ہیں جو مصر میں متعین کیے گئےتھے زمانہ جاہلیت میں بھی عہدۂ قضا سے ممتازتھےسعید بن ابی مریم نے بیان کیا ہے کہ یہ خالد بن سنان عبسی کے نواسے تھےجن کے حق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھاکہ وہ بھی ایک نبی تھےمگران کی قوم نے ان کوضائع کردیااورحیوۃ بن شریح نے ضحاک بن شرحبیل غافقی سے انھوں نے عماربن سعد تجیبی سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرنے عمروبن عاص کولکھاتھاکہ کعب بن ضبہ کوقاضی بنادو چنانچہ عمروبن عاص نےان کو بلوایا اورحضرت عمر کا خط ان کو سنایامگر انھوں نے کہاکہ یہ ہرگزنہ ہوگاکہ خد انے مجھ کوجاہلیت سے اوراس کے مہلکوں سے نجات دی اب میں پھراسی میں ۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن  محرّ ہ رضی اللہ عنہ

  ۔اوربعض لوگ ان کومُرّہ بن کعب کہتےہیں سلمی بہزی ہیں مگرپہلاہی قول  زیادہ صحیح ہے۔ ابوعمرنےبھی کہاہے کہ کعب بن مرہ ہی صحیح ہے اورابن ابی خثیمہ نے کہاہے کہ کعب بن مرہ اور شخص ہیں ۔یہ کعب ملک شام کے مقام اردن میں رہتےتھے ان سے شرحبیل بن شمط اورابوالاشعث صنعانی اورابوصالح خولانی اورسالم بن ابی الجعد نے روایت کی ہے۔عمرو بن مرہ نے سالم ابی الجعد سے روایت کی ہے کہ شرحبیل بن شمط نے کہاکہ اے کعب بن مرہ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلۂ مضرکے متعلق سنی ہوتوانھوں نےکہاکہ میں ایک روز رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیااورمیں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ اللہ نے آپ کوفتح مندکیاہےاوربہت کچھ دیاہے اورآپ کی دعامقبول کی ہے آپ کی قوم(قحط سالی سے)مری جاتی ہے آپ اللہ سے ان کے لیے دعاکیجیےتوآپ نے دعاکی کہ یااللہ مینھ برساجو ہماری مصیبت کو دورکردے عالمگیر۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن مانع رضی اللہ عنہ

ابن  مانع۔انہیں کا لقب کعب احبارہے۔کنیت ان کی ابواسحاق ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاتھامگرآپ کو دیکھانہ تھاحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام لائے۔ابو ادریس خولانی نے ابومسلم جلسی معلم کعب الخیر سے روایت کی ہے کہ وہ کعب احبارکورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرنہ ہونے پرملامت کررہے تھےتو کعب نے کہاکہ میں حضرت ہی کی خدمت میں حاضرہونے کے ارادہ سے چلاتھامگرجب میں مقام ذاقرنات میں پہنچاتواس بت نے مجھ سے پوچھاکہ اے کعب تم  کہاں جاتے ہومیں نے کہااس نبی کے پاس جاتاہوں اس نے کہابے شک وہ نبی تھےمگراب وہ زمین کےنیچے ہیں اس کے بعد مجھے ایک سوارملامیں نے اس سے پوچھا کہ کیاخبرہےاس نے کہامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اوراہل عرب مرتد ہوگئے اس کے بعد پوری حدیث ذکرکی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن  مالک رضی اللہ عنہ

   بن ابی کعب۔ابوکعب کانام عمروبن عمروبن قین بن سوا د بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی تھاانصاری خزرجی سلمی ہیں  کنیت ان کی ابوعبداللہ تھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابوعبدالرحمن والدہ ان کی لیلی بنت زید بن ثعلبہ تھیں وہ بھی خاندان بنی سلمہ سے تھیں۔بالاتفاق بیعت عقبہ میں شریک تھےمگرشریک بدرہونے میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ شریک نہ تھے۔جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ  نےان کے اورطلحہ بن عبیداللہ کے درمیان میں مواخات کرادی تھی جبکہ آپ نے مہاجرین وانصار کے درمیان میں مواخات کرائی صرف غزوۂ بدر اور تبوک میں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہیں گئےبدرمیں شریک نہ ہونےسےتو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نےکسی شخص پر عتاب نہیں فرمایابوجہ اس کے کہ بدرکاواقعہ دفعتہ پیش آگیاتھاباقی رہاتبوک اس میں یہ شدت گرماکے سبب سے شریک نہیں وہئے یہ ان تین آدمیوں  می۔۔۔

مزید