۔ان کاتذکرہ ابورزین عقیلی کی حدیث میں ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے اورابوموسیٰ نے بھی ان کاتذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ طبرانی نے اورابوعبداللہ نے اورابونعیم نےان کا ذکرلکھاہےمگرکسی نے ان کی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ہم سے حسن بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمدبن عبداللہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیا وہ کہتے تھےاحمد بن زہیرتستری نےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن حسین بن اشکاب نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے اسحاق ادرق نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے سعیدبن عبیدنے علی بن ربیعہ سے انھوں نے کعب بن قطبہ سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ فرماتے تھے کہ میرے اوپر جھوٹ جوڑناایسانہیں ہے جیسا کسی اورپر جھوٹ جوڑناجو شخص میرے اوپر عمدا جھوٹ جوڑے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھ لے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عائشہ تمیمی۔صحابی ہیں۔نیشاپور میں عبداللہ بن عامر کے ساتھ رہتےتھے۔ان کا تذکرہ یحییٰ یعنی ابن مندہ نے لکھاہےاورانھوں نے کہاہے کہ یہ سلمونہ اورحاکم ابوعبداللہ کا بیان ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مازنی۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کاتذکرہ جعفرنے اشعری سے روایت کیا ہے۔یحییٰ بن یونس نے زید بن مریش نے انھوں نے یعقوب بن محمدسے انھوں نے کرامہ بنت حسین سے انھوں نے حارث بن عبداللہ بن کعب مازنی سے انھوں نے ابوعیاش سے انھوں نے جابربن عبداللہ سے انھوں نے کعب بن عیاض سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایام قربانی کے درمیانی دنوں میں جمرہ کے پاس خطبہ پڑھتے ہوئے دیکھاتھایہ حدیث ہم سے اسمعیل بن علی وغیرہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعیسیٰ ترمذی سے روایت کرکے بیان کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے حسن بن سوارنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے لیث بن سعد نے معاویہ بن صالح سے انھوں نے عبدالرحمن بن جبیربن نفیرسے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے کعب بن عیاض سے روایت کرکے بیان کیاابوعمرنے کہاہے کہ کعب بن عیاض اشعری سے بھی حضرت جابرنے روایت کی ہے ۔۔۔
مزید
بن مکشوح۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جواسود عنسی کے قتل میں شریک تھے ان کا ذکر قیس بن مکشوح کے ذکرمیں پوراآئےگاکیوں کہ یہ اسی نام سے مشہورہیں یہاں ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔انصاری۔ان کا نسب ان کے بھائی رفاعہ کے نام میں بیان ہوچکاہے۔غزوۂ بدرمیں شہید ہوئےتھے ان کے اوران کے ساتھیوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی ولاتقولو لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتالخ اس غزوہ میں مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے تھے۱)عبیدہ بن حارث۲)عمیربن ابی وقاص ۳) ذوالشمالین بن عمرو۴)عاقل بن بکیر۵) مہجع غلام عمربن خطاب رضی اللہ عنہ صفوان اورانصارکے آٹھ آدمی شہید ہوئے تھے۱) سعد بن خثیمہ ۲)قیس بن عبدالمنذر۳)زیدبن حارث۴)تمیم بن حمام ۵)رافع بن معلی ۶)حارثہ بن سراقہ ۷)معوذ بن عفرأ ۸)عوف بن عفرأ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ ان کے نام میں کچھ غلطی ہوگئی ہے صحیح نام ان کا مبشربن عبدالمنذر ہے بنی عمروبن عوف سے ہیں اس میں کسی کا اختلا ف نہیں اورتیمیم بن حمام کے نام میں بھی غلطی ہوگئی ہے صحیح نام ان کا عمیر بن حمام ہے یہی اہل سیرکاقو ل ہے اوریہی صحیح ۔۔۔
مزید
۔ان سے انس بن مالک نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاالہ الااللہہمیشہ غضب الٰہی کو دفع کرتارہے گایہاں تک کہ لوگ زبان سے تواس کلمہ کو کہیں گے مگراپنے دین کو دنیا کے لیے خراب کرنے لگیں گےاس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ تم جھوٹے ہو۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن قیس بن وہب بن بکیربن امرأ القیس بن حارث بن معاویہ کندی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھے یہ ہشام بن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن عدس۔نابغہ جعدی۔شاعرہیں اپنے لقب نابغہ سے زیادہ مشہورہیں ہم انشأ اللہ تعالیٰ ردیف نون میں ان کا تذکرہ یہاں سے زیادہ لکھیں گے ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
اسدی۔قبیلۂ بنی اسد بن خزیمہ سے ہیں کنیت ان کی ابوآمنہ ہے یہ آمنہ وہی ہیں جو حضرت ام حبیبہ کے ساتھ تھیں۔قیس نے حبش کی طرف اپنی بی بی برکہ بنت یسارکنیزابوسفیان کے ساتھ ہجرت کی تھی موسیٰ بن عقبہ نے کہاہے کہ یہ عبیداللہ بن حجش اورام حبیبہ کے رضاعی باپ تھے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان کا شماراہل شام میں ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود کشی کرنے والے کے متعلق ایک حدیث روایت کی ہے مگران کا دیکھنایاصحابی ہوناثابت نہیں ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید