پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو ابن عقبہ سعید رضی اللہ عنہ

   نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے ۔اوراپنی سند کے ساتھ مکحول سے روایت کی ہے کہ عمرو بن عقبہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جوشخص اللہ کی راہ میں ایک دن بھی  چلے گاآگ سے ایک سال کی مسافت پردورکردیاجائے گا۔سعیدنے کہاہے کہ میں  ان کو عمرو بن عنبسہ خیال کرتاہوں اورجعفر مستغفری نے کہاہے کہ عمروبن عقبہ بن یسارانصاری بدرمیں شریک ہوئےتھےان کی کنیت ابوسعید ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابوعطبہ رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوعطبہ ہے سعدی ہیں ان سے ان کے بیٹے عبطہ نے روایت کی ہے۔کہ انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قیامت میں (معاملات کے متعلق)سب سے پہلے مال کے متعلق سوال ہوگا(کہ اس کوجاصرف کیایابےجا)آپ نے مجھ سے میری قوم کی زبان میں گفتگو فرمائی تھی ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عطیہ رضی اللہ عنہ

   طبرانی ان کوصحابہ میں ذکرکیاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن لہیعہ سے انھوں نے سلیمان بن عبدالرحمن سے انھوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے انھوں نے عمروبن عطیہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ عنقریب تمھارے ہاتھ پر بہت سے ملک فتح ہوں گےاورمحنت و مشقت کی تمھیں ضرورت نہ رہےگی۔اورتیراندازی محض کھیل کے طورپر رہ جائے گی ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو عجلانی رضی اللہ عنہ

۔ابوزکریانے ان کاتذکرہ اپنے داداپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے حالانکہ ان کے دادا اس تذکرہ کولکھ چکےہیں ابونعیم اورابوموسیٰ نے بھی ان کا تذکرہ لکھاہے۔عبدالرحمن بن عمرو عجلانی نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے کہ آپ نے قبلہ روہو کرپائخانہ یاپیشاب کے لیے بیٹھنے سے منع فرمایا۔پھر ان کابیان عمروبن ابی عمرکے نام میں آئے گاانشاءاللہ تعالیٰ۔   (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عثمان رضی اللہ عنہ

   بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب قرشی تیمی ۔ا ن کی ماں ہندہ بنت بیاع بن عبدیالیل بن عنزہ ابن سعد بن لیث بن بکر ہیں۔یہ مہاجرین حبشہ  میں سے تھےاورانہیں دونوں کشتیوں میں سوار ہوکرلوٹے تھےبعداس کے سعدبن ابی وقاص کے ہمراہ قادسیہ میں ۱۵ھ؁ ہجری میں بعہد خلافت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ  شہیدہوئے ان کے کوئی اولاد نہ تھی۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عتبہ رضی اللہ عنہ

   بن نوفل۔اہل حجاز میں شمارکیے گئے ہیں۔اس کا ذکرمحمدبن اسمعیل نے بشر بن حکم سے روایت کرکے کیاہے عاتکہ بنت ابی وقاص یعنی حضرت سعد کی بہن سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں آئےتومیں آٹھ عورتوں کے ساتھ آپ کے پاس گئی اورمیرے ساتھ میرے دونوں لڑکے بھی تھے۔پھرمیں نےکہا کہ یارسول اللہ(  صلی اللہ علیہ وسلم )یہ دونوں آپ کے چچاکے لڑکے ہیں۔اورمیں آپ کی خالہ ہوں پس آپ نے میرے لڑکے عمروبن عتبہ بن نوفل کو جودونوں میں چھوٹاتھالے کر اپنی گود میں بٹھالیاان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ

حضرمی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے ہم سے ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنی سندعبداللہ بن احمد تک پہنچاکر بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے جعید بن عبدالرحمن نے حسن بن عبداللہ سے روایت کر کےبیان کیاہے کہ عمروبن عبیداللہ جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے بیان کرتےتھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کودیکھاکہ  آ پ نے شانہ کاگوشت کھایااس کے بعد کلی کرکے نمازپڑھی وضو نہیں کیا۔ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا تذکرہ کیاہےاورابونعیم نے کہاہے کہ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا صحیح نہیں ہے اوربخاری نے کہاہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہے لیکن ان کی حدیث صحیح نہیں  ہےان کاتذکرہ عمروبن عبداللہ انصاری کے نام میں گذرچکاہے اورشاید کہ یہ حضرمی تھے اوران کے حلیف انصار میں تھےوا۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبسہ بن عامر رضی اللہ عنہ

   بن خالد بن غاضرہ بن عتاب بن امراءالقیس بن بہثیہ بن سلیم یہ ابوعمرکا قول ہے اورابن کلبی وغیرہ نے کہاہے کہ یہ عمروبیٹے ہیں عبسہ بن خالد بن حذیفہ بن عمروبن خالد بن مازن بن مالک بن ثعلبہ بن بہثہ بن سلیم کےماذن بن مالک کی والدہ بجلہ  تھیں لہذایہ عمروسلمی بھی ہیں اوربجلی بھی ہیں کنیت ان کی ابونجیح ہے اوربعض لوگ کہتے ہیں ابوشعیب قدیم الاسلام ہیں۔بیان کیاجاتاہے کہ یہ چوتھے مسلمان ہیں۔ہم سے ابوالفرج بن ابوالرجاء ثقفی نے اپنی سند ابوبکر بن ابی عاصم تک پہنچاکر خبردی۔وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن مصفی نے بیان کیا۔وہ کہتےتھے ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا۔وہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن علاء نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسلام حبشی نے بیان کیا کہ میں نے عمروبن سلمی کویہ کہتےہوئے سناکہ میرے دل میں یہ بات پڑگئی تھی کہ بتوں کی پرستش ناجائزہے۔ایک روز اسی قسم کی باتیں کررہاتھاایک شخس نے میری باتیں سن۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبدنہم رضی اللہ عنہ

اسلمی۔یہ وہی ہیں جوحدیبیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوراہ بتاتے تھےپس انھوں نے شنیتہ الحنظل کے راستہ پر چلناشروع کیارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ثمینہ کی مثال بالکل اس دروازہ کی سی جس کی بابت اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایاتھا کہ اس دروازہ سے سجدہ کرتےہوئے جاؤ اورحطتہ کہوجوشخص آج شب میں اس ثینہ سے باہر نکلاجائےگااس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبدالحارث رضی اللہ عنہ

ابن عبدالحارث۔یحییٰ بن یونس نے کہاہے کہ ان کی کنیت ابوحازم تھی۔قیس کے والد تھے جعفرنے کہاہے کہ مشہوریہ ہے کہ ان کا نام عبدعوف ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔(اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید