۔قوم جن سے تھے۔ہم نے ان کاتذکرہ محض حافظ ابوموسیٰ کی پیروی کرنےکے لیے لکھ دیا۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃًخبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوالخیر یعنی محمدبن رجاء نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے احمد بن ابی القاسم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے احمد بن عمرونے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمروبن علی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سلم بن قتبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عمروبن نیان عنبری نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہم سے ابوعیسیٰ سلام نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے صفوان بن معطل سلمی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم لوگ حج کے لیے جارہے تھے جب ہم مقام معرج میں پہنچے تو ہم لوگوں نے ایک سانپ کودیکھاجوتڑپ رہاتھاتھوڑی ہی دیر کے بعدوہ مرگیاہم میں سے ایک شخص نے ایک کپڑانکالااوراس سانپ کو اس میں لپیٹ کرزمین میں دفن کردیاپھرجب ہم مکہ پہنچے تو ایک روزہم کعبہ میں تھےکہ ایک شخص آیااوراس نے ہم لوگوں سے کہا کہ عمروبن جابرتم میں سے کس نے دف۔۔۔
مزید
۔اوربعض لوگ کہتےہیں یمانی۔ان کی حدیث شہربن حوشب نے ان سے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہمراہ کچھ ہدی قربانی کے لیےبھیجی تھیں اورفرمایاتھاکہ اگر ان میں سے کوئی جانورہلاک ہونے لگے تواس کو ذبح کردینااوراس کے پیروں کو اس کے خون سے رنگ۱؎دینااوراس کے منہ پرایک چھاپہ خون کا ماردینااوراس قربانی کووہیں چھوڑدینا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ مصلحت اس میں یہ تھی کہ ایساکرنے سے لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ ہدی کاجانورہےاس کاگوشت غیر مستحقین کو نہ کھاناچاہئے۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن وہب بن عدی بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار۔کنیت ان کی ابوحکیم ہے انصاری خزرجی ہیں پھربنی عدی بن نجارسے ہوئےابن شہاب نے ذکرکیاہے کہ یہ بدر میں شریک تھے۔ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنی سندکےساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں لکھاہےکہ عمروبن ثعلبہ بھی تھے۔ان کے کوئی اولاد نہ تھی ۔غزوۂ احد میں بھی یہ شریک تھے۔یہ ابونعیم اورابوعمرکاقول ہےاورابن مندہ نے کہاہے کہ عمروبن ثعلبہ انصاری بدرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ان کی حدیث یعقوب بن محمد زہری نے وہب بن عطاء سے انھوں نے وضاح بن سلمہ سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے عمروبن ثعلبہ انصاری سے روایت کی ہے عمروبن ثعلبہ کی عمرسوبرس کی ہوگئی تھی مگران کے سرمیں جس مقام پررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیراتھابال سفید نہ ہوئے تھے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ میں۔۔۔
مزید
خشنی۔ابوثعلبہ کے بھائی ہیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں اسلام لائےتھے اس کو ابن دباغ نے ابوعمرپر استدراک کرنے کے لئے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔جہنی ان کا شمار اہل حجاز میں ہے یعقوب بن محمد زہری نے وہب بن عطاءبن یزید جہنی سے انھوں نے وضاح بن سلمہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عمروبن ثعلبہ جہنی سے روایت کی ہے کہ وہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئے حضرت نے انھیں اسلام کی ترغیب دی وہ اسلام لائے پس حضرت نے ان کے سرپر ہاتھ پھیراان کی عمرسو برس سے زیادہ مگر جس مقام پرحضرت نے ہاتھ پھیراتھااس مقام کے بال سفید نہ ہوئے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔سیف بن عمرنے اپنے راویوں سے نقل کیاہےکہ یہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے نعمان بن مقرن کو جب کہ انھوں نے اہل الرائےسے مشورہ لیاتھااہل نہاوندپرلشکرکشی کی رائے دی تھی۔ عمروبن ثبی اس وقت عمرمیں سب سےزیادہ تھے ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔عنبری۔قبیلۂ عبدالقیس سے ہیں اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ بکربن وائل سے اور بعض لوگ کہتےہیں کہ عمربن قاسط بن مہنب بن اقصی بن دعمی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزارسے ان کے نسب میں جوکچھ بیان کیاگیاہے سب کامنتہی اسد بن ربیعہ پر ہوتاہے پس یہ بہرحال ربعی ہیں بصرہ میں رہتےتھے ان سے حسن بصری نے روای کی ہے ہمیں خطیب ابوالفضل بن ابی نصر نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد طیالسی تک خبردی وہ کہتےتھےہمیں مبارک بن فضالہ نے حسن بن عمروبن تغلب سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے کہ مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک روز)ایک ایسی بات فرمائی جومجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند آئی ایک روز رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا تو آپ نےبعض لوگوں کودیااوربعض لوگوں کونہ دیااورفرمایاکہ ہم بعض لوگوں کو محض اس خیال سے دےدیتےہیں کہ ان کونہ دیاجائے گاتووہ رنجیدہ ہوں گے۔اور صبر نہ کرسکیں گےاوربعض ل۔۔۔
مزید
۔جعفرنےکہاہے کہ ان سے ان کے بیٹے صالح نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میں تبوک میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے ملاتھا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن بلیل۔اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کانام عمروبن عمیرہے کنیت ان کی ابولیلیٰ تھی انصاری ہیں ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ داؤد کہتےہیں اوربعض لوگ سفیان اور بعض لوگ یساراوربعض لوگ اوس اوربعض لوگ بلال ان کا تذکرہ کنیت کے باب میں اور عمروبن عمیرکے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ آئے گااحد میں اوراس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے پھرصفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ یہ مہاجرین سےتھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔جعفرنے بیان کیاہے کہ یہ نام ابوالجعد صمری کاہے قبیلۂ بنی ضعمرہ بن بکربن عبدمناہ بن کنانہ بن قبیلہ بنی صمرہ میں ان کا ایک گھرتھاخلیفہ نے بھی ان کا نام اورنسب اسی طرح لکھاہے ابوحاتم بن حبان نے ان کانام اورع بیان کیاہےابواحمد عسکری نے ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاہے اورکہاہے کہ یہ ابوالجعد بیٹے ہیں جنادہ بن مراد بن عبدکعب بن ضمرہ بن بکربن عبدمناہ کے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید