ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے۔شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی منصور بن ابوالحسن مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی موصلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے کہ ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے کہاہے کہ ہم سے بقیہ بن عبدالولید نے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے غفیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بسر مازنی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(ایک دن)عکاف بن وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایاکیاتمھاری زوجہ ہےاورپوری حدیث بیان کی۔وہ عکاف بن وداعہ ہلالی کے تذکرہ میں بیان ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن زرارہ بن عدس بن زیدبن عبداللہ بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید بن مناہ بن تمیم تمیمی ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گروہ سرداران تمیم کے ساتھ وفد ہوکرآئےتھے ان میں سے اقرع بن عابس اورزبرقان بن بدراورقیس بن عاصم وغیرہم تھے۔ یہ سب اسلام لائے۔یہ ۹ھ ہجری کا واقعہ تھااورکہاگیاہے کہ ۱۰ھ ہجری کاواقعہ تھا مگرپہلاقول صحیح ہے اوریہ اپنی قوم کے سردارتھے۔یہ عطارد وہی شخص ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووہ ریشمی کپڑاہدیتاً دیاتھا جوان کو کسریٰ نے پہننے کے لیے دیاتھاصحابہ نے اس کپڑے کودیکھ کر تعجب کیا تو آپ نے فرمایاکہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہترہیں پھرفرمایاکہ تم لوگ اس کوابوجہم حذیفہ کے پاس لے جاؤاوران سے کہو کہ وہ میرے واسطے اس کے عوض میں ایک کرتہ بھیج دیں جب حمجاح تمیمہ نے نبوت کادعوی کیاتھاتو یہ ان لوگوں میں سے تھے جن لوگو۔۔۔
مزید
۔ابوعشراءدارمی کے والد تھے ان سے ان کے بیٹے ابوعشراء نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہایارسول اللہ سوائے حلق اورلبہ کے(کسی دوسرے مقام پرزخم لگانےسے)کیاذبح نہیں ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگرذبیحہ کی ران میں برچھاماروتب بھی تم کوکافی ہے۔اورہم ان کا تذکرہ لکھ چکے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن سباع کے غلام تھے۔ان کوابن مندہ نے اپنی تاریخ میں بیان کیاہے مگرمعرفت صحابہ میں ان کونہیں بیان کیاہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سرپرہاتھ پھیرا (ان کی یہ عادت تھی)کہ اپنے سرکوآسمان کی طرف(کبھی)نہ اٹھاتےتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عینیہ نے عبدالملک بن نوفل سے انھوں نے ابن عطامزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک چھوٹاسالشکر(کسی طرف)بھیجاتو آپ نے اس کے آدمیوں سے یہ وصیت کی کہ جب تم لوگ مسجد دیکھناتو(وہاں)کسی کو قتل نہ کرنا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے مگردونوں نے کہاہے کہ سند میں یہ غلطی ہے صحیح یہ ہے کہ ابن عصام مزنی نے عصام مزنی سے روایت کی ہے ان کا ذکرپہلے ہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاہے ان سے ان کے بیٹےعبداللہ نے روایت کی ہے عطاء نے کہاہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاموذن (کی حالت)اپنی اذان اور اقامت کےدرمیان مثل اس شخص کے ہے جوکہ اللہ کی راہ میں (کشتہ ہوکر)اپنے خون میں تڑپتا ہے۔ ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
شیبی بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ عطابن نضر بن حارث بن علقمہ بن کلاء بن عبدمناف بن عبدالداربن قصی بن کلاب قریشی عبدری ہیں ان کا نسب ابوبکر طلحی نے اسی طرح بیان کیاہے یہ کوفہ میں رہتےتھےان سے قطربن خلیفہ نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومقام (کعبہ)میں دیکھاتھاکہ آپ کاجوتابغیربال کے چمڑے کاتھاان کاتذکرہ تینوں نے لکھا ہے مگرابوعمرنے کہاہے کہ ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اوربعض نے کہاہے کہ یہ ابراہیم بن عطاثقفی ہیں ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کو ابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاً خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن حلوانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابوعاصم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن مسلم بن ہرمز نے یحییٰ بن عبدالرحمن بن عطابن ابراہیم سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنے دادا سے نقل کرکے بیان کیااوروہ طائف کے رہنے والوں میں سے تھے۔وہ کہتے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومقام منیٰ میں لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سناکہ اے لوگواپنے جوتوں میں دو تسمے لگایا کرو۔ابوعاصم نے کہاہے کہ ہم ان کویحییٰ بن ابراہیم بن عطا کہتےتھے مگربعد میں معلوم ہوا کہ ان کا نام یحییٰ بن عطابن ابراہیم ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے اسی طرح لکھاہے اورابوعمر نے کہاہے کہ یہ عطاہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ ج۔۔۔
مزید
یہ اشجعی ہیں بنی سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجارکے حلیف تھے غزوۂ بدراوراحد اور اس کے بعد کے مشاہد میں شریک رہے۔حضرت معاویہ کی خلافت میں ان کی وفات ہوئی تھی ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابوعمرنے ذکرکیاہے کہ عصمہ انصاری بن مالک بن نجارکے حلیف تھےاورکہاہے کہ یہ اشجعی ہیں اوریہ بھی کہاہے کہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے اوروہ یہی ہیں اگریہ کہتے اس ترجمہ میں کہ عصمہ مگربعض نے عصیمہ کہاہے اپنی عادت کے موافق توبہترہوتا واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ عصیمہ اسدی اسد بن خزیمہ کی اولاد سے تھے اوربنی مازن بن نجارکے حلیف تھے۔غزوۂ بدرمیں شریک تھےاوران کوابونعیم اورابن مندہ نے عصمہ کہاہے اور(بیان کیاہے کہ)کہاگیاہے(کہ یہ) عصمیہ ہیں غزوۂ بدرمیں شریک تھے (یہ)ابن شہاب وابن اسحاق کے قول میں ہے ۔ ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے مگرابوموسی نے کہاہے کہ ابوعبداللہ بن مندہ نے ان کا تذکرہ عصمہ کے نام میں لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید