جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عرفجہ ابن خزیمہ رضی اللہ عنہ

   یہ وہ شخص ہیں کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان سے ان کے حق میں کہا تھااوران کومدد کے لیےبھیجاتھا کہ ان سے مشورہ لیاکرنا کیوں کہ وہ دشمن کو فریب دیے والے اور جہاد کرنے والے ہیں ۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوعمرنے ان کو اسی طرح ذکرکیاہےکہ عرفجہ ابن خزیمہ ہیں میں نے اس کو بہت سے ان صحیح نسخوں میں دیکھاہے جو کہ نہایت معتبرہیں کہ خزیمہ غلط ہے بلکہ وہ ہرثمہ ہیں اوریہ وہی شخص ہیں جن کو عتبہ بن غزوان کی مدد کے لیے حضرت عمرنے بھیجاتھااورابوبکرصدیق نے بھی عمان میں اس سے جیفربن جلندی کومدد دی تھی (یہ اس وقت)کہ جب وہاں کے لوگ لفیط بن مالک ازدی صاحب تاج کے ساتھ مرتد ہوگئے تھے اورعرفجہ کے ساتھ حذیفہ بن محصن علقبانی اورعکرمہ بن ابی جہل تھے پس انھوں نے مرتدوں پر فتح پائی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرفجہ ابن اسعد رضی اللہ عنہ

  بن کرب تمیمی ہیں اس کو ابن مندہ اورابونعیم نے کہاہے اورابوعمرنے کہاہے کہ عرفجہ بن اسعدبن صفوان تمیمی ہیں یہ بصری تھےیہ وہی شخص ہیں کہ ایام جاہلیت میں واقعہ کلاب کے دن ان کی ناک کوصدمہ پہنچاتھاہم کوابومنصور بن مکارم مودب نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوالقاسم یعنی نصربن صفان نے اپنی سند کو معافی بن عمران تک پہنچاکرخبردی انھوں نے ابوالاشہب سے انھوں نے عبدالرحمن بن طرفہ بن عرفجہ سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے ان کے دادانے جاہلیت کازمانہ پایاتھااوران کے داداکی ناک واقعہ کلاب میں کٹ گئی تھی توانھوں نے چاندی کی ناک لگالی تھی وہ بدبوکرنے لگی(انھوں نےکہا)مجھ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ سونے کی ناک لگالوں اوراس حدیث کوہاشم بن بریداورابوسعیدصنعانی نے ابوالاشہب سے اپنی سند کے ساتھ نقل کرکے اس کے مثل روایت کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرس ابن قیس رضی اللہ عنہ

   بن سعیدبن ارقم بن نعمان کندی ہیں ان کا صحابہ میں ذکرکیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے اورکہاہے کہ میں ان کو نہیں جانتاہوں بعض لوگوں نے کہاہے کہ عبداللہ بن زبیر کے فتنہ میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرس ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ

   کندی ہیں عدی بن عمیرہ کے بھائی تھےان کا نسب ان کے بھائی عدی کے تذکرہ میں گذر چکاہےان سے ان کے بھتیجےعدی بن عدی بن عمیرہ نے روایت کی ہے۔ان کی حدیث اہل شام سے مروی ہےان سے زہدم بن حارث نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے مجھ پرقصداًجھوٹ باندھاپس اس کو چاہئے کہ اپنی جگہ دوزخ میں تلاش کرے۔اورعدی بن عدی نے عرس سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ عورتوں کی تزویج میں عورتوں ہی سے مشورہ لو۔اوریہ حدیث عدی سے روایت کی گئی ہے اورانھوں نے اپنے والد عدی بن عمیرہ سے انھوں نے عرس سے روایت کی ہے۔اورعدی بن عمیرہ اورعدی بن عدی کی نسبت میں کچھ کلام ہے وہ پہلے گذرچکاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

مفتی غلام حسین نقشبندی

مفتی غلام حسین نقشبندی  کانپوری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی  غلام حسین نقشبندی عیسیٰ خیلوی ثم کانپوری۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مفتی غلام حسین بن شیخ محمد بن شیخ ابراہیم۔(علیہم الرحمہ)آپ تحصیل "عیسیٰ خیل"ضلع میانوالی پنجاب پاکستان میں پیداہوئے۔ تحصیلِ علم: ناظرہ قرآن مجید فن صرف و نحو اور ابتدائی علوم کو اپنے شہر میں  مولانا شیخ و لایت سے پڑھ کر طلب ِعلم کے لئے "سہارنپور" کا پیدل  سفر کیا۔ پھر وہاں سے کانپور تک ریل گاڑی میں سوار ہوئے، اور مولانا احمد حسن کانپوری رحمۃ اللہ علیہ  سے درسی کتابیں پڑھ کر1308ھ  میں  فراغت کی سند حاصل کی۔ اور ایک مدت تک ان کی خدمت کرتے رہے، پھر کانپور میں سکونت اختیار کر کے طویل مدت تک لوگوں کو مسجد سید محمد علی بن عبدالعلی کانپوری میں پڑھاتے اور فائدے پہنچاتے رہے۔ بیعت وخلافت: آپ شیخ سراج الدین  نقشبندی "موسیٰ۔۔۔

مزید

سیّدنا عرباض ابن ساریہ رضی اللہ عنہ

   سلمی ہیں ان کی کنیت ابونجیح تھی۔ان سے عبدالرحمن بن عمرواورجبیربن نفیراور خالد بن معدان وغیرہم نے روایت کی ہے یہ شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوبکریعنی محمد بن عبدالوہاب بن عبداللہ معروف بابن شیرجی دمشقی وغیرہ نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں حافظ ابوالقاسم یعنی علی بن ہبتہ اللہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالعلاء یعنی احمد بن مکی بن حسنویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابومنصور یعنی محمدبن احمد بن  علی شکرویہ نے خبردی وہ کہتےتھےابوعبداللہ یعنی محمدبن ابراہیم بن جعفرنبردی نےبیان کیاوہ کہتےتھےہم سے اصم نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد بن فرج حمصی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بقیہ بن ولیدنے بجیربن سعدسے انھوں نے خالد بن معدان سے انھوں نےعبدالرحمن بن عمروسے انھوں نےعرباض بن ساریہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نہایت بلیغ نصیحت فرمائی(کہ جس کی وجہ سے) آن۔۔۔

مزید

سیّدنا عرابہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

   کے والدتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے ان کی سندوں میں ان کا ذکر ہے اوراس سے زیادہ ان کی نسبت اورکچھ نہیں بیان ہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرابہ ابن شماغ رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ۔یہ اس تحریرمیں گواہ تھے جس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن حضرمی کے لیے بحرین بھیجنے کے وقت لکھدی تھی۔اس کودباغ نےاس میں ذکرکیاہے کہ جس میں ابوعمر پر استدراک کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرابہ رضی اللہ عنہ

  ابن اوس بن قنیطی بن عمروبن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری اوسی پھرحارثی ہیں ان کے والداوس بن قنیطی ان منافقوں کے سرداروں میں سے تھے جو کہتےتھے کہ ان بیوتناعورۃ۱؎اور ابن اسحاق نےذکرکیاہےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواحد میں بوجہ کم سنی کے چنداورلوگوں کے ہمراہ جن میں ابن عمراوربراء بن عازب بھی تھے واپس کردیاتھایہ عرابہ اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھےبڑے سخی تھے سخاوت میں عبداللہ بن جعفر اورقیس بن سعد بن عبادہ کے مقابل سمجھے جاتے تھے۔ابن قتیبہ اورمبردنےذکرکیاہے کہ (ایک مرتبہ)عرابہ نے شماخ شاعرکودیکھاوہ مدینہ جارہاتھااس سےپوچھاکہ مدینہ کیوں جاتے ہو اس نے کہااپنے گھروالوں کے واسطے غلّہ لینے جاتاہوں اس کے ساتھ دواونٹ تھے پس انھوں نے چھوہارےاورگیہوں سے ان کوبھردیااوراس کوکپڑے پہنادیےاوراس کی بڑی عزت کی پس وہ مدینہ سے (اپنے مکان)چلاگیااوران کی اپنےاس۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن ہمام رضی اللہ عنہ

   بن مرہ بن حجر بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ بن حارث اصغربن معاویہ کندی ہیں ابوعائذ ان کی کنیت تھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوکرآئےتھے اس کوابن دباغ نے ابن کلبی سے نقل کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید