بن عبدالرحمن کے والد ہیں اور ابن ابی برہ کے بیٹے ہیں ان کا تذکرہ لوگوں نے لکھاہے۔ ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے میں کہتاہوں کہ ان کاتذکرہ ابن مندہ نے عبدالرحمن بن ابی سبرہ کے نام میں لکھا ہے اور یہ اپنی کنیت سے مشہوربھی نہیں ہیں کہ کنیت کے ترک ہوجانے سے ابن مندہ پراستدراک کیا جائے۔علاوہ ازیں ابن مندہ وغیرہ نے ان کا تذکرہ لکھ کر یہ بھی کہاہے کہ یہ خثیمہ کے والد ہیں۔ان کی کنیت ابوخثیمہ نہیں لکھی۔پس ابن مندہ پراستدراک نہیں ہوسکتا انشاء اللہ عبدالرحمن بن ابی سبرہ کے تذکرہ میں وہ باتیں آئیں گی جن سے معلوم ہوجائے گا کہ خیثمہ کے والد یہی عبدالرحمن ہیں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
تیمی اوربعض نے ان کو عبداللہ بیان کیاہے مگرعبدالرحمن صحیح ہے۔ہم کو ابن ابی حبہ نے اپنی سندکوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی کہ وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے شیبان بن حاتم یعنی ابوسلمہ غنوی نے جعفر بن سلیمان صبعی سے انھوں نے ابونیاح سے نقل کرکے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمن بن خنیش سے پوچھاوہ اس وقت بہت بوڑھے تھے کہ کیا آپ نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا انھوں نے کہا کہ ہاں دیکھا تھا پھرمیں نے پوچھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کو جس میں شیاطین ان کے ساتھ فریب کرنے چاہتے تھے کیاکیا توعبدالرحمن بن خنیش نے کہاکہ شیاطین پہاڑوں کے دروں اورنالوں سے (نکل نکل کر) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو جلاناچاہتا تھا۔اسی اثناء میں جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اورکہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیے حضرت نے فرمایاکیاکہوں جبر۔۔۔
مزید
کے والد تھے۔بخاری نے ان کو صحابہ میں اوردوسرے لوگوں نے تابعین میں ذکرکیاہے۔ عبدالرزاق سے معمرنے انھوں نے خلاد سے انھوں نے اپنے والد عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ غزوۂ تبوک میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا اور فرمایا کیا تم لوگوں کو اس آدمی کی خبردوں جو اللہ تعالیٰ کوزیادہ محبوب ہے تو ہم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب کسی شخص کا نام بتائیں گے اور کہاہاں فرمائیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں میں زیادہ محبوب ہے وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔موسیٰ کے والد ہیں۔حعید بن عبدالرحمن نے موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے محمد بن کعب قرظی کواپنے والد سے پوچھتے ہوئے سنا کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے قماربازی کی بابت کیاسناہے ان کے والد نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱؎یہ ایک نہایت لطف وکرم کاخطاب ہے تمام گناہوں کی بخشش کاپروانہ ہے ایسالطف وکرم کا خطاب صرف اسی شخص کے ساتھ ہوتاتھاجسکی آئندہ زندگی کی حالت اللہ ورسول نے جانچ لی ہوتی تھی اہل بدرکے لیے بھی اس قسم کاجملہ ارشادہواہے کہ اب جوچاہے کرو میں تمھیں بخش چکا۱۲۔ فرمایاجس آدمی نے جواکھیلا پھرنمازاداکرنےکےلیےکھڑا ہواتو اس کی حالت مثل اس شخص کے ہے جوپیپ سے وضوکرے اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ نماز اس کی مقبول نہ ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے اورابوموسیٰ نے عبدالرحمن بن حبیب خطمی کا تذکرہ لکھا ہے حالاں کہ ان کا تذکرہ اوپرہوچکا مگر ان کے تذک۔۔۔
مزید
ہیں ان کی کنیت ابولیلی ہے۔علی مرتضیٰ کے ساتھ واقعہ صفین میں موجود تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان کی حدیث عبداللہ بن نافع زرگرکے واسطے سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے انھوں نے معاذ بن عبدالرحمن جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ بیشک رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا اپنادایاں بایاں پہچاننے لگے تواس کو نماز کا حکم کرو۔یہ حدیث کسی دوسری سند سے معلوم نہیں ہوتی اس کو ابوعمرنے بیان کرکے کہاہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تومیں ان عبدالرحمن کو عبداللہ بن حبیب کابھائی سمجھتاہوں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اور بعض نے ابن خباب بن ارت بیان کیا ہے یہ اہل بصرہ میں شمارکیے گئے ہیں اور ان کا صحابی ہوناثابت نہیں ہم کواسمعیل بن علی اورابراہیم بن محمد نے اپنی سند سے جوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچتی ہے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا انھوں نے سکن بن مغیرہ سے جوآل عثمان کے غلام تھے انھوں نے ولید ابن ہشام سے انھوں نے فرقد ابی طلحہ سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن خباب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس حاضرہوا اس وقت آپ غزوہ جیش العسرت(یعنی غزوہ تبوک یہ جیش العسرت کے نام سےاس وجہ سے مسمی ہواکہ نہایت قحط سالی اور بے سروسامانی میں ہواتھا) کا سامان مہیافرمارہے تھےتوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یارسول اللہ اس کی مدد کے واسطے)سواونٹ مع نمدہ وکاٹھی کے اللہ کی راہ میں میں نے دیے پھرآپ نے اوررغبت دلائی تو حضرت ۔۔۔
مزید
بن مغیرہ قریشی مخزومی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاتھا اور آپ کودیکھابھی تھا ان کے والد بھی صحابی تھے۔ان کی والدہ اسماء بنت اسد بن مدرک خیثمی تھیں۔ ان کی کنیت ابومحمد تھی قریش کے شہسوار اور بہادروں میں سے تھے اور صاحب فضل وہ کرم و نیک سیرت تھے۔لیکن حضرت علی مرتضیٰ اوربنوہاشم سے منحرف تھے بوجہ اس کے کہ یہ اپنے بھائی مہاجر بن خالد کے مخالف تھے اور مہاجرحضرت علی کے محب تھے۔ان کے ساتھ واقعہ جمل و صفین میں شریک تھے (پس ضرورہوا کہ یہ حضرت علی مرتضیٰ سے احترازکریں)یہ عبدالرحمٰن واقعہ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔اورحمص میں سکونت اختیارکی تھی واقعہ یرموک میں اپنے والد کے ساتھ تھے اور حضرت معاویہ نے ان کو غزوۂ روم میں عامل بنایاتھا اہل روم کے ساتھ انھوں نے خوب جنگ کی ۔جب عباس ابن ولید حمص میں حاکم ہوئے توانھوں نے اہل حمص کے سرداروں سے کہا کہ جس قدر تم عبد۔۔۔
مزید
ا۔کلدہ بن حنبل کے بھائی ہیں یہ اور ان کے بھائی کلدہ اور یہ دونوں صفوان بن امیہ کے اخیانی بھائی ہیں ا ن کی والدہ صفیہ بنت معمر ابن حبیب بن وہب ہیں قبیلۂ جمح کے تھے۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ دونوں صفوان کے بھانجے تھے ان دونوں کی والدہ صفیہ بنت امیہ بن خلف تھیں اسی وجہ سے کلدہ صفوان کے پاس رہتے تھے ان کی خدمت کیاکرتےتھے کبھی ان سے جدا نہ ہوتے تھے ان دونوں کے والدیمن سے مکہ میں آکے رہے تھے انشاءاللہ تعالیٰ ان کے بھائی کلدہ کے تذکرہ میں یہ سب حال بیان کیاجائے گا عبدالرحمٰن کی کوئی روایت معلوم نہیں انھوں نے حضرت عثمان کی شان میں یہ اشعارکہتے تھے یہ حضرت عثمان سے کچھ منحرف تھے اگرچہ اس انحراف پر یہ قائم نہیں رہے(وہ اشعار یہ ہیں) ؎ ۱؎ اقسم باللہ رب العباد  ۔۔۔
مزید
ہیں حمید کے والد ہیں۔ابن مندہ نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا ان سے ان کے بیٹے حمید نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ ۱؎پس کیا تم ہماری حالت کاتدارک کرسکتے ہو اور٘اپنی رعیت سے فساد دورکرسکتے ہو ٘اورایسے شخص کومعزول کرسکتےہو جوہمیشہ اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتاہے ٘اوراپنی کج فہمی سے شہروں کوویران کئے ڈالتاہے٘ جب اس سے کہو کہ اپنی خواہش نفسانی کوترک کر ٘تواس کی گمراہی اوربڑھ جاتی ہے٘۱۲۔ ۲؎ ترجمہ اے نبی جب یہ لوگ کوئی تجارت یاکھیل دیکھتے ہیں تو تم کو(خطبہ پڑھتے ہوئے)کھڑاچھوڑکرچلے جاتے ہیں۔ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوشخص پکاریں تو اس کے پاس جاؤ جوبہ نسبت دوسرے کے تم سےقریب ہو اس وجہ سے کہ جس کا دروازہ قریب ہو وہی پڑوس کا زیادہ حق دار ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید