بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

پسنديدہ شخصيات

خواجہ خدا بخش سید پوری

حضرت خواجہ خدا بخش سید پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حکیم فقیر محمد رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد بنے شاہ بن سیّد شیرشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔والدہ کا نام مائی نصیباں تھا۔ فنِ طبابت آپ کو فن طبابت میں خاصی مہارت تھی۔یونانی اور ڈاکڑی طریقہ علاج کےماہر تھے۔فن جرّاحی کے خوب ماہر تھے۔حکیم نورمحمد جراح چنبھلی رحمتہ اللہ علیہ جو آجکل مشہور جرّاح ہے۔وہ آپ کا شاگرد ہے۔ شعر خوانی آپ یہ اشعار پڑھاکرتے؂ اگرروزی بدانش برفزددے زناداں تنگ ترروزی بنودے بناداں آنچناں روزی رساند کہ دانااندراں حیراں بماند بیویاں آپ کی دوبیویاں تھیں۔ ۱۔مسمات راج بی بی قوم بھاگت۔ساکن بھاگت۔اس کے بطن سے تین بڑے بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ۲۔مسمات بیگم بی بی دختر راجہ ماچھی ساکن پنڈی کالو۔اس کے بطن سے دوچھوٹے بیٹے پیداہوئے۔ اولاد آپ کے پانچ بیٹے ہوئے۔ ۱۔حکیم نذیر حسین رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔صاحبزادہ بشیر حسین رحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔صاحبزادہ زبیرحسین۔ یہ تینوں فوت ہوچکے ہیں۔ ۴۔۔۔۔

مزید

سیّد فضل حسین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد بنے شاہ بن سیّد شیرشاہ کے تیسرے بیٹے اورمریدتھے۔والدہ کانام مائی نصیباں تھا۔ اخلاق و معمولات آپ خوش خلق ۔مسکین خو۔حلیم الطبع۔پارسا تھے۔مسکرات سے نفرت رکھتے ۔پیشہ زراعت کرتے۔فقیرانہ شوق رکھتے۔شریعت کے پابند تھے۔تلاوت قرآن مجید بلاناغہ کرتے۔نمازپنجگانہ اور نوافل تہجداداکرتے۔رمضان شریف کے روزے رکھتے۔ایک مرتبہ متواتر ایک سال تک  نفلی روزے رکھتے رہے۔کلمہ طیّبہ او درود  شریف  ہزارہ  کا  وظیفہ  کیاکرتے۔روزانہ درگاہِ عالیہ نوشاہیہ کی زیارت کیاکرتے۔ اولاد آپ کانکاح سیّد ہ رسول بی بی بنت سیّد دیوان شاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ ساکن چک سادہ سے تھا۔ان کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے تین بیٹے ہوئے۔ ۱۔صاحبزادہ سعدی حسین۔ ۲۔صاحبزادہ گل محمد یہ دونوں بچپن میں فوت ہوگئے۔ ۳۔صاحبزادہ مشتاق حسین سلمہ اللہ۔یہ اس وقت موجودہے۔پابندشریعت خوش اخلاق ہے۔ میرے والد بزرگوار ا۔۔۔

مزید

سیّد محمد حسن رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد بنے شاہ بن سیّد شیرشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرےبیٹے تھے۔والدہ کانام مائی نصیباں تھا۔ شجرہ بیعت آپ کی بیعت سلسلہ قادری میرشاہی میں تھی۔اس لیے نوشاہی سلسلہ کے فقیروں میں شمارنہ ہوتے تھے۔ آپ سیّد جوائے شاہ مجذوب ساکن کُلّے وال متصل لالہ موسےٰ کے مریدتھے۔وہ مرید سیّد جلے شاہ کے۔وہ مرید شیخ کیسر شاہ دایانوالی (متوفی ۱۲۸۱ھ؁) کے وہ مرید اپنے والد شیخ غلام حسین ساکن دایانوالی کے۔وہ مرید شیخ عبدالکریم المعروف بھاون شاہ لاہوری(متوفی ۱۲۱۳ھ)کے۔ وہ مرید اپنے والد شاہ بُلّاق لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید شاہ عبدالرشید لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید شیخ محسن شاہ کے وہ مریدشیخ محمد المعروف مُلّا شاہ لاہوری کے وہ مریدمیاں میرلاہوری کے۔وہ مرید شاہ خضر سیوستانی کے ۔وہ مرید سیداحمد کے وہ مریدشیخ عابد کبیرکے۔وہ مریدشاہ ابوالقاسم کے۔وہ مرید شیخ موسےٰ حلبی کے۔وہ مرید شاہ ابوبکرکے۔وہ مرید۔۔۔

مزید

میاں فیروزالدین چشتی

حضرت میاں فیروزالدین چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّد محمد حسین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد بنے شاہ بن سیّد شیرشاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ تھے۔آپ کی والدہ کا نام مائی نصیباں تھا۔ اخلاق و عادات آپ کے اخلاق اچھے تھے۔ادب وہدایت میں خاص مرتبہ رکھتے۔جس مجلس میں بیٹھتے۔درویشی گفتگوکیاکرتے۔فقرکے رموزاشارات سے واقف تھے۔حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے بہت محبّت رکھتے۔ان کا ذکراذکارکیاکرتے۔طریق ملامتیہ رکھتے۔کتاب آب حیاتی مصنّفہ سیّد عمربخش بن سیّد محمد بخش برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ اور سیحرفیہائے سخی امام شاہ وزیرآبادی رحمتہ اللہ علیہ کا مطالعہ رکھتےاوران کے معارف کو پسندکیاکرتے۔ ارشادات آپ کے بعض اقوال یہ ہیں۔ ۱۔فرمایاکرتے       غوثوں قطبوں سے فقیر بہترہوتاہے۔ ۲۔فرماتے                   وقت ضائع کرنامنعہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّد محمدعلی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد فضل الدین بن سیّد حیدرشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔نیک اوصاف والے محترم بزرگ تھے۔مدّت العمر پیشہ کاشتکاری کرتے رہے۔سفید ریش تھے۔رَن مل میں سکونت رکھتے۔ اولاد آپ کانکاح سیّدہ حسین بی بی بنت سیّد گلاب شاہ بن سیّد سکندرشاہ ہاشمی ساکن چک سادہ سے ہواتھا۔ان کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے دو بیٹے ہوئے۔ ۱۔سید عاشق حسین۔ ۲۔سیدمحمد حسین مرحوم لاولد۔ سیّد عاشق حسین اس وقت زندہ ہیں ۔ان کا نکاح سیّدہ نورفاطمہ بنتِ سید محمد شاہ بن سیّد گلاب شاہ ہاشمی ساکن چک سادہ سے ہوا۔اس سے ایک لڑکاصاحبزادہ عارف حسین نام موجودہے۔ سیّد محمد علی رحمتہ اللہ علیہ صاحب ِ ذکرہذاکی دوبیٹیاں ہوئیں۔ ۱۔سیّدہ حیات بیگم۔منکوحہ سیّد محمد حسین بن سیّد میراں بخش ہاشمی ساکن چک نمبر۱۴۔ ۲۔سیّدہ شاہ بیگم۔منکوحہ سیّد فضل حسین بن سید غلام حسن برخورداری ڈھلوالہ رحمتہ اللہ علیہ ساکن ساہنپال شریف۔ تاریخ وفات سید محمد ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن کعب۔ یہ اسلع کے لقب سے مشہور ہیں۔ علی بن سعید عسکری نے صہابہ میں ان کا نام لکھاہے بشرط یہک ہ محفوظ ہو۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا حال اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن کعب بن عمروبن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔ انصاری بخاری ثم المازنی۔ نبی ﷺ کی صحبت سے شرفیاب تھے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ کلبی نے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس بن عمیرہ اسدی۔ جب یہ اسلام لائے تو ان کے نکاح میں آٹھ بی بیاں تھیں۔ بعض لوگ ان کو قیس بن حارث کہتے ہیں ان سے صرف ایک حدیث مروی ہے وہ بھی کسی صحیح سند سے مروی نہیں ہے۔ ان سے خمیصہ بن شمرول نے روایت کی ہے ہمیں ابو احمد یعنی عبد الوہاب بن علی بن سکینہ نے اپنی سند سے ابودائو دیعنی سلیمان بن اشعث تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے مسدد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہشیم نے بیان کیا نیز ابودائود کہتے تھے ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ہشیم نے ابن ابی لیلی سے انھوں نے خمیصہ بن شمرول سے انھوں نے حارث بن قیس سے روایت کر کے خبر دی کہ مسدد بن عمریوہ کہتے تھے کہ وہب اسعدی نے بیان کیا کہ حارث کہتے تھے جب میں اسلام لایا تو میرے نکاح میں آٹھ عوریں تھیں میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے چار رکھ لو۔ اس حدیث کو حمید بن ابراہیم نے ہشیم سے روایت کیا ہے اور انھو۔۔۔

مزید