منگل , 04 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 21 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیدنا) حجر (رضی اللہ عنہ)

  عددی۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ انھوں نے اپنی سند سے ابو عیسی ترمذی سے انھوں نے قاسم ابن دنیار سے انھوں نے اسحاق بن منصور سے انھوں نے اسرائیل سے انھوں نے حجاج بن دنیار سے انھوں نے حکم بن حجل سے انھوں نے حجر عدوی سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہس ے فرمایا کہ ہم نے عباس کی زکوۃ لے لی۔ میں کہتا ہوں کہ ابو عیسی نے اپنی کتاب جامع میں اسی سند سے جس کو ابو موسی نے ذکر کیا ہے اس حدیث کو روایت کیاہے ور اس میں اس قدر بات زیادہ ہے کہ حجر عدوی نے حضرت علی سے روایت کی اور ترمذی نے عبداللہ بن عبدالرحمن سے انھوں نے سعید بن منصور سے انھوں نے اسماعیل بن زکریا سے انھوں نے حجاج بن دنیار سے انھوں نے حکم بن عینیہ سے انھوں نے حجر عدوی سے انھوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ حضرت عباس نے رسول خدا ﷺ سے درخواست کی کہ میرا صدقہ قبل از وقت لے لیا جائے حضرت نے انھیں اس کی اجازت دے دی ابو ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجر (رضی اللہ عنہ)

  کنیت ان کی ابو عبداللہ۔ ان سے ان کے بیٹے عبداللہ نے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ کے پیچھے (ایک مرتبہ) نماز پڑھی (تو تسبیحات وغیرہ میں نے بلند آواز سے کہیں) آپ نے فرمایا کہ اے حجر اللہ کو سنائو اور مجھے نہ سنائو۔ نسانی نے ابن قانع سے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجر ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن ربیعہ بن وائل۔ والد ہیں وائل بن حجر حضرمی کے ان سے صرف ایک حدیث مروی ہے اس میں اعترض ہے ہشیم نے عبد الجباربن وائل بن حجر سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے رویت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا ﷺ کو پیشای اور ناک کے بل سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ابو عمر نے کہا ہے کہ اگر یہ قول وہم نہیں ہے تو یہ حجر صحابی ہیں اور اگر یہ قول غلط ہے تو یہ حدیث ان کے بیٹے وائل کی ہوگی ان کے صحابی ہونے میں اختلاف نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے میں کہتا ہوں کہا س حدیث میں ان کے دادا کا ذکر وہم ہے اور غلط ہے یہ حدیث وائل اور ان کے بیٹے کی روایت سے مشہور ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  ابن مبنہ بن حجاج بن حذیفہ بن عامر سہمی۔ ابن قانع نے اپنی سند سے ابراہیم بن مبنہ ابن حجاج سہمی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جس کو تم دیکھو کہ ابوبکر و عمر کا ذکر بری طرح کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ دین اسلام کے سوا اور کسی دین کو چاہتا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو علی نسانی لکھا ہے (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  ابن مسود۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ یہ وہم ہے اور انھوں نے بواسطیہ ابودائود طیالسی کے شعبہ سے انھوںنے حجاج بن حجاج سلمی سے انھوں نے اپنے والد ے انھوں نے نبی ﷺ کے ایک صحابی سے جن کو میں حجاج بن مسعود سمجھتا ہوں رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جب گرمی زیادہ پڑنے لگے تو نماز ٹھنڈک میں پڑھو یوں کہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ ہمیںابو یاسر یعنی عبد الوہاب بن ہتہ اللہ نے اپنی سند سے عبداللہ ابن احمد بن حنبل تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والدنے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں شعبہ نے خبر دی وہ کہتے تھے میں نے حجاج بن حجاج سے سنا وہ ان لوگوں کے امام تھے اپنے والد سے نقل کرتے تھے ان کے والد نے رسول خدا ﷺ کے ہمراہ حج کیا تھا وہ نبی ﷺ کے ایک صحابی سے نقل کرتے۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  بن مالک بن عویمر بن ابی اسید بن رفاعہ بن ثعلبہ بن ہوازن بن اسلم بن افصی اسلمی۔ اور بعض لوگ ان کو حجاج بن عمرو اسلمی کہتے ہیں مگر پہلا ہی قول صحیح ہے یہ مدنی ہیں۔ مقام عرج میں فروکش تھے ان سے صرف ایک مختلف فیہ حدیث مروی ہے کہ سفیان بن عینیہ نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حجاج سے رویت کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ سے پوچھا کہ حق (٭اہل عرب کا دستور تھا کہ جب چبچہ کا دودھ چھڑاتے تھے تو مرضعہ کو اس کی مقررہ اجرت کے علوہ بھی کچھ دے دیتے تھے تاکہ اس کا حق ادا ہو جائے اسی کے متعلق انھوں نے پوچھا کہ کیا چیز دینا چاہئے جس یں پوری طرح حق ادا ہو جائے) رضاعت مجھ سے کیوں کر ادا ہوسکتاہے حضرت نے فرمایا کہ ایک غلام یا ایک لوندیکے دینے سے اور لوگوںنے فیان کی مخافلت کی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن اہمد بن علی وغیرہ نے خبر دی وہ اپنی سند سے ابو عیسی ترمذی سے روایت کرتے تھے کہ انھو۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس بن عدی سہمی۔ چچا ہیں عبداللہ بن خدافہ سہمی کے۔ انھوں نے عبداللہ بن حذافہ اور ان کیبھائی قیس بن خدافہ کے ہمراہ حبش کی طرف ہجرت کی تھی۔ ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے اسی طرح مختصر لکھا ہے اور ابو نعیم نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ حجاج بن حارث بن قیس قریشی اور کہا ہے کہ میں ان کو وہی حجاج سمجھتا ہوں جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے یعنی سہمی۔ میں کہتا ہوں کہ ابن مندہ نے ان کو حجاج بن ہارثبن قیس سہمی کے علاوہ سمجھا ہے جن کا ذکر ہم کرچکے حالانکہ یہ بلاشک وہی ہیں چونکہ ابن مندہ نے ان کے والد حارث کا ذکر نہ دیکھا لہذا انھوں نے ان کو اور کوئی سمجھ لیا اور ابو نعیم نے دونوں تذکروں سے ان کے والد کا ذکر حذف نہیں کیا اور دونوں تذکروں میں ابن زبیر اور زہری ور ابن اسحق سے ایک ہی مضمون یعنی ان کا ہجرت کرنا اور اجنادین میں شہید ہونا روایت کیا ہے واللہ اعلم اس میں شک نہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو بن غزیہ بن ثعلبہ بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار انصاری خزرجی ثم من بنی مزن بن البخار۔ بخاری نے کہا ہے کہ یہ صحابی ہیں ان سے عکرمہ مولی ابن عباس نے اور کثیر بن عبس وغیرہما نے روایت کی ہے۔ ہمیں اسمعیل بن عبید اللہ اور ابراہیم بن محمد اور ابوجعفر بن سمیں نے اپنی سند سے محمد بن عیسی بن سورہ تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کی وہ کہتے تھے ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حجاج بن صواف نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن ابی کثیر نے عکرمہ سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے حجاج بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص (کسی پرند کے پر) توڑ ڈالے یا (اس کو) لنگڑا کر دے وہ احرام سے باہر ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر دوسرا حج فرض ہوتا ہے میں نے یہ روایت ابن عباس سے اور بو ہریرہ سے بیان کی انھوں نے کہا کہ حجاج نے سچ کہا اس حدیث کو۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن علاط بن خالد بن نویرہ بن خشر بن بلال بن عبید بن ظفر بن سعدبن عمرہ بن تیم بن بہزا بن امرء القیس بن بہشہ بن تیم بن منصور سلمی ثم البہزی کنیت انک ی ابو کلاب اور بعض لوگ کہتے ہیں بو محمد اور بعض لوگ کہتے ہیںابو عبداللہ مدینہ میں رہتے تھے ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے انھوں نے وہاں ایک مسجد بنائی تھی اور ایک گھر بنایا تھا  وہ انھیں کے نام سے مشہور ہے یہ والدہیں نضر بن حجاج کے جن کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جلا وطن کر دیا تھا جب انھوں نے ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا۔ ھل من سبیل الی خرفا شربھا            ام ھل سبیل الی نضر بن حجاج (٭ترجمہ یا کوئی سبیل تم پر اب ملنیکی ہے کہ میں س کو پیوں کیا تکوئی سبیل نضر بن حجاج کے ملنے کی ہے) نضر بن حجاج بہت حسین تھے۔ حجاج اسلام لائے اور ان کا اسلام اچھا ہوا خیبر میں نبی ﷺ کے ہمرا۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ نصری۔ ہمیں ابو موسی نے کتابپ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںابو علی عدد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو نعیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن احمد بن حسن نے خبر دی وہ  کہتے تھے ہمیں محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبید بن یعیش نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن یعلی نے عبدالرحمن بن یزید بن جابر سے رویت کر کے خبر دی نیز ابو نعیم کہتے تھے ہم سے محمد بن احمد منفری نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن عبداللہ حضرمی نے خبر دی نیز ابو نعیم کہتے تھے ہم سے ابو عمر بن حمدان نے بیانکیا وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن سفیان نے خبر دی یہ دونوں کہتے تھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ابو اسامہ نے عبالرحمن بن یزید سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں مکحول نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حجاج بن عبداللہ نصری نے خبر دی وہ کہتے تھے کہ (نمازیوں کو کچھ بطور) ا۔۔۔

مزید