مولانا محمد سرفراز صاحب (ضلع مرزاپور، انڈیا) خلیفہ اعلی حضرت جناب مولانا محمد سرفراز صاحب ، آپ کو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری نے اجازت و خلافت عطاء فرمائی تھی۔ امام اہل سنت نے جو خلافت و اجازت کا اشتہار شائع فرمایا تھا اس میں مولانا محمد سرفراز صاحب ، کا ذکر بایں الفاظ موجود ہے: ’’جناب مولانا مولوی سرفراز احمد صاحب، محلہ مہکڑی کھوہ مرزا پور،،عالم واعظ مجاز طریقت‘‘۔ (تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص11) آپکےمزید حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ احباب اہل سنت سے گزارش ہے کہ جن کے پاس آپ کی معلومات ہوں وہ افادۂ عام کےلئے ’’ضیاءِ طیبہ‘‘کے ای میل ایڈریس ( info@ziaetaiba.com) پر بھیج کر اس کا ر خیر میں تعاون فرمائیں۔ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ اس کو ویب سائٹ پر (Upload) کردیں گے۔۔۔۔
مزید
مولانا محمد احمد حسن صاحب (حیدر آباد دکن، انڈیا) خلیفہ اعلی حضرت جناب مولانا احمد حسن خاں صاحب ؛ آپکو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قادری نے اجازت و خلافت عطاء فرمائی تھی۔ امام اہل سنت نے جو خلافت و اجازت کا اشتہار شائع فرمایا تھا اس میں مولانا احمد حسن خاں صاحب کا ذکر بایں الفاظ موجود ہے: ’’جناب مولانا مولوی احمد حسن خان صاحب، حیدر آباد، عالم،واعظ، مجاز طریقت‘‘۔ (تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت، ص10) آپکےمزید حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ احباب اہل سنت سے گزارش ہے کہ جن کے پاس آپ کی معلومات ہوں وہ افادۂ عام کےلئے ’’ضیاءِ طیبہ‘‘کے ای میل ایڈریس ( info@ziaetaiba.com) پر بھیج کر اس کا ر خیر میں تعاون فرمائیں۔ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ اس کو ویب سائٹ پر (Upload) کردیں گے۔۔۔۔
مزید
مولانا سید محمد آصف کانپوری اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں کے اجل خلفاء میں سے تھے۔امام اہل سنت نے اپنے خلفاء کی جوفہرست بنفس نفیس مرتب فرمائی تھی۔اس میں سید محمد آصف کانپوری کا ذکر خیرچھٹے نمبر پر بایں الفاظ موجود ہے: ’’جناب مولانا مولوی سید محمد آصف صاحب کانپور، محلہ فیل خانہ قدیم، عالم و مجاز طریقت‘‘۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص9)۔ ۔۔۔محلہ فیل خانہ، کان پور، اترپردیش انڈیا میں ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں تذکرہ: مولانا سید محمدآصف کانپوری اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے عظیم خلفاء میں سے تھے۔اعلیٰ حضرت سے انتہائی درجے کی عقیدت رکھتے تھے۔آپ اپنے مسائل اعلیٰ حضرت کی خدمت پیش کرتے۔ آپ نے میں اعلیٰ حضرتتیرہ سوالات سے پوچھے ہیں، جوفتاویٰ رضویہ مطبوعہ جدید میں موجود ہیں۔مجدد اسلام کی بارگاہ کاادب و احترام اور عقیدت کاانداز فتاویٰ رضویہ میں موجود ہے۔آپ فرماتے۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:مفتی محمودجان۔لقب:قادری،رضوی۔علاقہ،جام جودھپورکی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمودجان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔آپ کےوالدِگرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانےکےلئےحاضرہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے،تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جات۔۔۔
مزید
مولانا احمد بخش صادق تونسوی مولانا احمد بخش بن مولانا دین محمد بن مولانا عطاء اللہ بن مولانا حافظ محمد شفیع بن مولانا عبد الکریم بن مولانا عبد اللہ۔() آپ کی ولادت باسعادت 1262ھ کو ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی۔آپ کے مورث اعلیٰ بنوں سے نقل مکانی کرکے ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے، آپ ’’بہلیم ‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے ہوش سنبھالنے کےبعد اپنے نانا مولانا رحمت اللہ (مرید خاص حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی) اور والد ماجدکے حضور زانوئے تلمذ تہ کیا،اور چودہ برس کی عمرمیں تمام علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت پائی، آپ کو فقہ حنفی اور عربی ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا۔چنانچہ ایک نعتیہ قصیدہ عربی زبان میں لکھ کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی خدمت میں ارسال کیا اور استدعا کی کہ اس قصیدہ کا پہلا شعر اپنے قلم سے تحریر فرمادیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت نے آپ کی خواہش کی تکمیل فرماتے ہوئے،۔۔۔
مزید
صادق قادری رضوی ، علامہ مفتی ابو داؤد محمد،رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آفتاب ِرضویت:مقتدائے اہلسنّت،شیخ طریقت،زبدۃ العلماء،عمدۃ الاتقیاء،پیکر صدق و صفا،فخرِِ ملتِ اسلامیہ،حامیٔ سنت،ماحیِ بدعت، جبلِ استقامت، آفتاب ِرضویت،ماہتابِ شریعت، یادگارِاسلاف،سراپا تقویٰ و اخلاص،برکۃ الزامان،خلیفہ ٔ محدث اعظم پاکستان،نائبِ مصطفیٰﷺ حضرت مولانا علامہ الحاج الشیخ المفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب قادری رضوی ۔ ابتدائی حالات:حضرت نباض قوم جمادی الاخریٰ ۱۳۴۸ھ/دسمبر ۱۹۲۹ء میں محلّہ رنگپورہ (نزد جامع مسجد صدیقی) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وطن اصلی کوٹلی لوہاراں مشرقی ضلع سیالکوٹ ہے۔کوٹلی لوہاراں ہی میں ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور اسکول کی ابتدائی چند جماعتوں تک ہوئی۔آپکے والد بزرگوار شاہ محمد مرحوم کا ملازمت کے دوران ۱۹۴۵ء میں بریلی شریف تبادلہ ہوا تو مولانا موصوف بھی اپنے والدین مرحومین کے ساتھ بریلی۔۔۔
مزید