ابن یساف۔ ابن شاہین نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور عبدان نے کہا ہے کہ یہ ایک شخص ہیں اہل بدر میں سے قدیم الاسلام ہیں ان کی کوئی روایت ذکر نہیں کی گئی صرف حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اگر تم اہل بدر میں سے نہ ہوتے تو میں تمہارے ساتھ ایسا کرتا یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت عمر نے ان کو رحیم کیا۔ ابن شاہین نے ان کو حای مہملہ ک کے باب میں ذکر کیا ہے حالانکہ ان کا نام خای معجمہ مضمومہ کے ساتھ مشہور ہے۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے اور ابو نعیم نے ان کا تذکرہ حبیب کے ناموںمیں سب سے پہلے کیا ہے حبیب بن اساف کے نام میں اور کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو حبیب بن یساف کہتے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ نارنول کے باشندے تھے اور صاحب نفس مشہور تھے اکثر اوقات نارنول کے بازاروں میں گھومتے پھرتے تھے۔ آپ کا مزار بھی نارنول ہی میں ہے، آپ جس جگہ بیٹھ جاتے وہاں سے کئی کئی دن تک نہ اُٹھتے، تنہائی میں خود سے باتیں کیا کرتے کبھی گریہ و زاری کرتے، کبھی ہنستے کبھی اپنے آپ سے لڑتے جھگڑتے، کبھی دوتارہ بجا کر فارسی چٹکلے کہتے، پُرانے چیتھڑے پہنتے اور ہاتھ پاؤں میں لوہے کی زنجیریں ڈالے رکھتے، گفتگو میں آپ کا تکیہ کلام یہ تھا، خدایا آؤ، خدایا جاؤ، خدایا بیٹھو اور جس سے اور جس سے گفتگو کرتے یہ تکیہ کلام ضرور استعمال کرتے۔ جو مجھ سے مجھے چھپائے رکھے وہ جلوہ گر آشکار آقاﷺ (ذوقِ نعت) ملا محمد نارنولی کہا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے مجھ سے کہا ملا محمد تم بچپن میں اتنے سخت بیمار ہوئے تھے کہ تمہارے بچنے کی کوئی امید نہ تھی چنانچہ ہمارے محلّہ سے الہ دین مجذوب گزرا اور اس نے ایک ٹھیکری ایک آدمی ک۔۔۔
مزید
ابن وہب۔ کنیت ان کی ابو جمعہ قاری اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام حبیب بن سباع ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں حبیب بن جنید۔ انکا شمار اہل شام میں ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ نے تو یہیں لکھا ہے الور ابو نعیم اور ابو عمر نے ان کا ذکر حبیب بن سباع کے نام میں لکھاہے اور ابن مندہ نے وہاں بھی لکھاہے اور یہاں تو صرف ابن مندہ ہی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
اصل میں کالپی کے باشندے تھے۔ ابتداء ہی میں سلوک کے راستہ دیکھ چکے تھے اور راتوں کو کمزور لوگوں کے گھروں میں جاکر ان کے مٹکے بھرتے تھے۔ آخر کار ایک شخص کے ذریعہ سے آپ کو جذب کی حالت نصیب ہوئی اور گوالیا میں رہنے لگے۔ فتوح کے دروازے آپ پر کھل گئے اور دنیا والوں کے دل آپ کی طرف مائل ہوگئے۔ آپ اکثر و بیشتر استغراق کی حالت میں رہا کرتے تھے۔ ضرورت انسانی کے وقت استغراق میں تھوڑا سا افاقہ ہو جاتا تھا۔ آپ کا دستور تھا کہ کئی کئی دن بعد تھوڑے سے دانے بطور غذا کھایا کرتے اور ستر چھپانے کی حد تک لباس پہنتے تھے۔ بعض وقت ذرا سا بھی کپڑا جسم پر نہ رکھتے، عمدہ اور قیمتی لباس جب آپ کو دیا جاتا تو وہ غریبوں کو تقسیم کردیتے مالداروں سے بہت ہی کم ملاقات کرتے دل کی دنیا سے آپ کا خاص تعلق تھا، آپ کی بہت سی کرامتیں دیکھی گئیں، تصوف میں شاہ مدار کے سلسلہ میں داخل ہوئے، آپ نے بہت سے اَسرار بیان کئے ہیں بعض فاضلوں۔۔۔
مزید
دہلی کے ایک قدیم ریئس کے فرزند تھے بچپن ہی سے مجذوب تھے دنیا کے طور طریقوں سے بے پروا تھے، عجیب و غریب و غریب حالت تھی۔ اکثر اوقات بالکل برہنہ رہتے اورآپکے عضو مخصوص میں انتشار پیدا نہیں ہوتا تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مٹی کا ایک غلہ دیوار میں چِپکا ہوا ہے، روپیہ پیسہ اور کپڑے اور جو کچھ آپ کو ملتا وہ سب کا سب حاضرین اور قوالوں کو دے دیا کرتے تھے اس حالت کے باوجود آپ کی ظاہری صورت یہ تھی کہ مجلسوں میں جاتے، ہر ایک کی جانب التفات کرتے اور بڑی دلچسپ گفتگو کرتے، بعض علماء نے خواب میں دیکھا کہ شیخ حسن بودلہ دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہیں اور وضو کرارہے ہیں، بعض صاحبوں نے بیان کی کہ ہم نے شیخ حسین بودلہ کو مکہ مکرمہ میں دیکھا حالانکہ وہ دہلی میں موجود تھے۔ آپ نے تقریباً 964ھ میں وفات پائی، آپ کا مزار دہلی بازار میں خواص خاں کے مقبرے کے پاس ہے یہ خواص خاںشیر شاہ سوری کے دوست تھے او۔۔۔
مزید
ابن ملہ۔ بھائی ہیں ربیعہ بن ملہ کے رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے ھے ان کا ذکر اسید بن ابی ایاس کی حدیث میں ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے مختصر کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مسلمہ بن مالک اکبر بن وہب بن ثعلبہ بن واملیہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک ابن نظر ریشی فہری کنیت ان کی ابو عبد الرحمن بعض لگ ان کو حبیب دردب اور حبیب روم بھی کہتے ہیں اس وجہ سے کہ یہ رومیوں کے یہاں بہت جایا کرتے تھے اور ان سے فائدہ اٹھاتے تھے زبیر بن بکار نے کہا ہے کہ حبیب بن مسلمہ ایک شریف شخص تھے انھوںنے نبی ﷺ سے سنا تھا انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ واقدی نے حبیب کے صحابی ہونے سے انکار کیا ہے حضرت عمر بن خطاب نے جزیرہ کی حکومت ان کے متعلق کی تھی جب کہ عیاض بن غنم کو ان سے معزول کیا پھر ارمیںیہ اور آذربیجان بھی انھیں کے متعلق کر دیا تھا بعد اس کے ان کو معزول کر دیا تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ ان کو حضرت عمر نے حاکم نہیں بنایا بلکہ حضرت عثمان نے ان کو شام سے آذربیجان بھیجا تھا اور سلمان بن ربیعہ کو کوفہ سے ان کی مدد کے لئے ساتھ کر دیا تھا پس کوفہ کے متعلق ان دونوں م۔۔۔
مزید
ابن مروان بن بن عامر بن ضباری بن حجبہ بن کنانہ بن حرقوص بن مازن بن مالک بن عمرو ابن تمیم تمیمی مازنی۔ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے انھوںنے کہا بغیص حضرت نے فرمایا تم حبیب ہو پس آپ نے ان کا نام حبیب رکھ دیا۔ ابن کلبی نے ان کو ذکر کیا ہے اور کسی نے ان کا تذکرہ نہیں کیا۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی مرضیہ۔ عبدان نے انکو زکر کیا ہے اور کہا ہے کہ میں ان کا صحابی ہونا نہیں انتا مگریہ حدیث ان سے اسی طرح روایت کی گئی ہے ان کی حدیث یہ ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر میں ایک دبائی مقام میں قیام کیا خیبر کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جس مقام میں اترے ہیں یہ وبائی مقام ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو بلندی پر اٹھ جائیں اس کی آب و ہوا اچھی ہے۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید