آپ بہت ہی عمر رسیدہ تھے۔ ملتان سے دہلی آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ آپ نے بے انتہا سیاحت و سفر کیا اور خوب ریاضت کی، اکثر و بیشتر خاموش رہتے اور بہت ہی گم گفتگو کرتے تھے میں نے بھی آپ کی خدمت میں حاضری دی اور آپ کے طریقہ توجہ و عنایات کو خود دیکھا ہے۔ شیخ اسحٰق فرمایا کرتے تھے کہ میں اس انتظار میں ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی بیٹا عنایت کرے، چنانچہ بڑھاپے میں اللہ نے ان کو ایک لڑکا دیا، جس کی پیدائش کے بعد خود انتقال کر گئے۔ آپ کے انتقال کا واقعہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن آپ نے اپنی بیوی سے کہا گھر میں کچھ ہو تو لے آؤ تاکہ خیرات کردوں، انہوں نے جواب دیا تمہارے گھر میں کب کوئی چیز ہوئی ہے جو آج ہوگی۔ اس پر آپ نے کہا جتنی بھی ہولے آؤ چنانچہ دو تین سیر غلہ اور ایک پھٹی ہوئی چادر فقیروں کو تقسیم کی۔ اس کے بعد کہا سماع کا شوق ہے قوالوں کو بلاؤ، بیوی نے کہا تمہارے پاس ہے کیا جو قوالوں کو دو گے، آپ نے کہا۔۔۔
مزید
ابن حباشہ۔ عبدان نے بیان کیا ہے کہ یہ انصار میں سے ہیں صحابی ہیں۔ ان کی وفات نبی ﷺ کی زندگی ہی میں ہوگئی تھی ایک زخم ان کے لگ گیا تھا انھوں نے کہا ہے کہ ہم سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ رات کو دفن کئے گئے تھے پھر نبی ﷺ تشریف لے گئے تھ اور انکی قبر پر نماز پڑھی تھی۔ ۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سوا ذکر وفات کے اور کوئی حال ان کا محفوظ نہیں ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے اسی طرح لکھا ہے اور کلبی نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے حبیب بن حباشہ بن جویریہ بن عبید بن عنان ابن عامر بن خطمہ ان کے جنازہ کی نماز نبی ﷺ نے پڑھائی تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حارث۔ یہ ابو الغاویہ کے ہمراہ نبی ﷺ کے پاس ہجرت کر کے آئے تھے۔ عاص بن عمرو عفاوی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا ابو الغاویہ اور ان کی والدہ اور حبیب بن حارث یہ سب لوگ ہجرت کر کے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے اور مسلمان ہوگئے تھے ابو الغاویہ کی ماں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھے کچھ نصیحت کیجئے حضرت نے فرمایا ایسی بات نہ کرو جو کان کو بری لگے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ لالہ کے نام سے مشہور تھے۔ صاحب حال و ذوق و وجد تھے۔ اسمائے الٰہی پڑھنے کے ذریعہ آپ کو دست غیب حاصل تھا۔ آپ اکثر و بیشتر گریہ و زاری کرتے ہوئے فریاد کرتے اور نعرے لگاتے۔ آپ پر جب جزبہ و حال زیادہ طاری ہوتا تو آپ کی ظاہری وضع بدل جاتی اور آپ گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاتے تھے آپ بہت بوڑھے اور عمر رسیدہ ہوگئے تھے، آپ نے 988ھ میں وفات پائی۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن بدیل بن ورقاء ابو العباس بن عقدہ وغیرہ نے صحابہ میں ان کو ذکر کیا ہے۔ ان کی حدیث ذر بن حبیش نے روایت کی ہے یہ کہتے تھے حضرت علی (ایک روز) محل سے نکلے تو چند سواروں نے جو تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ان کا استقبال کیا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین السلام علیک یا مولانا و رحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت علی نے پوچھا کہ یہاں اصحاب نبی ﷺ سے کون کون لوگ ہیں پس بارہ آدمی کھڑے ہوگئے جن میں قیس بن ثابت بن شماس اورہاشمبن عتبہ اور حبیب بن بدیل بن وقار بھی تھے ان لوگوں نے گواہی دی کہ ہم نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ معروف جونپوری کے مرید تھے جن کے پیرومرشد مولانا اللہ داد تھے جنھوں نے کافیہ اور ہدایہ کی شرح لکھی ہے۔ آپ صاحب حال مجذوب و سالک تھے۔ سکر و جذب کی حالت آپ پر غالب تھی ابتدائے سلوک میں بڑی بڑی ریاضتیں کی تھیں۔ آپ صاحب باطن تھے اور کشف ظاہر میں اُونچا مقام رکھتے تھے جو شخص آپ کے پاس گیا اس نے آپ کی کرامتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ خود قوالی نہیں سنتے تھے اور مریدوں کو بھی قوالی سے معنوی و ظاہری پرہیز کرنے کا حکم دیا کرتے اور کہتے اگر باز کی آنکھوں پر پٹی نہ باندھیں اور اسکو شکار کرنے کی ترکیب نہ سکھائیں تو وہ جنگلی چڑیوں کا شکار کرنے لگے اور اس جب تربیت دے دیتے ہیں تو وہ کلنگ کا شکار کرتا ہے۔ قوالی کی بابت ارشاد فرماتے تھے کہ مفت اختلاف میں کیوں پڑتے ہو، اگر تقلید کرتے ہو تو سلف اور بزرگوں کی تقلید کیا کرو، اور جب آپ پر حالت طاری ہوتی تو آپ کے جسم میں آگ لگ جاتی اور بعض اوقات خون کے گھ۔۔۔
مزید
ابن اسید بن جاریہ ثقفی۔ حلیف ہیں بنی زہرہ کے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تھے یہ بھائی ہیں ابو بصیر کے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
عبادت الٰہی میں مصروف اور بہت ہی ریاضت کرتے تھے ان کو تصرف اور جلی کشف حاصل تھا۔ لوگوں میں آپ کے دوہرے بڑے مشہور ہیں جس سے دردحال ٹپکتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مہدوی عقائد رکھتے تھے باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ آپ نے 1000 کے آخری ایام میں وفات پائی۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن اساف۔ اور بعض لوگ یساف کہتے ہیں۔ انصاری ہیں بھائی ہیں بلحارث بن خزرج کے اور بعض لوگ ان کا نام خبیب خامی مجہ کے ساتھ کہتے ہیں ان کا نسب حامی مجمہ میں بیان کیا جائے گا کیوں کہ وہی نام ان کا صحیح ہے اوریہ تو بعض راویوں کی تصحیف ہے۔ وہب بن جریر نے اپنے دادا سے انھوں نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا حضرت ابوبکر حبیب بن اساف کے سیان اتر تھے جو بھائی تھے حارث بن خزرج کے اور بعض لوگ کہتے ہیں نہیں بلکہ خارجہ بن زید بن ابی زہیر کے یہاں اترے تھے جو بھائی تھے حارث بن خزرج کے۔ انک ا تذکرہ ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
شاہ جیو کے مرید تھے آپ نے ایک سوتیس سال کی عمر پائی، آپ کے والد بزرگوار سلطان غیاث الدین مندوی کے وزیر تھے، آپ عالم و عارف باللہ صاحب حال، دنیا داری سے علیحدہ تھے اور ستر چھپانے کی حد تک لباس پہنتے تھے آپ کی عمرسات برس کی تھی کہ آپ کے پیرومرشد نے آپ پر توجو کرکے اپنی جانب کھینچ لیا۔ آپ نے احمد آباد میں ایک مُردے کو زندہ کیا تھا اور اس واقعہ کے بعد آپ وہاں سے ایسے غائب ہوئے کہ پھر کسی نے آپ کو وہاں نہ دیکھا، چنانچہ احمدآباد سے روانہ ہو کر دہلی آئے۔ زیادہ تر خواجہ قطب الدین نجتیار کاکی کے مزار پر حاضر رہتے تھے۔ خواجہ صاحب کی روحانیت سے اجازت لے کر اجمیر گئے کچھ عرصہ بعد وہیں اجمیر میں انتقال کر گئے۔ کہتے ہیں کہ خواجہ معین الدین اجمیری نے اپنی اولاد میں سے کسی سے اس کے خواب میں کہا کہ شاہ نجم الدین کا زمانہ وفات قریب آگیا ہے ان کو میرے کمرے کے سامنے دفن کرنا چنانچہ میاں نجم الدین کا مزار خواج۔۔۔
مزید