ابن ابی سبرہ۔ یہ والد ہیں سبرہ بن حارث بن ابی سبرہ کے بعض لوگ ان کو سبرہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں یعنی ان کو ان کے دادا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ سبرہ کے والد یزید بن ابی سبرہ ہیں۔ والہ اعلم۔ انک ا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن زید یہ ایک دوسرے شخص ہیں۔ عبدان مروزی ین کہا ہیہ میں نے احمد بن سیار سے سنا وہ کہتے تھے کہ حارث بن زید رسول خدا ﷺ پر بہت سختی کیا کرتے تھے وہ مسلمان ہوئے اور نبی ﷺکے حضور میں حاضر ہونے کے ارادہس ے چلے ان کا اسلام مشہور نہ ہوا تھا راستہ میں عایش بن ابی ربیعہ ان کو ملے اور انھوں نے ان کو قتل کر دیا انھیں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی وما کان لوممن ان یقبل مومنا الاخطاء میں کہتا ہوں کہ ابو موسی نے ابن مندہ پر اتدراک کرنے کے لئے ان کا ذکر لکھا ہے حالانکہ ابن مندہ اس سے پہلے کے تذکرہ میں ان کا ذکر لکھ چکے تھے یہ بیٹے ہیں معیص بن عامر بن لوی کے پس کوئی وجہ اتدراک کرنے کی نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ احمد عبدالحق کے بیتے اور جانشین تھے، تقریباً چالیس برس کی قلیل عمر پائی، ہرگروہ اور مذہب سے پوری واقفیت رکھتے تھے اور تمام لوگ آپ سے خوش رہتے تھے۔ شیخ احمد عبدالحق کا کوئی لڑکا زندہ نہ رہتا تھا، ایک روز آپ کی بیوی نے آپ سے بطور شکایت عرض کیا کہ کیا ہماری قسمت میں ایک بھی بیٹا نہیں؟ جو ہوتا بھی ہے تو اللہ کا فرشتہ آتا ہے اور اسے اللہ کی رَحَمت میں لے جاتا ہے، شیخ نے فرمایا کہ ایک بیٹا ہماری قسمت میں ہے جو تجھے ملے گا، لیکن ابھی وہ پختہ نہیں ہوا ہے، روم کے سفر میں پکا کر ان شاءاللہ تمہارے حوالہ کردیا جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے کچھ کہنا نہیں اور ہمیشہ اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا، چنانچہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد آپ کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوا جس کا نام’’عارف‘‘ رکھا گیا اور عارف سے بھی ایک بیٹا ہوا جس کا نام ’’محمد‘‘ تھا جو شیخ عبدالق۔۔۔
مزید
ابن زید۔ بھائی ہیں بنی مصیص کے۔ ہمیں عبید اللہ بن احمد بن سمیں نے اپنی سند سے یونس بن بکیر سے انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے عبدالرحمن بن حارث بن عبد اللہ بن عیاش سے روایت کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ یہ آیت وما کان لمومن ان یقتل مومنا الاخطاء (٭ترجمہ کسی مومن کو یہ جائز نہیں کہ کسی مومن کو قتل کر دے مگر دھوکہ سے) تمہارے دادا عیاش بن ربعیہ کے حق میں نال ہوئی تھی۔ حارث بن زید مصیص کے بھائی تھے وہ ان کو مکہ میں بحالت شرک سنایا کرتے تھے جب اصحاب رسول خدا ھ نے ہجرت کی تو حارث مسلمان ہوگئے مگر لوگوں کو ان کے اسلام کا حال نہیں معلوم ہوا وہ بارادہ ہجرت (مکہ سے) چلے یہاں تک کہ جب بنی عمرو بن عوف کے میدان میں پہنچے تو عیاش بن ابی ربیعہ انھیں ملے وہ یہی سمجھے کہ اب بھی یہ مشرک ہیں انھوں نے ان پر تلوار چلا دی اور ان کو قتل کر دیا پس اللہت عالی۔۔۔
مزید
ابن زید بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی۔ یہ محمد بن اسحاق کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن زید بن حارثہ بن معاویہ بن ثعلبہ بن جذیمہ بن عوف بن بکر بن عوف بن انمار بن عمرو بن ودیعہ بن لکیز بن افصی بن عبد القیس۔ ربعی عبدی۔ ان کی والدہ ذوملہ بنت ردیم ہیں جو بنی ہند بن شیبان سے تھیں ان کی کنیت ابو عتاب ہے سن۲۱ھ میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ صلاح درویش کے مرید تھے اور شیخ احمد عبدالحق کی صحبت سے اودھ میں فیض یاب ہوئے تھے۔ شیخ احمد عبدالحق فرماتے ہیں کہ میں نے بکر سے پنڈوہ تک کا سفر کیا ہے اور اس تمام سفر کے دوران میری کسی مسلمان سے ملاقات نہیں ہوئی البتہ اودھ میں ایک بچّہ (مسلمان) دیکھا تھا اور جمال گوجر کی طرف اشارہ کیا۔ شیخ احمد جب اودھ میں رہتے تھے تو آپ کے پاس ایک کتیا بھی رہتی تھی، جب اُس نے بچےدیے تو شیخ احمد نے اس شہر کے تمام رئیس، حاکم اور عوام کی دعوت کی اور کھانا کھلایا، دوسرے دن شیخ جمال گوجر کی آپ سے ملاقات، ہوئی تو شیخ جمال نے شیخ احمد سے شکایت کی کہ آپ نے تمام شہر والوں کی دعوت کی اور ہمیں نہیں بلایا، آخر یہ کس گناہ کی سزا تھی، تو شیخ احمد نے آپ کو جواب دیا کہ کُتیا کی دعوت میں شہر کے تمام کتوں کو بلایا تھا اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے۔ (دنیا ایک مُردار کی مانند ہے اور اس کے طالب کُتے ہیں) اور آپ ۔۔۔
مزید
ابن زیاد۔ یہ انصاری نہیں ہیں۔ ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ حسن بن سفیان نے قیبہ سے انھوں نے لیث سے انھوں نے معاویہ بن صالح سے انھوں نے یونس بن سیف سے انھوں نے حارث بن زیاد سے روایت کی ہیک ہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے اللہ معاویہ کو کتاب و حساب سکھا دے او انھیں عذاب سے محفوط رک۔ اس حدیث کو حسن بن عرفہ نے قیتبہ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں حارث بن زیاد بھی ہیں جو رسول خدا ﷺ کے صحابی تھے مگر یہ زیادتی وہم ہے۔ اس حدیث کو اسید بن موسی نے اور آدم نے اور ابو صالح نے لیث سے انھوں نے معاویہ بن صالح سے رویت کیا ہے انھوں نے اس حدیث کو حارث سے انھوںنے ابو رہم سے انھوں نے عرباض سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ قصبہ ردولی ضلع بارہ بنکی میں حوض کے اوپر آرام فرمارہے ہیں، شیخ احمد عبدالحق فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر سے جب ردولی واپس آیا تو اگرچہ یہ میرا اصلی وطن تھا لیکن اس کے باوجود میں نے شیخ سے یہاں ٹھہرنے کی اجازت مانگی اس لیے کہ اس علاقے کے صاحب ولایت آپ ہی تھے چنانچہ میں آپ کے روضہ پر گیا اور وہاں فاتحہ پڑھی اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر تحفہ درود بھیجا اور بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ مجھے توصرف ایک جائے نماز اور ایک پانی کا گھڑا کافی ہے تاکہ یہاں قیام کرسکوں، اس کے بعد شیخ کی قبر سے آواز آئی کہ عبدالحق! حوض پر آؤ اور جائے نماز و گھڑا لے جاؤ چنانچہ میں حوض پر گیا اور حوض میں ہاتھ ڈالا تو سب سے پہلے میرے ہاتھ میں ایک گھڑا آیا وہ نکال لیا اس کے بعد ہاتھ ڈالا تو ایک پلنگ کا پراناڈھانچہ ملا اس کو بھی نکال لیا کہ شاید میرا مصلیٰ اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ اخبار ال۔۔۔
مزید
ابن زیاد انصاری ساعدی بدری۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ بدر میں نبی ﷺ کے ہمراہ شریک تھے۔ ہمیں ابو یاسر بن ابی حبہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں یونس بن محمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الرحمن بن عسیل نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حمزہ بن ابی اسید نے جن کے والد شریک غزوہ بدر تھے حارث بن زیاد ساعدی انصاری سے نقل کر کے خبر دیکہ وہ غزوہ خندق میں نبی ﷺ کے پاس گئے حضرت علیہ السلام ہجرت پر لوگوں سے بیعت لے رہے تھے انھوں نے (ایک شخص کی طرف) اشارہ کر کے کہا کہ یارسول اللہ اس سے بھی بیعت لے لیجئے آپ نے پوچھا کہ یہ کون ہے انھوں نے عرض کیا میرے چچا کا بیٹا حوط بن یزید یا یزید بن حوط ہے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے بیعت نہ لوں گا لوگ تمہاری طرف ہجرت کر کے آتے ہیں اور تم ان کی طرف ہجرت کر کے نہیں جاتے (یعنی۔۔۔
مزید