جمعرات , 28 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 16 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن تیع رعینی۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے گئے تھے اور فتح مصر میں شریک تھے۔ ان کا تذکرہ  ابن یونس نے کیا ہے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ ابن ماکولا نے لکھاہیک ہ تبیع بفتح تاے فوقانیہ و کسرہائے موحد سے اور انھوں نے کہا ہے کہ عبد الغنی نے بضم تاو فتح ہائے موحدہ بیان کیا ہے اور ابو عمر نے بھی عبد الغنی کے مثل بضم تا و فتح بابیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن بلال مزنی۔ انکا نسب بلال بن حارث کیبیان میں گذر چکا ہے حالانکہ یہ وہم ہے صحیح بلال بن حارث ہے یعنیم بن حماد نے در اور دی سے انوں نے ربیعہ بن ابی عبدلارحمن سے انھوں نے بلال بن ہارثبن بلال سے انھوں ن اپنے والد سے انھوں نے نبی ﷺ سے فسخ حج کی حدیچ میں اسی طرح رویت کی ہے۔ اس میں نعیم سے وہم ہوگیا ہے اور لوگوں ن دراوردی سے انھوں نے ربیعہ سے انھوں نے حارث بن بلال بن حارث سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ انک ا تزکرہ ابن مندہاور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن بدل سعدی۔ بعض لوگ کہتے ین یہ حارث بیٹِ ہیں سلیمان بن بدل کے۔ ان کا شمار اہل شام میں ہے تابعی ہیں ان کی حدیث عبید اللہ بن معاذ نے محمد بن عبداللہ سے شعیثی سے انھوں نے حارث سے روایتک ی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نبی ﷺ کے ہمراہ (اس رویت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس اس وقت مسلمان تھے اور مسلمانوں کے لشکر میں تھے او اس کے بعد کی رویت سے معلوم ہوتا ہے اس وقت کافر تھے اور کافروں کے ساتھ تھے یہی صحیح ہے) شریک تھا جب آپ کے اصحاب کے قدم ہٹ گئے سوا عباس بن عبد المطلب اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب کے پس رسول خدا ﷺ نے ایک مٹھی مٹی ہماری طرف پھینکی ہم لوگون کے پیر اکھڑ گئے اور ہمیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ تمام شجر اور حجر ہمارے پیچھے چلے آرہے ہیں۔ بکر بن بکار نے شعیثی سے انھوں نے حارث بن سلیم بن بدل سے رویت کیہے ہ انھوں نے کہا حنین میں ہم مشکروں کی طرف تھے نبی ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں مشرکوں کی طرف پ۔۔۔

مزید

(سیدنا) ہارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن اوس۔ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ ان کا تزکرہ ابو موسی نے ابن شاہینس ے رویت کیا ہے او رکہا ہے ہ میں ان کو حارث بن اوس سمجھتا ہوں جن کاذکر کتابوں میں ہے واقدی نے ان کا یہی نام لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا۹ حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن اوس انصاری۔ غزوہ بدر میں شریک تھے ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ موسی بن عقبہ نے زہری سے رویت کی ہے کہ غزوہ بدر میں نبیت کی شاخ بنی عبد الاسہل میں سے حارث بن اوس شریک تھے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے میں کہتا ہوں کہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے حارث بن اوس کے چار تذکرہ لکھے ہیں ایک حارث بن اوس بن معاذ جو سعد بن معاذ کے بھائی ہیں دوسرے حارث بن اوس بن نعمان نجاری جو کعب کے قتل میں شڑیکت ھے تیسرے حارث بن اوس بن رافع انصاریجو غزوہ احد میں شہید ہوئے چوتھے حارث بن اوس جو بنی نبیت کی شاخ بنی عبد الاشہل س تھے پس یہ چار تذکرے لکھے ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ سب ایک ہیں کیوں کہ حارث بن اوس بن معاذ بھتیجے ہیں سعد بن معاذ کے ور وہی بنی عبد الاشہلس ے بھی ہیں اور عبد الاشہل ایک شاخ ہے بنی نبیت کی جیسا کہ ہم ان کے نسب میں ذکر کرچکے ہن بدر میں بھی یہ شریکت ھے اور غزوہ احد میں شہید ہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن اوسی۔ انصاری۔ یہ بیٹے ہیں رافع کے اور بعض لوگ کہتے ہیں بیٹِ ہیں ان بن رافع کے غزوہ احد میں شہید ہوئے یہ عروہ اور موسی بن عقبہ کا قول ہے اور ان لوگوں نے کہا ہے کہ غزوہ احد میں انصار کے قبیلہ بنی نبیت کی شاخ بنی عبد الاشہل سے حارث بن اوس شہی دہوئے تھے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے جو اوپر گذر چکا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن اوس بن نعمان نجاری۔ محمد بن مسلمہ کے ہمراہ کعب بن اشرف (یہودی۹ کے قتل میں شڑیک تھے ان دونوں کو نبی ﷺ نے اس کے قتل پر مامور فرمایا تھا۔ عروہ بن زبیر نے کہا ہے کہ سعد بن معاذ نے حارث بن اوس بن نعمان کو جو بنی حارثہ کے بھائی تھے محمد بن مسلمہ کے ہمراہ کعب بن اشرف کی طرف بھیج تھا جب انھوں نے ابن اشرف کو مارا تلوار کی نوک ان کے یر میں لگ گئی اور ان کے ساتھی ان کو اٹھا کے لائے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ میں کہتاہوں کہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے جو ان کو نجاری لکھا ہے یہ تصحیف ہے کیوں کہ بنی نجار خزرج کی شاخ ہے اور کعب بن اشرف کے قتل میں کوئی خزرجی شریک نہ تھا اس کو تو اوس کی ایک جماعت نے قتل کیا ہے۔ بعض لوگوں نے ان کو حارثی رویت کیا ہے شید انھوں نے ان کو نجاری سمجھا یا ابن مندہ اور ابو نعیم نے کسی ایسی کتاب سے جس میں غلطی کاتبسے ان کو خزرجی لکھ دیا گیا ہو اس کے۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ۹

  ابن اوس بن معاذ بن نعمان بن امرء القیس بن بن عبد الاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو یہ بیٹے ہیں نبیت ابن مالک بن اوس کے انصاری اوسی ثم الاشہلی کنیت ان کی ابو اوس یہ بھائی ہیں سعد بن معاذ کے غزوہ بدر میں شریک تھے اور اد کے دن شہید ہوئے۔ جب یہ شہید ہوئے تو ان کی عمر اٹھائیس برس کی تھی۔ یہ ابو عمر کا قول ہے۔ اور علقمہ بن وقاص نے حضرت عائشہسے رویت کی ہے ہ انھوں نے کہا میں غزوہ خندق میں لوگوں کینشان قدم کو دیکھتی ہوئی چلی یکایک میں چلی جارہی تھی کہ میں نے اپنے پیچھے سے پیروںکیآہٹ سنی میں نے پیچھے پھر کے دیکھا تو سد بن معاذ تھے پس میں وہیں بیٹھ گئی سعد بن معاذ کے ہمراہ ان کے بھتیجے حارچ بن اوس بھی تھے۔ اس رویت سے معلوم ہوتا ہے کہ حارث جنگ احد کے بعد زندہ تھے اور یہ ان لوگوں میں تھے جو ابن اشرف (یہودی) کے قتل میں شریک تھے۔ ابن اسحاق نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ ان کا تذک۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث ابن اوس (رضی اللہ عنہ)

   بن عتیک بن عمرو بن اعلم بن عامر بن زعور ابن جشم بن حارث بن خزرج۔ انصاری اوسی زعورا عبد الاشہل کے بھائی ہیں۔ یہ حارث احد میں وا تمام غزوات میں رسول کدا ﷺ ک ہمراہ شریکت ھے اور جنگ اجنادین میں اٹھائیس جمادی الاولی سن۱۳ھ مکو ملک شام میں شہید ہوئے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن اوس ثقفی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں حارث بن عبداللہ بن اوس ثقفی۔ محمد بن سعد نے کہا ہے ہ حارث بن اوس ثقفی کا صحابی ہونا ثابت ہے انھوں ننے نبی ﷺ کسے کئی حدیثیں روایت کی ہیں اور حارث بن عبداللہ بن اوس ثقفی طائف میں رہتے تھے۔ عباد بن عوام نے حجاج بن ارطاۃ سے انھوں نیعبد الملک بن مگیرہ طائی سے انھوں نے عبدالرحمن بلیمانی سے انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے حارث بن اوس سے انھوں نے نبی ﷺ سے رویت کی ہے ہ آپ نے فرمایاجو شخص حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کو آخری طواف کعبہ کرنا چاہئے۔ اس حدیث کو علی بن عمر بن علی بن محمد مقدمی نے اور عبداللہ بن مابارک نے ور عبلارحیم بن سلیمان وغیرہم نے حجاج سے  روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ (ان کا نام) حارث بن عبداللہ بن اوس (ہے) ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید