منگل , 26 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 14 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) بذیمہ (رضی اللہ عنہ)

  علی (بن بذیمہ) کے والد ہیں۔ ان کا تذکرہ یحیی بن محمود بن صاعد نے ان لوگوں میں کیا ہے جنھوں نے نبی ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں اور انھوں نے احمد بن منیع سے انھوں نے اشعث بن عبدالرحمن سے انھوں نے ولید بن ثعلبہس ے انھوں نیعلی بن بذیمہ سے انوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ کو یہف رماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس دعا کو پڑھے اس کے بعد اس حدیث کو بیان کیا۔ صرف ابن مندہ نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

(سیدنا) بدیل(رضی اللہ عنہ)

  ان کا نسب بھی نہیں بیان کای گیا۔ صرف ابن مندہ نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگوں نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے مگر ماہرین نے انکا تذکرہ تابعن میں لکھا ہے ان سے مروی ہے کہ رسول خدا ھ کی آستین گٹے تک رہتی تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بدیل (رضی اللہ عنہ)

  ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا۔ شمار  ان کا اہل مصر میں ہے۔ ان کی حدیث موسی بن علی بن رباح نے اپنے والد بدیل سے ویت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کو موزوں پر مسحکرتے ہوئے دیکھا ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ ور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بدیل (رضی اللہ عنہ)

  ابن ورقاء بن عمرو بن ربیعہ بن عبدالعزی بن ربیعہ بن جزی بن عامر بن مازن بن عدی بن عمرو بن ربیعہ ربیعہ وہی عی خزاعی ہیںان کا نسب ابن کلبی نے اسی طرح لکھاہے اور ابو عمر نے ان کو لکھا ہے بدیل بن ورقاء بن عبد العزی بن ربیعہ خزاعی اور ابن ماکولا نے ہشام کی طرح ان کا نسب جزی تک پہنچایا ہے جزی کے بعد ان کا نسب متفق علیہ ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ یہ قدیم الاسلام ہیں اور ابو عمر نے لکھا ہے کہ یہ اور انکے بیٹِ عبداللہ اور حکیم بن حزام فتح مکہ کے دن مقام مر الظہران میں اسلام لائے تھے جیسا کہ ابن شہاب نے بیان کیا ہے اور ابن اسحاق نے کہا ہے کہ فتح مکہ کے دن کفار قریش نے بدیل بن ورقاء اور ان کے غلام رافع کے مکان میں پناہ لی تھی بدیل اور ان کے بیٹے عبداللہ حنین میں اور طائف میں اور تبوک میں شریک تھے اور فتحکے دن مسلمانوں میں ان کا مرتبہ سب ے زیادہ ہے انھوں نے کہا ہے کہ بعض لوگوںکا بیان۔۔۔

مزید

سیدنا) بدیل (رض اللہ عنہ)

  ماریہ غلام عمرو بن عاص سہمی کے بیٹیہیں۔ ان سے مطلب بن ابی وداعہ نے اور ابن عباس نے جام کا قصہ رویت کیا ہے جب انھوں نے او تمیم داری نے اور عدی بن با نے سفر کیا تھا  ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھا ہے مگر اور ائمہ نے ان کو بزیل لکھا ے ہم بھی اس مقام پر انشاء اللہ لکھیں گے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بدیل (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو انصاری خطمی۔ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے۔حلبس بن عمرو نے اپنی ماں فارعہ سے انھوں نے اپنے دادا بدیل بن عمرو خطمی سے وایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے ایک منتر سانپ کے کاٹنے کا رسول خدا ﷺ کو سنایا تو آپ نے مجھے اس کی اجازت دے دی اور اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور ابن مندہ نے کہا ہے ہ یہ حدیث غریب ہے سوا اس سند کے اور کسی سند سے مشہور نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بدیل (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلمہ بن خلف بن عمرو بن احب بن مقیاس بن جتر بن عدی بن سلول بن کعب بن عمرو بن ربیعہ۔ ربیعہ کا نام لحی بن حارثہ خزاعی سلولی۔ ان بدیل کی والدہ کا ام ام اصرم ہے جو بیٹی ہیں احجم بن دندنہ بن عمرو بن قین بن زواج بن عمرو ابن سعد بن کعب بن عمرو بن ربیعہ کے وہ بھی خزاعی ہیں ور ان کے والدہ کی والدہ حیہ بنت ہاشم بن عبد مناف بن قصی ہیں۔ بدیل اپی والدہ کے نسب ے زیادہ مشہور ہیں۔ ان کا نسب ہشام بن کلبی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔یہ بدیل اور ان کی والدہ کعب بن عمرو میں جاکے مل جاتے ہیں۔ بدیل کی والدہ ابو مالک یعنی اسید بن عبداللہ بن احجم کی پھوپھی ہیں یہ بدیل اور عمرو بن حمق بن کلہن بن حبیب بن عمرو بن قین عمرو میں جاکے مل جاتے ہیں۔ یہ بدیل وہی ہیں جنھیں نبی ﷺ نے قبیلہ بی کعب کی طرف بھیجا تھا اور ان کے ہمراہ بشر بن سفیان کو بھیجا تھا تاکہ انھیں جہاد مکہ کے لئے طلب کریں۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔۔۔

مزید

سیدنا) بدر (رضی اللہ عنہ)

  کنیت ان کی ابو عبداللہ۔ نبی ﷺ کے غلام تھے۔ ہمیں محمد بن ابی بکر بن ابی عیسی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن فضل بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے میں نے اسے جعفر بن عبدالواجد کے سامنے پڑھا یہ دونوں کہتے تھے ہمیں ابو طاہر بن عبدالرحیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبدالہ بن محمد یعنی حافظ ابو الشیخ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں بن اعین نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسحاق بن اسرائیل نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن جابر نے عبداللہ بن بدر سے انھوں نے اپنے والد سے جو رسول خدا ھ کے غلام تھے نقل کر کے خبر دی کہ وہ ہتے تھے رسول خدا ﷺ نے وصیت س یپہلے قرض کے ادا کنے کا حکم دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ حقیقی بھائی وارث ہوتے ہیں نہ علاتی۔ اس حدیث کو اسحاق بن طباع نے روایت کیا ہے اور نیز س کو ابن جرح نے محمد بن جابر سے انھوں نے عبداللہ بن بدر سے انھوں نے ابن عمر سے روایت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو ۔۔۔

مزید

سیدنا) بدر (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ مزنی۔ ان سے بکر بن عبداللہ مزنی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں ایک پیشہ ور شخص ہوں میرے مال میں ترقی نہیں ہوتی حضرت نے فرمایاکہ اے بدر بن عبد اللہ صبح کو تم یہ کہہ لیا کرو بسم اللہ علی نفسی بسم اللہ علی اہلی و مالی افلہم رضنی بما قضیت لی و عافنی فیما ابقیت حتی لا حب تعجیل ما اخرت ولا تاخیر ما عجلت (٭ترجمہ۔ میں اپنی جان پر اور اپنے گھر والوںپر اور اپنے مال پر بسم اللہ پڑھتا ہوں اسے اللہ جو کچھ تو میرے لئے مقدر کیا ہے اس پر مجھے راضی کر دے اور جو کچھ تو میرے پاس باقی رکھے اس میں مجھے عافیت دے تاکہ جو کچھ تو دیر میں دینے والا جو اس کی میں جلدی نہ کروں اور جو کچھ تو جلد دنے والا ہے میں اس کی تاخیر نہ چاہوں) چنانچہ ان الفاظ کو کہہ لیے کرتا تھا اللہ میرے مال میں برکت دی اور میرا قرض ادا کرا دیا اور مجھے اور میرے گھر والوںکو مالدار کر دیا۔ ان ک۔۔۔

مزید

سیدنا) بدر (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ خطمی۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بربر ہے یہ دادا ہیں ملیح بن عبداللہ بن بدر کے۔ ملیح نے اپنے والد سے انوں نے ان کے دادا سے رویت کی ہے ہ یہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا پانچ باتیں پیغمربوںکی سنت ہیں۔ حیا، بردباری، پچھنے لگانا، مسواک کرنا، عطر لگانا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے مگر ابن مندہ نے ان کو سعدی لکھاہے اور ابو نعیم نے ان کو خطمی لکھا ہے اور ابن مندہکو وہم ہوگیا ہے انھوں نے ملیح بن عبداللہ کو سعدی لکھاہوا دیکھا اور انھوں نے سمجھا کہ یہ بدر کے پوتے ہیں لہذا انھوں ن بدر کو سعدی لکھ دیا مگر حق وہی ہے جو ابو نعیم نے لکھا ہے ان دونوں کو ابو نصر بن ماکولا نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید