/ Thursday, 03 April,2025


ابو الحماد حضرت مفتی احمد میاں حافظ برکاتی   (120)





ہزاروں انبیاء ﷩ آئے رسول و مجتبی بن کر

نعت سیدالمرسلینﷺ اس نعت میں اسماء رسول اکرمﷺ ۱۳۰ سے زیادہ مذکور ہیں ہزاروں انبیاء ﷩ آئے رسول و مجتبی بن کر محمد مصطفیﷺ آئے امام و مقتدؔا بن کر رسول مرسلاں آئے حبیؔب کبریا بن کر وہ احمؔد مجتبیؔﷺ آئے شفاؔ بن کر دوا بن کر وہ آئے ہیں خدا واصف ہے قرآن میں جن کا حمیؔد و حامؔد و محمودؔ، شاہد مرتضؔیﷺ بن کر خدا کا ہے کرم دیکھو کہ آئے رحمتِ عالمﷺ رشید و ھادیؔ و داعؔی منیر و مقتدؔاﷺ بن کر مُطاع کل جہاں ہیں جو امان ہر دو عالم ہیں وہ فخرؔ انبیاء آئے اماؔم الانبیاءﷺ بن کر حبیؔب اللہ، نجؔی اللہ،  صفؔی اللہ مبشرّؔ ہیں ولؔی و شاہؔد، و مشہوؔد سب کے منتہیﷺ بن کر یہ فاتح ہیں یہ حاشؔر ہیں یہ قاسؔم ہیں یہ خاتؔم ہیں ان ہی پہ ختم رحمت ہے دوا بن کر دعا بن کر تہامؔی ہاشمؔی امؔی قوؔی و محترمؔ یہ ہیں رسولؔ ابطحیﷺ آئے زمانے میں سخا بن کر یہی امیؔ، یہی منجیؔ یہی عاقؔب یہی طٰہٰؔ شکورؔ و مقتصؔد یہ ہیں جو آئے ہیں ھ۔۔۔

مزید

حبیبِ کُلﷺ جہاں تم ہو دلیل کُنْ فَکاں تم ہو

نعت شریف دلیل کُنْ فکاں تم ہو حبیبِ کُلﷺ جہاں تم ہو دلیل کُنْ فَکاں تم ہو خلیل بزم وحدت ہو خدا کے رازداں تم ہو تم ہی تو جان رحمت ہو تمہیں شانِ نبوتﷺ ہو امام المرسلیںﷺ تم ہو ہر اک عالَم کی جاں تم ہو مکین گنبد خضراء تمہارا وصف ہے ورنہ حقیقت میں اگر دیکھیں مکین کُل جہاں تم ہو قرآں کے تیس پارے بھی فقط تم ہی پہ اترے ہیں تمہاری ذات ہے جامع ہر اک شی کا بیاں تم ہو ہوئی ہے چاک تم سے ہی رِدائے ظُلمتِ عالم منور ہے جہاں تم سے کہ خورشید جہاں تم ہو ابوبکر﷜ و عمر﷜ بھی تھے وہاں عثمان﷜ و حیدر﷜ بھی نہ پائے جس حقیقت کو، وہ ہی سِّرِ نہاں تم ہو وہ کوئی اور ہوں گے جو نہیں ملتے نشاں سے بھی میں کیوں ڈھنڈوں تمہیں آقاﷺ یہاں تم ہو وہاں تم ہو ہر اک محتاج و بیکس بس تمہارے پاس آتا ہے ہر ایک نعمت میسّر ہے جہاں تم ہو جہاں تم ہو جہاں میں لاج رکھی ہے تم ہی نے اپنے حافؔظ کی سر محشر نکمّے کی اَماں تم ہو امَاں تم ہو (۶ صفر ۔۔۔

مزید

جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے

نعت شریف نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے جمال و حسن کا منظر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے نوال و جُود کا مظہر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے نبوت اِنﷺ کی اعلیٰ ہے، رسالت اِنﷺ کی بالا ہے زمانہ دیکھ لے آکر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے عطا اِن کی ہے دنیا میں، شفاعت اِن کی اُخریٰ میں یہی ہیں صاحبِ کوثر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے خزانہ اِن کا بھاری ہے، عطا و فیض جاری ہے سخی یہ لُطف کا محور، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہے چمک ان کی زمانے میں، دمک دل کے خزانے میں یہ ساری خلق سے برتر، نہ یہ کم ہے، نہ وہ کم ہے ہر اک صاحب ستارہ ہے، ولی ہر ایک پیارا ہے ہیں دونوں باغ کے گل تر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے جسے ہے اُلفتِ کامل، غلامی ہے اُسے حاصل تجھے حافظِ سرِ منبر، نہ یہ کم ہے نہ وہ کم ہے (۲ اگست ۲۰۱۵؁ء ۱۶ شوال ۱۴۳۶؁ھ)۔۔۔

مزید

سارا جگمگ جہاں آپ سے آپ سے

نعت شریف آپ سے آپ سے سارا جگمگ جہاں آپ سے آپ سے رونق ہر مکاں آپ سے آپ سے آپ تشریف لائے تو ظلمت گئی چَھٹ گیا ہر دھواں آپ سے آپ سے جاں میں جاں آگئی ہر جگہ مل گئی بے زباں کو زباں آپ سے آپ سے علم مَالَمْ تکن تَعْلمُ زیبِ سر فہم و عرفاں رواں آپ سے آپ سے ذکرِ خَیْرُ الرُّسُل بعدِ حق ہر جگہ ہے مزیّن قُراں آپ سے آپ سے واقفِ سرِّ حق نازشِ کُل جہاں رازِ وحدت عیاں آپ سے آپ سے حافظِؔ غمزدہ کو شفیعِ اُمم مل گئی ہے اماں آپ سے آپ سے (۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵؁ء/ ۱۳ محرم الحرام ۱۴۳۷؁ھ)۔۔۔

مزید

صلہ خوب پائے اِدھر سے اُدھر سے

نعت شریف اِدھر سے اُدھر سے صلہ خوب پائے اِدھر سے اُدھر سے مدینے جو آئے اِدھر سے اُدھر سے نگاہوں میں جچتی نہیں کوئی جنت جو طیبہ کو جائے اِدھر سے اُدھر سے ترے در کے ٹکڑوں پہ جب ہے گزارہ تو لو کیوں لگائے اِدھر سے اُدھر سے درِ مصطفیﷺ سے چمک اٹھی قسمت نہ اب آزمائے اِدھر سے اُدھر سے غبارِ مدینہ جو سینے پہ مل لے یہ دل جگمگائے اِدھر سے اُدھر سے گدائے نبیﷺ ہوں تو در پہ پڑا ہوں نہ کوئی اٹھائے اِدھر سے اُدھر سے سگِ غوث﷜ و برکت ہوا جب سے حافؔظ صلہ سب سے پائے اِدھر سے اُدھر سے (۲۷ ستمبر ۲۰۱۵؁ء/ ۱۲ ذی الحجہ ۱۴۳۶؁ ھ)۔۔۔

مزید

جہاں میں دھومیں مچی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ

نعت شریف فلک پہ احمد یہاں محمد(ﷺ) جہاں میں دھومیں مچی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ لبوں پہ نعتیں سجی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ نزاکتیں ہوں، لطافتیں ہوں، کرامتیں ہوں کہ نکہتیں ہوں ہر ایک شی میں رچی ہیں جن کی فلک احمد یہاں محمدﷺ بلندیاں بھی، فضیتلیں بھی، نُضارتیں بھی تو عظمتیں بھی ہر ایک لمحہ بڑھی ہیں جن کی فلک احمد یہاں محمدﷺ ان ہی سے عالم چمک رہے ہیں، ان ہی کی خوشبو چمن چمن ہے دلوں میں یادیں بسی ہیں جن کی فلک احمد یہاں محمدﷺ وہ اول آخر کو دیکھتے ہیں، زمیں زماں ان کے سامنے ہیں جہاں پہ نظریں جمی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ اُن ہی کو رب نے عطا کیا ہے، ہر ایک نعمت اُن ہی کو بخشی ازل سے مہریں لگی ہیں جن کی فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ یہ فیضِ مرشد ملا ہے حافؔظ، رضؔا کے رستے پہ چل پڑا ہے کہ تو نے نعتیں کہی ہیں جن کی ’’فلک پہ احمد یہاں محمدﷺ‘‘ (۲۸ مئی ۲۰۱۵؁ء/ ۹۔۔۔

مزید

درخشاں میری قسمت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ

نعت شریف اُدھر کعبہ اِدھر روضہ درخشاں میری قسمت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ مسلسل مجھ پہ رحمت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ غلافِ کعبہ آنکھوں سے لگایا ہے اِدھر جالی مسّرت ہی مسّرت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ اُدھر میزاب رحمت ہے اِدھر سرکار خود رحمت سراپا ظّل راحت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ اُدھر آغوشِ کعبہ ہے اِدھر آغوشِ جنت ہے زِسرتا پاموَدّت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ مقام اِبْرَہیمی واں اِدھر محراب و منبر ہے نُضارت ہی نضارت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ صفا مروہ اُدھر ہے تو قُبا کی اس طرف برکت عبادت ہی عبادت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ حرا کے اُس طرف جلوے اُحُدْ ہے اِس طرف تاباں بشارت ہی بشارت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ اُدھر عرفات و مزدلفہ‘ اِدھر ہے مشہدِ حمزہ کرم ہے نور و نگہت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ چلو حافؔظ ذرا جلدی وہ دیکھو نوری نظّارے مثال حُسن جنت ہے اُدھر کعبہ اِدھر روضہ (۱۰ رمضان المبارک ۱۴۳۔۔۔

مزید

میں مدینے کو چلا زائر روضہ ہو کر

نعت شریف زائر روضہ میں مدینے کو چلا زائر روضہ ہو کر کِھل گیا غنچہء دل کیسا شگفتہ ہو کر اسکی خوشیوں کا کہیں کوئی ٹھکانہ ہی نہیں جو کوئی گھر سے چلا عازم طیبہ ہو کر در آقاﷺ پہ جمائیں جو نگاہیں میں نے دل چمکنے لگا پھر خوب مجلاّ ہو کر در سرکار سے پائے جو ہزاروں تحفے میں تو پھولا نہ سمایا ہوں شگفتہ ہو کر میں مدینے میں رہوں آپکا نوکر بن کے اور ٹھکانے سے لگوں خاک مدینہ ہو کر قافلے والو رکو اتنی بھی جلدی کیا ہے میں ذرا سانس تو لوں سوئے مدینہ ہو کر جب سے انوار مدینہ میں دھلا ہے حافؔظ تو وہ ذرہّ ہے جو چمکا ہے نگینہ ہو کر (۲۰ فروری ۲۰۱۷۔ ۲۲ جمادی الاوی ۱۴۳۸ھ) نزیل مدینہ۔۔۔

مزید

حامل رشد و ہدایت تیرا کہنا کیا ہے

نعت شریف تیرا کہنا کیا ہے حامل رشد و ہدایت تیرا کہنا کیا ہے ماحئِ ظلم و ضلالت تیرا کہنا کیا ہے جھولی بھر بھر کے ملا جسکو بھی اس در سے ملا قاسم عزّ و کرامت تیرا کہنا کیا ہے یاں غریبی بھی امیری میں بدل جاتی ہے صاحب فرحت و راحت تیرا کہنا کیا ہے بس تیرے ایک ہی کلمے سے سکوں ملتا ہے ناطق حق و صداقت تیرا کہنا کیا ہے پارہ پارہ تھے جگر، ظلم سے مظلوموں کے ناشر عدل و امانت تیرا کہنا کیا ہے تیرے دم سے ہی زمیں بھی ہے مہ و اختر بھی باعثِ خِلق و ہدایت تیرا کہنا کیا ہے تجھ پہ کیا فیض ہے؟ برکات و رضا کا حافؔظ بلبلِ وصفِ رسالتﷺ تیرا کہنا کیا ہے یکم شوال ۱۴۳۸ھ/ ۲۶ مئی ۲۰۱۷ ۱۱، ذی قعدہ ۱۴۳۸ ھ/ ۱۴ اگست ۲۰۱۷۔۔۔

مزید

جو اُمّی لقب ہاشمی و مطّلبی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے

نعت شریف وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے جو اُمّی لقب ہاشمی و مطّلبی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے جو اِن کا نبی اُن کا نبی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے خوشبو میں بسی جس سے ہراک پھول و کلی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے وہ جس کی مہک ہر چمن دل میں بسی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے اسریٰ کا سفر کیا ہے، وَاللّیلْ کی توضیح، مَازَاغَ کے جلوے کی اَرَیْنَا میں ہے تشریح اور جسکو عطا نعمت دیدار ہوئی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے تخلیق میں اوّل ہے، وہ تشریف میں آخر، باطن بھی وہ ہے اور وہی جلوۂ ظاھر اور جس کے لئے عرش کی ہر راہ سجی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے وہ چاند کا پھٹنا ہو کہ سورج کی پلٹ ہو، پتھر کا تکلّم ہو کہ وہ شَقّ اُحُدْ ہو اور بھیڑ جہاں نوری فرشتوں کی لگی ہے، وہ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ میرا نبیﷺ ہے ہر نعمت کبریٰ بھی ہمیں اِن س۔۔۔

مزید

فضا پُر کیف کیسی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا

نعت شریف جہاں میں تھا جہاں میں تھا فضا پُر کیف کیسی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا ہر اک شے نورو نوری تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا کھڑے تھے قدسیانِ عرش بھی جنت کے روضے پر زمیں میں کیف و مستی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا مری پلکوں پہ موتی تھے نگاہوں میں وہ جالی تھی عجب سی درفَشانی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا مراتن من چمک اٹھا ملی تھی روح کو لَمْعَت وہ کیسی ضوفشانی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا قمر کو میں نے دیکھا ہے وہاں جھکتے ہوئے در پر ستاروں کی لڑی سی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا گُنہ جھڑتے رہے میرے عجب رحمت کے جھونکے تھے ہوا میں شوخ خنکی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا سناؤ قافلے والو تمہیں احساس کیسا تھا وہاں ہر سانس مہکی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا بہر سو رقصِ بسمل تھا زمین کوئے جاناں پر ہر اک پر وجد و مستی تھی جہاں میں تھا جہاں میں تھا نہ کوئی فکرِ دنیا تھی نہ کوئی غم رہا حافؔظ۔۔۔

مزید

گئے لامکاں کو چمکتے چمکتے

نعت شریف چمکتے چمکتے گئے لامکاں کو چمکتے چمکتے ہوئی واپسی پھر دمکتے دمکتے صبا لائی شاید مدینے کی خوشبو میری سانس چل دی اٹکتے اٹکتے مجھے پھر بلایا نبیﷺ نے مدینے میں چلتا گیا دل دھڑکتے دھڑکتے جو تکتا رہا چہرۂ مصطفیﷺ کو ہوئی دید پلکیں جھپکتے جھپکتے نبیﷺ نے نگاہِ کرم ایسی ڈالی گُنَہ جل گئے سب سلگتے سلگتے نزع میں رخِ مصطفیٰﷺ کو جو دیکھا میری روح چلدی مہکتے مہکتے مجھے روزِ محشر پکارا نبیﷺ نے قرار آگیا پھر مچلتے مچلتے نبیﷺ کی شفاعت ہی بس کام آئی میں جنت میں پہنچا لہکتے لہکتے گناہوں میں ڈوبا تھا حافؔظ تمہارا تمہیں دیکھا، ابھرا، سنبھلتے سنبھلتے ۱۲ رجب المرجب ۱۴۳۶؁ھ ۲ مئی ۲۰۱۵؁ء نزیل ماریشس۔۔۔

مزید