نعت شریف تمھارا ہے تمھارا ہے زمانے میں نشاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے مکان و لامکاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے خدا نے کر دیا مالک زمینوں آسمانوں کا تو اب ہے یہ جہاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے ہوا وَالْعَصْر سے روشن زمانے بھر کے لوگوں پر یہ روز و شب زماں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے زمینوں‘ آسمانوں میں‘ مکان و لامکاں میں بھی یہ سکّہ ہے رواں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے قمر میں‘ شمس میں‘ تاروں میں‘ رنگیں کہکشاؤں میں یہ جلوہ ہے نہاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے فلک کے سب ستاروں میں قرآں کے تیس پاروں میں حَسیں ہے یہ بیاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے تم ہی ہو قاسم کوثر تم ہی ہو شافع محشر دو عالم میں نشاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے کھڑا ہے در پہ یہ حافؔظ تہی دست و تہی داماں بے چارہ بے زباں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے (۶ رمضان المبارک ۱۴۳۷ ھ / ۱۱ جون ۲۰۱۶) نزیل مدینہ منورہ۔۔۔
مزیدنعت شریف آقا کا نام اونچا ہے سارے انبیاء میں آقاﷺ کا نام اونچا دنیا کے سروروں میں ان کا غلام اونچا آیات ذکر رفعت اعلان کر رہی ہیں بس ذکر مصطفیﷺ ہے بے شک مُدام اونچا وہ رفعتیں عطا کیں وہ نعمتیں عطا کیں دنیا میں نام اونچا عقبیٰ میں کام اونچا جب انبیاء کہیں گے جاؤ ان ہی کے در پر دیکھیں گے اہل محشر ان کا مقام اونچا ہر شے پُکارتی ہے صل علیٰ محمدﷺ سارے جہاں میں پہنچا ان کا کلام اونچا لاکھوں سلام ان پر لاکھوں درود ان پر جو اُن پہ پڑھ رہا ہے اسکا مقام اونچا میں چل پڑا مدینے وِردِ درود لیکر جب بھی مجھے ملا ہے ان کا پیام اونچا دونوں جہاں میں اعلیٰ دونوں جہاں میں اولیٰ ان کا مقام اونچا ان کا کلام اونچا احمد رضا کے پیچھے محشر میں جب کھڑا ہو حافؔظ کو تب عطا ہو کوثر کا جام اونچا (۹ رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ/ ۱۴ جون ۲۰۱۶) نزیل مدینہ منورہ۔۔۔
مزیدنعت شریف یانبیﷺ آپ کا پیارا پیارا حرم یانبیﷺ آپ کا پیارا پیارا حرم ہر قدم پر یہاں ہے کرم ہی کرم آپ کی جالیاں کس قدر ہیں حسیں اور گنبد ہرا خوب ہی محتشم چوم لیں آپ کو دیکھ کر بوالبشر دِید کا شوق رکھیں سب ہی ذی امُم آپ کے در کے سائل ہیں شاہ و گدا جن کی آنکھیں ہیں نم اور آہیں گرم کعبۃ اللہ مصفّا ہوا آپ سے آپ کو دیکھ کر گر پڑے سب صنم حکم قرآں سے ہر قول واجب ہوا آپ کے سارے فرمان ہیں پُر حِکَمْ عاصیوں کی دعاؤں پہ جو آمیں کہیں آپ کے در پہ ایسے فرشتے خِدَم آپ سے نور پائیں سب اہل زَمن آپ رحمت جہاں کی شفیع اُمم خوب جنت کی کیاری کے لُوٹے مزے رحمتوں کی گھٹا مجھ پہ تھی دم بہ دم آپ کے در پہ لایا ہوں جرم و خطا معاف کر دیجئے رکھ کے میرا بَھرَم تجھ پہ حافؔظ کرم کی وہ بارش ہوئی بہہ گئے سب گُنَہْ اور ہوئے دور غَم (۹ رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ/ ۱۴ جون ۲۰۱۶ نزیل مدینہ منورہ)۔۔۔
مزیدنعت شریف آقا نے بلایا روضے پر آقاﷺ نے بلایا روضے پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا کیں عرض تمنا رو رو کر کچھ یاد رھا کچھ بھول گیا بخشش کی طلب کے جتنے بھی مضون تھے سارے ازبر تھے گنبد پہ پڑی جب میری نظر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا باتیں تو بہت سی کرنی تھیں ہر غم کا مداوا کرنا تھا تھیں میری نگاہیں جالی پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا میں بارگہہِ حمزہ میں گیا کہ اُن سے سفارش کرواؤں تھیں اُن کی نگاہیں جب مجھ پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا کچھ عرض شہا سے کرنا تھی کچھ نذر وھاں پہ کرنا تھی دربار نبیﷺ کا تھا وہ اثر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا جنت کی کیاری بھی دیکھی منبر کا نظارہ خوب کیا جالی پہ حضوری کا منظر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا پھر اتنا دیا آقا نے مجھے اوقات سے میری بڑھ بڑھ کر گنتا ہی رہا میں چُن چُن کر کچھ یاد رھا کچھ بھول گیا آقا سے شفاعت جب مانگی شیخین سے بھی کچھ عرض کیا تھے دونوں وہاں صدیق و عمر کچھ یاد ۔۔۔
مزیدنعت شریف درپہ آقاﷺ کے در پہ آقاﷺ کے میرے دل کو پڑا رہنے دو ان کا دیوانہ ہوں چوکھٹ سے لگا رہنے دو ذکر سرکارﷺ سے مہکا ہوا گھر ہے میرا ذکر جاری رکھو گھر بھر بسا رہنے دو بس مدینے ہی چلو مجھ کو عزیزو لے کر میں تو بیمارِ مدینہ ہوں دوا رہنے دو مدح سرکارﷺ کا صدقہ ہے حرم تک پہنچا ان کی دیوار کے سائے میں پڑا رہنے دو جالیوں سے نہ کرو دور مجھے دربانو کیا بگڑتا ہے تمہارا جو کھڑا رہنے دو جلد پڑ جائیگی آقاﷺ کی نگاہ بھی مجھ پر ان کا مجرم ہوں ستونوں سے بندھا رہنے دو ان کے روضے پر رہوں چوم لوں جالی ہر دم پھول پتوں کی طرح مجھ کو کِھلا رہنے دو اب دم نزع ہے آقا کا کرم تو ہوگا ہر گلی، راستہ، ہردَر کو کُھلا رہنے دو قلب حافؔظ کو فقط ذکر نبیﷺ کی دھن ہے ذکر سرکار کی محفل کو سجا رہنے دو (۲۸ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ / ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔۔۔
مزیدنعت شریف محمد مصطفیٰﷺ کا ہے حسیں یہ دور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے زمانہ اور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے جہاں ہجرت کی راتوں میں وہ صدیق و مصدَّق تھے وہ غارِ ثور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے کرم کی بارشیں ہر دم، خطا پر بھی عطا دیکھی یہ پیارا طور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے جو سورج لوٹ آتا ہے قمر بھی ٹوٹ جاتا ہے یہ سکہ اور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے ہر اک ساعت جو پچھلی ہے دہی اُولیٰ سے بہتر ہے یہ منصب اور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے زمانہ گنگناتا ہے جب ان کی نعت کے نغمے بھلا پھر دور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے نوازش اور عطاؤں کا ، ہے تجھ پر فیض جو حافؔظ کرے کیوں غور کس کا ہے؟ محمد مصطفیٰﷺ کا ہے (۱۹ صفر ۱۴۳۸ھ/۲۰ نومبر ۲۰۱۶ء)(لاہور سے واپس آتے ہوئے یہ اشعار ہوئے)۔۔۔
مزیدنعت رسول مقبولﷺ (انگلش قافیہ کے ساتھ) جس کا عشق نبیﷺ سبجیکٹ ہوگیا ہر جگہ قابل رسپیکٹ ہوگیا جب مدینے سے اک کنٹریکٹ ہوگیا نعت کہنے کو پھر میں سلیکٹ ہوگیا آنے جانے لگا پھر مدینے کو میں میرا ہر کام بگڑا کوریکٹ ہوگیا جو بھی آقا کی عظمت کا منکر ہوا ہر نظر سے وہی اپ سیٹ ہوگیا جو سلام ان پہ پڑھنے سے جلنے لگا بارگاہوں میں ان کی ریجیکٹ ہوگیا نعت پڑھنا ہی جس نے کیا مشغلہ اس کا ہر راستہ ایگزیکٹ ہوگیا جب سے اپنے رضا کو میں پڑھنے لگا نعت کہنا میرا پروجیکٹ ہوگیا جو رضا کے عقائد سے پھرنے لگا نعمتوں سے پھرا وہ ڈیفیکٹ ہوگیا جب سے حافظؔ ہوا غوث و برکات کا خوب مقبول اور فیورٹ ہوگیا ۔۔۔
مزیدنعت رسول مقبولﷺ (انگلش قافیہ کے ساتھ) جس کا اسم نبیﷺ سے کنکشن ہوا عشق و ایمان کا وہ ہی جنکشن ہوا حُبّ سرکارﷺ کی جسکو دولت ملی ہاں اسی کا تو جنت میں مینشن ہوا جب محبت سے گنبد پہ ڈالی نظر دل چمکنے لگا یہ ری ایکشن ہوا مجھ کو طیبہ سے ملنے لگی نعمتیں ہاں یہی تو میرا پھر کمیشن ہوا نعت خوانی سے چہرہ چمکنے لگا کیسے انداز سے اٹریکشن ہوا نیکیوں پر جو نیکی ہی کرنے لگا پھر گناہوں کا اسکے ڈیڈیکشن ہوا نعت سرور سے انعام ایسا ملا ہر گناہ میں میرے لبریکشن ہوا دل میں عشق نبیﷺ خوب بڑھنے لگا جب سے دل پر رضا کا پُزیشن ہوا ان کا کھا کے غلاموں سے لڑنے لگا تجھ سے منکر عجب یہ کرپشن ہوا جب سے غوث و رضا کی غلامی ملی مدحُ و وصف نبیﷺ میرا سیکشن ہوا تجھ کو حافؔظ ملا فیض برکات سے تیرے بگڑے عمل تھے کریکشن ہوا (۲۱ رجب المرجب ۱۴۳۸ھ/ ۱۹ اپریل ۲۰۱۷ بدھ نزیل ماریشس)۔۔۔
مزیدنعت شریف انگلش قافیہ حُبّ احمد مصطفیﷺ کا جام پی لو اے ڈیئر((Dear پھر نہ تم حیران ہوگے گر رہو اینی وئیر (Anywhere) لَو مدینے سے لگا لو آنکھ نم ہو دل میں غم دیکھ لو گے نعمتیں ساری میّسر ہیں دیئر (There) مارا مارا ہی پھریگا گر رھیگا دور تو کہہ رہا ہے سب سے طیبہ آج آجاؤ ہیئر (Here) دین و دنیا کی بھلائی بانٹتے ہیں مصطفیﷺ اس کو پائے گا یقینی جو رہے ان سے نیئر ((Near آج لے اُن کی پَنَہْ تو ان کے در پہ دل جھکا ہوگی ہر رنج و اَلَمْ سے خود بخود تیری کیئر (Care) عشق احمد میں فنا کر اپنی ہر ہر آرزو مان لے گی تجھ کو دنیا اپنے کاموں کا میئر ((Mayor چاند ٹوٹا شمس لوٹا بولے پتّھر ہاتھ میں حکم آقاﷺ کا مِلا تو لوٹ آئی وہ ڈیئر (Deer) ہر قدم نیکی کرو پھر خوب پاؤ نعمتیں نیکیاں اللہ کے ہاں کیا خوب ہیں جو ہوں پیئر (Pair) یارسول اللہﷺ کے نعرے لگاتا رہِ سدا کہہ گئی ہیں مجھ سے حافؔظ وہ میری سوئٹ مدر (Sweet Mother۔۔۔
مزیدنعت شریف ازنگاہ مصطفیﷺ باغ میں نرگس ہے خنداں ازنگاہ مصطفیﷺ خوش ہے آہو دریبا باں ازنگاہ مصطفیﷺ میں نہیں نالاں و گریاں ازنگاہ مصطفیﷺ بڑھ رہی ہیں میری خوشیاں ازنگاہ مصطفیﷺ عاصیو آؤ چلو بخشش کی چادر اوڑھنے میں چلا طیبہ خراماں ازنگاہ مصطفیﷺ معصیت مٹنے لگی میرے نامے سے کہ ہے مغفرت رحمت بداماں از نگاہ مصطفیﷺ کچھ درودوں کی ہیں مالا کچھ سلاموں کے ہیں ہار کل بروز حشر ساماں از نگاہ مصطفیﷺ روز محشر غمزدوں کو کیا سہارا مل گیا مسکراہٹ ہے بہ دنداں از نگاہ مصطفیﷺ شافع روز جزا تشریف لائے دیکھئے اب سب ہی کے لب ہیں خنداں ازنگاہ مصطفیﷺ یارسول اللہﷺ کے نعرے لگاتے ہی رہو پھر نہیں ہوگے پریشاں ازنگاہ مصطفیﷺ ’’قادریم نعرہ شہ برکت اللہ می زنم‘‘ ہیں کرم مجھ پر نمایاں از نگاہ مصطفیﷺ نعت خوانی سے ملا تمغہ شفاعت کا مجھے ہوگیا کامل مسلماں از نگاہ مصطفیﷺ تو نے حافؔظ پالیا رستہ دخول خلد کا ۔۔۔
مزیدنعت شریف اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر کعبہ سے نور کبریا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر طیبہ سے نور مصطفیٰﷺ اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر مکہّ جلال کبریا طیبہ جمال مصطفیٰﷺ دونوں حرم ہیں باخدا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر ہاں چاند بھی قرباں ہوا میرے نبیﷺ کے حسن پر ٹکڑوں میں جب وہ بٹ گیا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر آقا کا رعب و حسن بھی حسنین کو کیسا ملا دونوں شبیہ مصطفیٰﷺ اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر کتنی اندھیری رات تھی ٹہنی جو ان کے ہاتھ تھی روشن اُسے جب کر دیا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر یوں مشرکوں کی فوج کے لاشے پڑے تھے بدر میں جو آپﷺ نے فرما دیا اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر حافؔظ ترا انداز یہ شاید قبول عام ہے کیسا عجب ہے قافیہ اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر (۱۲ صفر ۱۴۳۸ھ/ ۱۳ نومبر ۲۰۱۶ء) داتا دربار لاہور جاتے ہوئے ٹرین میں کہی۔۔۔
مزیدنعت شریف الَا یَا اَیُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاسًا وَّنَا وِلْھَا (اے میرے ساقی پیالہ گھمائیں اور عطا فرمادیں) اے میرے ساقیا وہ جام الفت کا عطا کر دیں کہ جسکو پیتے ہی عاشق یہ جاں اپنی فدا کر دیں یقینا آپ مالک ہیں زمینوں آسمانوں کے تو جسکو جسطرح چاہیں اسی میں سے عطا کر دیں فقیروں نے گداؤں نے پڑاؤ در پہ ڈالا ہے یہ اب ہے آپ کی مرضی کہ روتوں کو ہنسا کر دیں اگر چہ میں تو مجرم ہوں مگر انﷺ کا کرم دیکھیں کبھی تو میرے گھر بھیجیں کبھی طیبہ بُلا کر دیں صحابہ خرچ کرتے تھے نبیﷺ کے نام پر ایسے کبھی وہ آدھا گھر دے دیں کبھی گھر بھر لُٹا کر دیں رضا و شاہ برکت کا مسلسل فیض جاری ہے کبھی تو جاگتے میں دیں کبھی مجھ کو سُلا کر دیں زہے قسمت تیری حافؔظ اگر انداز ایسا ہو نبیﷺ جب جام کوثر دیں لب اقدس لگا کر دیں ( ۴ ربیع النور شریف ۱۴۳۹ھ / ۲۳ نومبر ۲۰۱۷ء)۔۔۔
مزید