/ Thursday, 03 April,2025


مولانا سید محمد مرغوب اختر الحامدی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ   (112)





بینی ہے کہ ہے ’’الِف‘‘ خدا کا

بِینی پُروقار بینی ہے کہ ہے ’’الِف‘‘ خدا کا یا آخری حرف مصطفیٰﷺ کا ہے کتنا لطیف استعارہ[1]؎ کہئے اسے گر الِف اشارہ کونین کا یعنی ہے خدا ایک اور اس کا حبیبِ باصفاﷺ ایک محبوبِ خدا ہوا نہ ہوگا دنیا میں بشر کوئی بھی ایسا اوّل ہیں یہی، یہی ہیں آخر باطن ہیں یہی، یہی میں ظاہر آئے گا کوئی نہ ایسا آیا اُس ایک نے ایک ہی بنایا     [1]استعارہ  بمعنے اشارہ یعنی خدا، مصطفیٰﷺ، اول، آخر، ظاہر اور باطن، ان سب میں ’’الف‘‘ ہے اور بینی مبارک کو ان سے تشبیہ دی جارہی ہے ، لہذا مطلب ظاہر ہے ۱۲ اختر الحامدی۔۔۔

مزید

تو اور خیال ’’مدحِ لب‘‘ کا

برگِ گُل تو اور خیال ’’مدحِ لب‘‘ کا خاموش، مقام ہے ادب کا تو اور مجالِ لَب کشائی یہ ہیں گُلِ باغِ کبریائی ۔۔۔

مزید

ہیں غنچۂ دہن، دہن پہ قرباں

غنچۂ باغِ قدرت ہیں غنچۂ دہن، دہن پہ قرباں یہ ہے وہ کلی، فِدا گلستاں ۔۔۔

مزید

گردن پہ ہے شمعِ طور قرباں

شمعِ طُور گردن پہ ہے شمعِ طور قرباں مینائے شرابِ نور قرباں رفعت نے نثار کی درازی ہے سر بسجود سر فرازی ۔۔۔

مزید

اللہ رے سینۂ کرامت

تابناک فانوس اللہ رے سینۂ کرامت پُر نور سفینۂ کرامت ہے خوب یہ شرحِ صدر و سینہ گر کہئے علوم کا خزینہ تشبیہ یہ سینہ کی عجب ہے یہ لوحِ مبیں ہے، عرشِ رب ہے دل شمع ہے، صدرِ پاک فانوس شفّاف ہے تابناک فانوس ۔۔۔

مزید

ہیں بازو، دستِ پاک واللہ

یدُ اللہ ہیں بازو، دستِ پاک واللہ آئینۂ آیۂ یدُاللہ ہیں شرحِ مبین مَارَمَیْتَ تفسیرِ حِسینِ مَارَمَیْتَ ۔۔۔

مزید

کیا وصف بیاں ہو انگلیوں کا

شاخِ طُوبیٰ کیا وصف بیاں ہو انگلیوں کا ہیں رُوکشِ شاخِ نخلِ طوبیٰ    ہلالِ عید ناخن ہیں ہلالِ عید اختر اور ہے کفِ دست ماہِ انور گنجینۂ قناعت پُر نور شِکم ہے گنجِ رحمت صندوقِ خزینۂ قناعت ۔۔۔

مزید

تشبیہ کمر کہاں سے لائے

جانِ ناز کی تشبیہ کمر کہاں سے لائے عنقا ہے، خرد کہاں سے پائے کس طرح کہوں کمر نہیں ہے ہاں میری نظر، نظر نہیں ہے مولا میں نثارِ کبریائی اچھی یہ مثال ہاتھ آئی اس درجہ ہے نور کی کمر صاف ہے تارِ نگاہ بھی ادھر صاف ۔۔۔

مزید

اللہ رے اوجِ رفعتِ پا

تاجِ سرِعرش اللہ رے اوجِ رفعتِ پا قدموں پہ جھکا ہے عرشِ اعلیٰ کونین کے بوجھ کا نہیں غم یہ پا ہیں کہ دو ستُونِ محکم ۔۔۔

مزید

وصفِ کف بیاں ہو کیوں کر

آئینے وصفِ کف بیاں ہو کیوں کر آئینۂ عقل بھی ہے ششدر اس درجہ ضیا فشاں ہیں جلوے ہیں شمس و قمر کے ماند جلوے ۔۔۔

مزید

جب ایسا حسین حبیب آئے

شاعِر جب ایسا حسین حبیب آئے ہر ایک نہ کیوں خوشی منائے غِلماں نے بجائے شادیانے گانے لگیں قمریاں ترانے جِنّات و ملائکہ، بشر سب اور جانور و شجر حجر سب اِستادہ تمام سَر جھکائے کرنے لگے عرض یوں ادب سے محبوبِ خداﷺ، سلام تم پر اے مالکِ کُل، سلام تم پر اے سرورِ دیں، سلام تم پر محبوبِ حسِیں، سلام تم پر اے نورِ مبیں، سلام تم پر قوسَین مکیں، سلام تم پر سلطانِ جہاں، سلام تم پر نوشاہِ جناں، سلام تم پر اے خاصۂ رب، سلام تم پر سرکارِ عرب، سلام تم پر اے شاہِ امم، سلام تم پر اے ابرِ کرم، سلام تم پر ہو تم پہ سلام تاج والے اے دونوں جہاں کے راج والے ہو تم پہ سلام جانِ رحمت اے روحِ روانِ شانِ رحمت ہو تم پہ سلام سب کے آقا سردارِ عجم، عرب کے آقا ہو تم پہ سلام نجم و یٰس اے جانِ بہارِ گلشنِ دیں ہو تم پہ سلام سب سے عالی کونین کے تاجدار و والی ہو تم پہ سلام نور والے اے صاحبِ تاج، طُور والے ہو تم پہ سلام ماہِ طیبہ اے۔۔۔

مزید

آیۂ حسنِ بے مثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر

حصّۂ درود و سلام آیۂ حسنِ بے مثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر سایۂ عینِ ذوالجلال، لاکھوں سلام آپﷺ پر اے مدنی مہِ کمال، لاکھوں سلام آپﷺ پر مہرِ منیرِ لازوال، لاکھوں سلام آپﷺ پر ماہِ جبینِ ضحٰی مثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر لوحِ صحیفۂ جمال، لاکھوں سلام آپﷺ پر حضرتِ مطلّب کے لال، لاکھوں سلام آپﷺ پر آمنہ بی﷝ کے نونہال، لاکھوں سلام آپﷺ پر معنئ آیۂ جمال، لاکھوں سلام آپﷺ پر شرحِ صفاتِ لایزال، لاکھوں سلام آپﷺ پر حُسنِ ہمہ، ہمہ جمال، لاکھوں سلام آپﷺ پر چاند جبیں، بھنویں ہِلال، لاکھوں سلام آپﷺ پر نور ہی نور بال بال، لاکھوں سلام آپﷺ پر حسن ہی حسن خدّ و خال، لاکھوں سلام آپﷺ پر آپ کی ذات بیمثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر آپ کا دائرہ محال، لاکھوں سلام آپﷺ پر ربّ ہے محبِّ بمیثال، لاکھوں سلام آپﷺ پر آپ حبیبِ خوش خصال، لاکھوں سلام آپﷺ پر کتنا حسِین و تابناک صلّ علےٰ ہے نامِ پاک میمِ مبیں سے تابہ دال‘ لاکھوں سلام آپﷺ پر۔۔۔

مزید