جمعرات , 30 رمضان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 19 March,2026


ضیائے اولیائے کرام رحمہم السلام   (16)





تحسین رضا واقعی تحسین رضا ہے

گل زارِ حسن کا گل رنگین ادا ہے تحسین رضا واقعی تحسین رضا ہے   توصیف میں اس کی جو کہوں اس سے سوا ہے تحسین رضا واقعی تحسین رضا ہے   نام اس کا بہت خوب ہے خود اس کی ثنا ہے تحسین رضا واقعی تحسین رضا ہے   رحمانی ضیاؤں کی رِدا میں وہ چھپا ہے تحسین رضا سرحد تحسیں سے ورا ہے   اب عقل کی پرواز اسے چھو نہیں سکتی تحسین رضا ایسی بلندی کا سما ہے   فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا وہ مالکِ جنت کی محبت میں گما ہے   سدرہ سے کوئی پوچھے ذرا اس کی بلندی وہ رتبۂ بالا مرے تحسیں کو ملا ہے ٭…٭…٭۔۔۔

مزید

منظر اسلام

منبع نورِ رسالت منظرِ اسلام ہے درس گاہِ علم و سنت منظرِ اسلام ہے قبلہ گاہِ دین و ملت منظرِ اسلام ہے مرکزِ اصلاحِ خلقت منظرِ اسلام ہے یادگارِ اعلیٰ حضرت منظرِ اسلام ہے ٭ ایضاً ٭ دور سے آتا یہاں ہر ایک تِشنہ کام ہے بادۂ حبِ نبی کا اس کو ملتا جام ہے آپ کٹ جاتا ہے اس سے جو بھی نافر جام ہے منکروں کے واسطے یہ تیغِ خوں آشام ہے جیسا اس کا نام ہے ویسا ہی اس کا کام ہے۔۔۔

مزید

سیدی مرشدی شاہ احمد رضا

سیّدی مُرشِدی شاہ احمد رضانازشِ اتقاء اَصفیاء اَولیاءعشقِ احمد سے دل جس نے روشن کیاجس کے صدقے ہمیں در مِلا غوث کااُس کے فیض و کرامت پہ لاکھوں سلاممصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام عِلمِ غیبِ نبی جس نے ثابت کیا اختیارِ نبی جس نے ثابت کیا اور جھوٹوں کو جھوٹا بھی ثابت کیاعشقِ احمد سے دل جس نے روشن کیا سیّدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلامشمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام حجّتِ دینِ اسلام حامد رضاجن کا چہرہ تھا یا اِک حسیں چاند تھااِک نظر جس نے دیکھا اُنھیں کا ہُوامنکروں نے بھی کلمہ خدا کا پڑھا اُن کی نورانی صورت پہ لاکھوں سلاممصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلامشمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام میرے مُفتیِ اعظم شہ ِ مصطفیٰنائبِ غوثِ اعظم امام التقیٰابنِ احمد رضا مظہرِ اَولیاءہر ادا سے عیاں سنّتِ مصطفیٰ تاج دارِ شری۔۔۔

مزید

ادائے مصطفیٰ تم ہو رضائے مصطفیٰ تم ہو

ادائے مصطفیٰ تم ہو رضائے مصطفیٰ تم ہوہر اِک اَنوار سے اے مقتدا احمد رضا تم ہوشبیہِ حضرتِ غوث الوریٰ ابنِ رضا تم ہوجہانِ علم کے مُفتیِ اعظم مصطفیٰ تم ہوولی ابنِ ولی زندہ ولی ہو پارسا تم ہوسراپا زُہد ہو اور پیکرِ صدق و صفا تم ہوتمھارے ظاہر و باطن پہ نازاں پارسائی ہےجو خیرِ اَتقیا تم ہو تو نازِ اَصفیا تم ہو پِلا دو جامِ نوری اپنی نورانی نگاہوں سےکہ نوری مَے کدے کے میر، میرے ساقیا تم ہو  مِری دنیا و دیں کا ما حصل الفت تمھاری ہےقیامت میں مِرے ماویٰ و ملجا آسرا تم ہو کسی کو کیوں سناؤں داستاں اپنے مصائب کیمِرے دُکھ کی دوا تم ہو مِرے مشکل کشا تم ہو مجھے توفیقِ صبر و استقامت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیکرِ صبر و رضا تم ہو(مکمل شعر دستیاب نہیں ہو سکا) اِسی میٹھی نظر سے دیکھ لو پھر اپنے منگتے کوکہ اس کی آرزو، حسرت، تمنّا، مدّعا تم ہو تمھاری ذات میں جلوے رضا، حامد رضا کے ہیںمِرے ح۔۔۔

مزید