منگل , 25 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 12 May,2026

حضرت مولوی غلام حسین فرید حسنی

حضرت مولوی غلام حسین فرید حسنی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت میر مداح الدین

حضرت میر مداح الدین علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا جمال الدین رام پوری

حضرت مولانا جمال الدین رام پوری علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ضیاء الدین جے پوری

حضرت مولانا ضیاء الدین جے پوری علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت میاں محمد جاں

حضرت میاں محمد جاں علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبدالشکور نظامی کمبل پوش

حضرت مولانا عبدالشکور نظامی کمبل پوش  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درویش بزرگ حضرت صوفی عبدالشکور اکبر آبادی بن آگرہ (یوپی ۔ بھارت ) میں ۲۷، رجب المرجب ۱۳۱۱ھ ؍ ۱۸۹۴ء دو شنبہ کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ان کے حقیقی نانا حضرت مولانا الحاج سید محبوب علی عطاء ، قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ مولانا عبدالشکور نے انہی کے دامن فیض میں تربیت پائی اور اس زمانے کے رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔  (بروایت پروفیسر مرزا سلیم بیگ بحوالہ ماہنامہ نعت لاہور ’’سندھ کے نعت گو ‘‘ دسمبر ۲۰۰۰ئ) حضرت قبلہ سید نواب محمد خادم حسن صاحب زبیری اجمیری مرحوم کی صحبت نے آپ کو ایک اچھا خاصہ شاعر بنا دیا ۔ آپ نے استاد محترم کے متعلق قطعہ کہا ہے: خادم خادمان چشت گئے نیک سیرت تھے خود سرشت گئے آج خادم حسن زبیری بھی کیا کہوں خازن بہشت گئے بیعت : آپ سلسلہ ع۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی

حسانِ پاکستان، حضرت مولانا ضیاء القادری بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا کا تاریخی نام ’’محمد فضل الرحمن ‘‘ عرفی نام ’’ محمد یعقوب حسین ‘‘ قلمی نام ضیاء القادری تخلص ’’ ضیاء ‘‘ اور خطابات لسان الحسان ، شاعر اہل سنت ، حسان پاکستا ن اور مورخ اہل سنت ملے ہوئے تھے ۔ ۲۶، رجب المرجب شب معراج نبوی ۱۳۰۰ ھ بمطابق ۲، جون ۱۸۸۳ء کو بعد نماز عشاء مدینۃالعلم بدایون ( بھارت ) میں تولد ہوئے ۔ آپ کے مورث اعلی مولاناخواجہ عبداللہ چشتی بدایون کے مایہ ناز عالم اور مشہور محدث و مفسر تھے ۔ چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ عاطف سر سے اٹھ گیا اس لئے تربیت کا انتظام غالب و مومن کے شاگرد مولانا علی احمد خان نے کیا۔ تعلیم و تربیت : جب مولانا کی عمر سات سال ہوئی تو انہیں افاضل اساتذہ نے پڑ ھانا شروع کیا۔ پہلے قرآن مجید پڑھایا پھر۔۔۔

مزید

استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی

استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الدین یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاد العلماء مفتی محمد نجم الدین بن میاں امام بخش سومرو ۲۶ رجب المرجب ۱۳۲۶ھ کو سندھ کے علمی و ادبی شہر گڑھی یاسین (ضلع شکار پور) میں تولد ہوئے۔ مفتی نجم الدین مفتی محمد قاسم و مفتی محمد ابراہیم یاسینی کے بہنوئی تھے۔ تعلیم و تربیت: آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے سالے مولانا حافظ محمد ابراہیم کے پاس پڑھا۔ حضرت مولانا مفتی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی میں سکندرنامہ تک صرف و نحو میں کافیہ تک منطق میں مرقاۃ تک ، فقہ میں کنز تک حدیث میں مشکوٰۃ تک، اصول فقہ میں اصول الشاشی اور ترجمہ قرآن پاک پڑھا۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ حضرت مولانا محمد قاسم کا ۱۸ ذوالقعدہ ۱۳۴۹ھ کو انتقال ہوگیا ۔ ان کے وصال کے بعد بقیہ نصابی کتب (درس نظامی) حضرت مولانا محمد ابراہیم کے پاس پڑھیں ، ان میں جلالین ، شرح تہذیب شرح وقایہ، ہدایہ مکمل ، جامی مطول، توضیح تلوی۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محمد بابا سماسی

حضرت خواجہ محمد بابا سماسی (بخارا) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ علی رامتینی ملقب بہ عزیزاں علی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے ہیں جن کو حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رحلت کے وقت خلافت و نیابت کے تمام مناصب سے سرفراز فرمایا اور تمام اصحاب کو آپ کی متابعت و ملازمت کا حکم دیا۔ آپ کی ولادت باسعادت ۲۵؍رجب ۵۹۱ھ بمطابق ۱۱۹۵ء کو قصبہ سماس میں ہوئی جو رامتین سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق سماس مضافاتِ طوس (مشہد) سے ہے۔ سنوسیِ ہند حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث دلی پوری قدس سرہ کے خلیفۂ اجل پیر خیر شاہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصانیف حنیف ’’برکاتِ علی پور شریف‘‘ میں تحقیق لکھتے ہیں کہ قصبہ سماس بخارا اور رامتین ہر دو سے نو نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ بہرحال حضرت بابا کوسماس کی نسبت سے سماسی ک۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی

حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فاضلِ نوجوان مولانا محمد شریف،  ہزاروی، ہری پور   مجاہدِ تحریک نفاذ نظام  مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت علامہ مولانا محمد  شریف ہزاروی، سعیدی  ولد مولانا عبد الجلیل ۲۵؍ رجب  المرجب، ۱۲؍ اگست ۱۳۵۷ھ/ ۱۹۳۹ء میں بمقام کھبل علاقہ تربیلا (ہزارہ ڈویژن) پیدا  ہوئے۔ آپ ایک  علمی و  روحانی  خاندان کے چشم و  چراغ ہیں۔ آپ کے والد ماجد عالم با عمل  ہیں اور فقہ  کی جزئیات میں خصوصی دسترس رکھتے  ہیں اور چچا مولانا عبد الباقی اور مولانا حبیب الرحمٰن علم و عمل کے زیور سے آراستہ  ہیں۔ آپ کے دادا  جان کے حقیقی بھائی  حضرت علامہ مولانا میر محمود عرف  خان مولانا علوم ظاہری  و باطنی  کے بحرِ ذخّار اور زہد  و تقویٰ کے مجسمہ ہیں۔ علامہ مولانا محمد  شری۔۔۔

مزید