شیخ محمد معاویہ بن محمود بن محمد بن مصطفیٰ بن حسن بن بابا محمد تونسی: ٹیونس کے رئیس العلماء عالم فاضل اور متکلم تھے،رسالہ ابن ملوکہ کی شرح بنام نزہۃ الفکر فی اسرار فواتح السور تحریرکی۔۱۲۹۴ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن حسن المعروف بہ ابن زرکشی: لقب شہاب الدین تھا،مدرسہ حسامیہ میں مدت تک مدرس رہے اور ہدایہ کی شرح سغناقی کا انتخاب کیا اور ماہ رجب[1]۷۳۸ھ میں وفات پائی۔ 1۔ ۷۳۷’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
حامد بن عبداللہ قارصی: شاعر،نحوی،مفسر اور فقیہ تھے۔دیوان شعر کے علاوہ تفسیر سورۂ عیس اور شرح الاظہار آپ کی تصانیف ہیں، ۱۲۹۱ھ میں قارص میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
جمال بن عمر مکی: مکعہ مفتی اور رئیس المدرسین تھے۔۱۲۸۴ھ میں وفا ت پائی۔الفرج بعد الشدہ فی تاریخ جدہ،فضائل النصف من شعبان اور نور الجمال علیٰ جواب السوال فی الفتاوےٰ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
جمال بن عمر مکی: مکعہ مفتی اور رئیس المدرسین تھے۔۱۲۸۴ھ میں وفا ت پائی۔الفرج بعد الشدہ فی تاریخ جدہ،فضائل النصف من شعبان اور نور الجمال علیٰ جواب السوال فی الفتاوےٰ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن عمر بن احمد استانبولی: فقیہ اور عالم تھے۔استانبول میں پیداہوئے، اپنے والد کے ساتھ دمشق چلےآئے اور وہیں ۱۲۸۱ھ میں انتقال ہوا۔شرح الدرر اور مناسک حج آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن عمر بن احمد استانبولی: فقیہ اور عالم تھے۔استانبول میں پیداہوئے، اپنے والد کے ساتھ دمشق چلےآئے اور وہیں ۱۲۸۱ھ میں انتقال ہوا۔شرح الدرر اور مناسک حج آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد سعید بن امین طبقجلی بغدادی: مفتی سابق کے نام سے مشہورتھے، فقیہ اور مفتی تھے۔۱۲۷۳ھ میں وفات پائی۔شرح علیٰ شرح لعصام فی الوضع،شرح قصیدہ عمری فی مدح الامام ابی حنیفہ اور تعلیقات علی الدرر المختار آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد سعید بن امین طبقجلی بغدادی: مفتی سابق کے نام سے مشہورتھے، فقیہ اور مفتی تھے۔۱۲۷۳ھ میں وفات پائی۔شرح علیٰ شرح لعصام فی الوضع،شرح قصیدہ عمری فی مدح الامام ابی حنیفہ اور تعلیقات علی الدرر المختار آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
سید محمد عثمان بن ابی بکر محمد میر غنی بن عبداللہ ابراہیم بن حسن حسنی مکی المعروف بہ میر غنی: مفسر،محدث اور صوفی تھے،طائف کے قریہ سلامت میں ۱۲۰۸ھ میں پیدا ہوئے،مصر اور سوڈان میں اقامت اختیار کی۔۲۲؍شوال ۱۲۶۸ھ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی۔۲۲سے زیادہ کتب تصنیف کیں جن میں اپنے دادا عبداللہ میر غنی کی کتاب مشکوٰۃ الانوار کی شرح بنام مصباح الاسرار،تاج التفاسیر لکلام الملک الکبیر دو جلدوں میں،شرح الفیہ ابن مالک،شرح الالفیہ سیوطی اور شرح البیقونیہ فی مصطلح الحدیث مشہور ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید