منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

سیّدناعجری ابن مانع رضی اللہ عنہ

   سکسکی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔فتح مصرمیں شریک تھے۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کوابن یونس نے کہاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثیم ابن کثیر رضی اللہ عنہ

 بن کلیب۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہےاورواقدی نے محمد بن مسلم بن عثیم بن کثیربن کلیب جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ غروب آفتاب کے بعدعرفات سے آرہے تھے۔ابن شاہین نےاسی طرح لکھاہے اوراورلوگوں نے واقدی سے انھوں نے اپنے داداسےایک دوسری حدیث روایت کی ہے شایداصل میں محمد بن مسلم عن عثیم تھاغلطی سے بجائے عن کے ابن ہوگیا کیوں کہ اس سند میں صحابی کلیب ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعثمہ ابوابراہیم رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ان کی حدیث ان کی اولاد سے مروی ہے۔چنانچہ اس کو یحییٰ بن بکیرنے رفیع بن خالدسےانھوں نے محمدبن ابراہیم بن عثمہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے محمد کے دادا سے روایت کرکےنقل کی ہے وہ کہتےتھےایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکان سے)باہر تشریف لائے پس ایک انصاری سے آپ کی ملاقات ہوئی انھوں نے عرض کیایارسول اللہ میرے ماں باپ حضورپرفداہوںمجھے رنج ہورہاہے اس کیفیت کودیکھ کرجوآپ کے چہرہ سے ظاہرہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیران کی طرف دیکھابعداس کے فرمایاکہ(اس کی وجہ)گرسنگی ہے وہ شخص اپنے گھرگئے مگرگھرمیں کچھ کھانانہیں پایا(وہاں سے)بنی قریظہ کے پاس گئے اوروہاں مزدوری شروع کی ایک ڈول پانی کے عوض میں ایک چھوہارا ٹھیرالیایہاں تک کہ ایک مٹھی بھرکرچھوہارے جمع ہوگئے پس ان چھوہاروں کو لیکریہ حاضرہوئےاورحضرت کے سامنے رکھ دئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ کھائیےنبی صلی اللہ علیہ۔۔۔

مزید

محمد رمضان (کراچی)

مولانا۔۔۔

مزید

ریاست علی (کراچی)

مولانا سید۔۔۔

مزید

شجاعت علی قادری (کراچی)

مولانا سید۔۔۔

مزید

جان محمد بلگرامی

سید۔۔۔

مزید

حضرت سید جان محمد حضوری

جان محمد اسم گرامی، حضور خطاب، والد ماجد کا نام شاہ نوربن سیّد محمود حضوری تھا، جن کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ آبائی سلسلہ حضرت موسیٰ کاظم امام جعفر صادق﷜ اور سلسلۂ بیعت حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ تربیت و تکمیل اپنے پدرِ بزرگوار اور جدِ امجد کے زیرِ سایہ پائی۔ سلسلۂ قادریہ میں بھی اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ اپنے وقت کے عارفِ کامل اور مقتدائے شریعت و طریقت تھے۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں گزاری۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے ظاہری و باطنی عُلوم سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں جو داخل ہو جاتا تھا وُہ جلد اوجِ طریقت پر پہنچ کر حضوری ہو جاتا تھا اس لیے حضوری مشہور ہوئے ۶۵۔۱۰۶۴ھ میں بہ عہد شاہ جہان وفات پائی۔ سیّد محمد لطیف مرحوم نے اپنی کتاب تاریخ لاہور صفحہ ۱۷۱ میں آپ کی تاریخِ وفات ۱۱۲۰ھ اُس کتبہ سے نقل کر کے ۔۔۔

مزید

شیخ جان محمد قادری لاہوری

شیخ مصاحب خاں خرد لاہوری قادری کے باکمال اور صاحبِ کرامت مرید و خلیفہ تھے۔ علم و عمل اور ہدایت و تلقین میں ممتاز الوقت تھے۔ وفاتِ مرشد کے بعد سجادہ نشین ہُوئے اور تادمِ زیست عوام و خواص کی تہذیب و تکمیل میں مصروف رہے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور سکّھوں کی لُوٹ مار کے باعث پنجاب میں ہر طرف بے چینی و بد امنی پھیلی ہُوئی تھی مضافاتِ لاہور کی آبادیاں افغانی لشکر کی غارت گری اور سکّھوں کی تخت و تاراج کی وجہ سے ویران ہورہی تھیں۔ اکثر و بیشتر آبادیاں نقلِ مکانی کر گئی تھیں۔ گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آئے، طالبِ دعائے اور بچاؤ کی تدبیر کی درخواست کی۔ فرمایا: میر اعصا لے جاؤ اور اپنے گاؤں کے گرد اس سے خط کھینچ دو، اِن شاء اللہ محفوظ رہو گے چنانچہ آپ کی دُعا اور توجّہ سے ایسا ہی ہوا۔ ۱۲۰۶ھ میں وفات پائی۔ مزار موضع بابک وال میں ہے۔ ز دنیا شد چو در خلدِ معلّٰی وصالِ او ز ’’شیخِ رہنما۔۔۔

مزید

علی کشمیری

میر محمد۔۔۔

مزید