آپ خانوادہ چشتیہ کے فیض یافتہ درویش تھے صاحب احوال و مقامات بزرگ تھے باطنی طور پر سالک تھے مگر ظاہری طور پر ایک مجذوب کی حیثیت سے رہتے تھے صحراء و بیابانوں میں گھومتے رہتے تھے اور صرف مخصوص پردے کے لیے لباس پہنتے تھے وہ علوم عقلی نقلی رسمی اور حقیقی کے ماہرین میں سے تھے جب کبھی ظاہری علوم کا اظہار کرتے تو لوگوں کو حیران کردیتے تھے مجرد تھے نوجوان تھے مگر کسی نفسانی چیز کی طرف توجہ نہ دیتے تھے کسی کو مرید نہ بناتے تھے اور فرمایا کرتے تھے میرا صرف ایک ہی مرید ہے جس کا نام ہشام ہے وہ بھی آپ کی طرح دشت و بیاں میں گھومتا رہتا تھا۔ آپ بعض اوقات عربی فارسی ہندی زبانوں میں بے ساختہ تقریر کرتے تھے جب آغاز گفتگو کرتے تو بڑی فصاحت کے ساتھ طویل گفتگو کرتے تھے جب نہایت جذبات میں آتے تو مجلس سے اٹھ کر صحرا و بیان کی طرف نکل جاتے۔ ملا محمد نارنولی فرماتے ہیں کہ ایک دن جامع مسجد میں آئے صفوں کو چیرت۔۔۔
مزید
آپ حضرت سلطان المشائخ کے مرید تھے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت گنج شکر کی بیٹی تھیں، آپ کو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی سے بڑا فیض ملا، آپ نے ایک کتاب تحفۃ الابرار لکھی جو حضرت شیخ نظام الدین کے ملفوظات پر مشتمل ہے، آپ ظاہری علوم میں قاضی معین الدین کاشانی کے شاگرد تھے۔ تحفۃ الابرار میں لکھتے ہیں کہ جن دنوں میں حضرت شیخ نظام الدین کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا تو ایک بزرگ اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں منہ قبلے کی طرف اور آنکھیں آسمان کی طرف، وہ جمال حق میں مستغرق ہیں۔ میں انہیں دیکھ کر ایک لمحہ حیران رہ گیا، دیکھا کہ شیخ تڑپے اور چڑیوں کی طرح پھڑ پھڑا نے لگے، عالم صحو میں آئے تو اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا تم کون ہو میں نے کہا میرا نام عزیز ہے فرمایا ان شاء اللہ عزیز بنو گے، آپ کی وفات سات سو اکتالیس ہجری میں بیان کی گئی ہے۔ رفت چون از جہاں بخلد بریں شیخ اہل یقین عزیز الدین رحلتش آفتاب انور گو ۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے عالم دین اور ولی اللہ تھے خواجہ نظام الدین دہلوی کے خلیفہ تھے اور آپ کے بہترین احباب اور اصحاب میں شمار ہوتے تھے ہندوستان کے اکثر علماء آپ کے شاگرد تھے، آپ کے شاگرد آپ پر فخر کرتے تھے آپ کا اصلی وطن اودھ تھا علم حاصل کرنے کے لیے دہلی آئے اور اس قدر علوم دینی میں کمال حاصل کیا کہ اُس وقت کے علماء میں سے فقہ حدیث اور تفسیر میں کوئی بھی مقابلہ نہ کرسکتا تھا ، آپ نے خواجہ نظام الدین کی کرامات کی شہرت سنی تو شیخ صدرالدین کی وساطت سے حاضر ہوئے اور مرید ہوگئے، تھوڑے ہی عرصے میں باطنی کمالات حاصل کرلیے، ساری عمر تجرید اور تغرید میں گزار دی ساری عمر شادی نہیں کی۔ خلافت حاصل کرنے کے باوجو دکسی کو اپنا مرید نہیں بنایا شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی نے یہ شعر آپ کے اوصاف میں لکھا تھا سالت العلم من حیاک حقا فقال العلم شمس الدین یحییٰ آپ کی وفات سات سو سنتالیس ہجری میں لکھی گئی ہے۔ شمس ۔۔۔
مزید
آپ حضرت فرید شکر گنج قدس سرہ کی اولاد میں سے تھے شیخ یوسف بن شیخ محیط الدین المعروف شاہ حیط بن شخ الدین المشہور شاہ شیخو بن شمس الدین بن نصیر الدین بن بدر الدین سلیمان بن حضرت فرید الحق والدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ آپ کو کرامات تو ورثہ میں ملی تھیں آپ راہ سلوک میں اپنے والد کے قدم قدم پر گامزن ہؤےآپ نے ابتدائی عمر اجودہن(پاک پتن) میں گزاری بڑے مجاہدے اور ریاضتیں کیں ایک دن غیبی آواز آئی یوسف بیت اللہ کو روانہ ہونے کی تیاری کرو اور حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت کا شرف حاصل کر و آپ یہ حکم پاتے ہی تین بھائیوں کو ساتھ لے کر خشکی کے راستہ دیار حبیب کو روانہ ہوئے ادائے حج ادا کرنے کے بعد حضور کے روضہ اطہر پر حاضری دی وہاں سے اجازت پاکر قلعہ امیر کی طرف روانہ ہوئے وہاں کے والی عادل شاہ(حکمران خاندیس) نے آپ کا بڑھ کر استقبال کیا اور بڑی مسرّت کا اظہار کیا آپ عادل شا۔۔۔
مزید
خواجہ مالک زادہ احمد رحمۃ اللہ علیہ آپ شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے معتقد تھے، عشق و محبت کی وجہ سے فنا فی الشیخ ہوگئے، معارج الولایت کے مصنف نے جوامع الکلم سے نقل کیا ہے کہ وہ ایسے بزرگ تھے جنہوں نے شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی سے ظاہری بیعت نہیں کی لوگوں نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا فرمایا مجھے یہ طاقت نہیں ہے کہ میں شیخ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھوں، آپ کے سامنے کھانا لایا جاتا تو آپ اسے دیکھتے رہتے اور کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے کہتے جب تک میں اپنے پیر کی زیارت نہ کرلوں میرے لیے کھانا حرام ہے اُٹھ کر اپنے پیر کی طرف جاتے زیارت کرتے پھر کچھ کھاتے پیتے زندگی کے آخری حصے میں خشکی کی وجہ سے بیمار ہوگئے ناک سے خون بہنے لگا اور وہ گلے میں ٹپکنے لگا، اگر کوئی خون کا قطرہ زمین پر گرتا تو آپ کے پیر کا نام لکھا جاتا، دوستوں کو پتہ چلا تو یہ واقعہ شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی کے سامنے بیان کیا گ۔۔۔
مزید
آپ حضرت نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ خاص تھے۔ آپ کا لقب مولانا عود تھا چند واسطوں سے حضرت عباس بن علی کرم اللہ وجہہ سے سلسلسہ نسبت ملتا تھا۔ شیخ دانیال بن میر بدرالدین بن فضل بن حسن بن عبداللہ بن عباس بن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ، آپ کے آباو اجداد کو اللہ تعالیٰ نے بڑی لمبی عمریں دی تھیں، آپ کے والد میر بدرالدین ایک سو بیالیس سال میں فوت ہوئے تھے۔ حضرت شیخ دانیال کے آباواجداد میں سے سب سے پہلے بزرگ آپ کے والد مکرم ہی تھے۔ جو غیاث الدین بلبیں کے عہد اقتدار میں ہندوستان آئے اور بمقام سترکہ قیام فرمایا، شیخ دانیال یہاں آکر پیدا ہوئے تھے۔ ہوش سنبھالا تو قصبہ سامامہ میں چلے گئے اور قاضی عبدالکریم کے زیر تربیت ظاہری علوم حاصل کیے، چونکہ علمی اور اخلاقی اعتبار سے حضرت دانیال بڑے ہونہار اور ذہین تھے، قاضی عبدالکریم نے آپ کو اپنی فرزندی دامادی میں قبول کرلیا، آپ تلاش حق میں نکلے۔۔۔
مزید
آپ نظام الدین اولیا بدایونی قدس سرہ کے خلیفہ خاص اور جلیس خاص الخاص تھے، آپ ظاہری اور باطنی علوم میں جامع اور مانع بزرگ تھے ورع، تقویٰ اور ذوق و شوق وجد و سماع میں بے مثال تھے، فقہ حدیث تفسیر کے علاوہ دینی علوم کے مخٹلف شعبوں میں باکمال تھے ابتدائی عمر میں مولانا فخرالدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ تحصیل علوم سے فارغ ہوئے تو عملی زندگی میں قدم رکھا، آپ خوش طبع تھے خوش کلام تھے اور خوش بیان تھے تقریر و تحریر میں یکتائے زمانہ تھے فصاحت و بلاغت کے امام مانے جاتے تھے۔ شعر و سخن میں لطافت کا یہ عالم تھا کہ شاعران وقت میں ممتاز تھے جب آپ پر غلبہ جذب آیا، تو کشاں کشاں حضرت سلطان المشائخ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، کئی بار حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ عالیہ کی زیارت کو گئے، وہاں سے خواجہ فریدالملت والدین کے روضہ کی زیارت کے لیے پاک پتن جاتے تھے آپ کا زیادہ ۔۔۔
مزید
آپ سلطان التارکین حضرت خواجہ حمیدالدین صوفی قدس سرہ کے خلیفہ اور مرید تھے، آپ کا ہندوستان کے مشہور اولیاء اللہ میں شمار ہوتا تھا۔ آپ شہر بدایوں میں خلوت گزیں ہوئے۔ اور عام لوگوں کی مجالس سے دور رہتے تھے کسی کے عقیدہ یا افکار سے کوئی سرو کار نہ تھا، آپ بڑے صاحبِ تصانیف تھے سلک السلوک ،عشرہ مبشرہ، کلیات بخشی، جزئیات بخشی، شرح دعائے سریانی، طوطی نامہ چلپی مشہور زمانہ کتابیں آپ کے قلم کا شاہکار ہیں، آپ کے رنگین قطعات اور دلچسپ اشعار مجالس اہل ذوق کی رونق ہوتے تھے، آپ نے فرمایا: نخشبی خیز با زمانہ بساز عاقلان زمانہ میگویند ورنہ خود را نشانہ باختن است عاقلی با زمانہ ساختن است آپ کی وفات ۷۵۱ھ میں ہوئی تھی۔ چوں ضیاء الدین ز عالم رخت بست سال وصل آج ولی نخشبی واقف اسرار اہل اسلام! ۷۵۱ھ نیز مرشد ہادی عالم ولی ۷۵۱ھ۔۔۔
مزید
آپ حضرت نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے اور آپ کے خواہر زادہ بھی تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے چونکہ آپ علوم حدیث، فقہ، اصول فقہ میں یگانۂ روزگار تھے اس لیے آپ کو علامہ کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا خرقۂ خلافت حاصل کرنے کے بعد آپ احمد آباد گجرات تشریف لے گئے جہاں آپ کو بڑی شہرت ملی آپ کی اولاد اور خلفا آج تک احمد آباد میں موجود ہیں۔ مولانا کمال الدین رحمۃ اللہ علیہ شجرۃ الانوار اور شجرۂ چشتیہ کی تحقیق کے مطابق ۷۵۶ھ میں فوت ہوئے تھے۔ یہ سانحۂ حضرت شیخ نصیرالدین کی رحلت سے ایک سال پہلے ہوا تھا۔ چوں کمال الدین ولی باصفا رفت از دنیا بفردوس بریں رحمت حق گو وصال پاک او ہم سفر با متقی اہلِ یقین ۷۵۶ھ۔۔۔
مزید
آپ شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے حضرت سلطان المشائخ کے منظور نظر تھے، آپ کے والد ماجد ایک بہت بڑے تاجر تھے، مگر حضرت نظام الدین محبوب الٰہی کے عقیدت مند تھے، بڑھاپا آگیا، مگر آپ کے ہاں اولاد نہ ہوئی، آپ اولاد کی محرومی کو اکثر محسوس کرتے تھے، ایک دن حضرت خواجہ نظام الدین حالت وجد میں تھے کہ آپ نے اولاد کے لیے سوال کردیا، حضرت شیخ نے اپنی پشت ان کی پشت سے لگادی، اور خوشخبری دی کہ اللہ تمہیں بیٹا دے گا ان کی منکوحہ بھی ضعیف ہوچکی تھی، مگر قدرت خداوندی سے اسی رات حاملہ ہوئی اور نو ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا، جس کا نام صدرالدین رکھا گیا، والد نومولود کو اٹھا کر حضرت کی خدمت میں لے گیا، آپ نے اٹھایا گود میں بٹھایا، چہرے سے کپڑا ہٹایا اور اپنے ہاتھ سے خرقہ تیار کرکے پہنایا، اور شیخ نصیرالدین کی گود میں دے کر کہا کہ ا س بچے کی ظاہری باطنی تعلیم و تربیت میں پو۔۔۔
مزید