کنیت ابورفاعہ اسی طرح ان کوابن ابی علی نے بیان کیاہے اوران کے نام میں اختلاف کیا گیا ہے بعض لوگوں نے تمیم بن اسید اور بعض نے عبداللہ بن حارث کہاہے مگرجہاں تک میں جانتا ہوں توسواابن علی کے دوسروں نے ان کوعدی نہیں کہاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہم کواسمعیل وغیرہ نے اپنی سندوں کومحمدبن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابن عمرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمدبن عمروبن حزم سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ابوالبداح بن عدی سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام رغبت کے واسطےاجازت دے دی تھی کہ ایک دن تیراندازی کیاکرو اورایک دن اس کوموقوف رکھاکرو۔اسی طرح اس کو ابن عبینہ نے روایت کیاہے اوراس کومالک بن انس سے عبداللہ بن ابی بکرسے انھوں نے اپنےوالدسے انھوں نے ابوالبداح ابن عاصم بن عدی سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کیاہے مگرمالک بن انس کی روایت بہت صحیح ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہم کوعبیداللہ بن احمد بن علی وغیرہ اورلوگوں نے اپنی سند کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکر خبردی وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن احمدبن ابوشعیب حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن سلمہ حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن اسحاق نے ابونصرسے انھوں نے یاذان سےجوام ہانی کے غلام تھےانھوں نے عبداللہ بن عباس سے انھوں نے تمیم داری سے آیت یاایھاالذین آمنوالشہادۃ بینکم اذا حضراحدکم الموت حین الوصیتہ الثنانکی نسبت نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے لوگ اس آیت کومیرے اورعدی بن بداءکے علاوہ کسی اورکے حق میں خیال کرتے ہیں یہ دونوں نصرانی تھے قبل اسلام شام کی طرف جایاکرتےتھے پس ایک مرتبہ بقصد تجارت شام کی طرف گئے ان دونوں کے پاس بنی ہاشم کے غلام بدیل بن ابی مریم آئے اور ا ن کے پاس ایک چاندی کاجام تھا۔اور(وہاں آکر)بیمارپڑگئے (چندعرصہ کے بعد)ان دونوں کو(کچھ) وصیت کرکے مرگئے۔تمیم داری کہتے تھے ہم نے اس جا۔۔۔
مزید
بن قطن بن عبداللہ بن سعد بن وائل عکلی ہیں اس کو ابن قانع نے اپنی سند کے ساتھ مستنیربن عبداللہ بن عداس نے نقل کرکے بیان کیاہے کہ عداس اورخزیمہ جوعاصم کے بیٹےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئے تھے ان کوابن دباغ اندلسی نےبیان کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن عبدشمس کے غلام تھے۔شہرموصل کے مقام نینویٰ کے رہنے والوں سے ہیں۔ یہ نصرانی تھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کی (حدیث میں)ان کاذکرہے۔ہم کوابومنصور بن مکارم نے اپنی سندکوابوزکریایعنی یزیدبن ایاس تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوشعیب حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے بقیلی نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے یزیدبن زیاد سے انھوں نے محمد بن کعب قرظی سے نقل کرکے خبردی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف کی طرف تشریف لے جانے کے قصہ کوذکرکیااورقبیلہ ثقیف سے جو مصائب آپ کو پہنچےان کوبیان کیااورکہا کہ اہل طائف نے آپ کوایک باغ میں پناہ لینے پرمجبورکیایہ باغ عتبہ اورشیبہ فرزندان ربیعہ کاتھاوہ دونوں اس باغ میں (موجود)تھےپس آپ نے انگورکے سایہ (میں آرام لینے)کاقصدکیا چنانچہ وہیں سایہ میں آپ بیٹھ گئےربیعہ کے دونوں بیٹے آپ کودیکھ رہےتھے اوردیکھتے تھے کہ جہلائے طائف آپ کو کیسے۔۔۔
مزید
بن ہوذہ بن ربیعہ بن عمروبن عامربن صعصعہ بن معاویہ بن بکربن ہوازن اورعمروبکاء بن عامرکےبھائی ہیں اوربکاکانام ربیعہ ہے اورربیعہ عمروکے بیٹے تھے اوریہی انف الناقہ (کے لقب سے مشہور)تھےیہ وہ انف الناقہ نہیں ہیں کہ جن کے قبیلہ کی مدح حطئیتہ نے کی ہے۔یہ عداء بصرے کے بدووں میں شمارکیے گئےہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدمیں آئےتھے۔ان سے ابورجاء عطاروی اورعبدالمجید بن وہب اورجہمضم بن ضحاک نےروایت کی۔یہ فتح مکہ اورحنین کےواقعہ کے بعدایمان لائے تھے۔یہی ہیں جنھوں نے کہاتھاکہ ہم نے واقعہ حنین میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کی مگرنہ ہم کواللہ نےغلبہ دیااورنہ ہماری مددکی پھراسلام لائے اوران کا نسب اچھاہواہم کو ابراہیم بن محمد کے علاوہ اورلوگوں نے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمدبن بشار نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبادبن لیث صاحب کرابیس نے ب۔۔۔
مزید
بن عبدالعزی مکہ میں رہتے تھےاس کوطبرانی نے بخاری سے نقل کرکے بیان کیاہے کہ انھوں نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے مگران کی کوئی حدیث نہیں روایت کی۔بخاری کے علاوہ دوسروں نےمقبرہ مکہ کی بزرگی میں ایک حدیث ان کی نسبت روایت کی ہے۔کہ قیامت کے دن مکہ (کی قبروں میں)سے سترہزارآدمی اٹھائے جائیں گےکہ ان سے حساب نہ ہوگا۔مستغفری نے کہاہے کہ ان کورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے تیس وسق۱؎خیبرسے حصہ دیاتھا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے مگردونوں نے ان کا نسب نہیں بیان کیاہے لیکن اسی طرح اورشاید یہ وہی عجیربن عبدیزیدہیں جن کا حال ان سے پیشتر ذکرہواپس عبدکو(ان کے والد کے نام میں سے) ساقط کردیااورتائیداس سے بھی ہوتی ہےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرمیں سے تیس وسق ان کو دیے تھے ہم کوابوجعفر یعنی عبیداللہ بن احمد نے اپنی سند کویونس بن بکیر تک پہنچاکرابن اسحاق نے ان لوگوں کے نام م۔۔۔
مزید
یزیدبن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف بن قصی قریشی مطلبی ہیں رکانہ بن عبدیزیدکے بھائی تھےیہ ان لوگوں میں ہیں جنھیں حضرت عمربن خطاب نے حرم کی حدودقائم کرنے کے واسطے بھیجا تھایہ قریش کے بزرگوں میں تھے سب سے معمرتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غنیمت خیبرمیں سے تیس وسق دیے تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔نصر بن حمادنےاپنے والد سےانھوں نے شعبہ سے انھوں نے جریری سے انھوں نے ابو سلیل سے انھوں نے عجوز بن نمیرسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ کعبہ میں دروازہ کے سامنے منہ کیے ہوئے نمازپڑھ رہےتھےاورآپ کو (یہ دعا بھی)مانگتے ہوئے میں نے سنا۱؎ الھم اغفرلی ذنبی عمدی وخطائیان کاتذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔اورابونعیم نے کہاہے کہ اسی طرح عجوز بن نمیرنے کہاہے۔اوراس حدیث کو غندراورحجاج وغیرہمانے شعبہ سے نقل کرکے روایت کیاہے۔اورانھوں نے کہاہے کہ عجوز نمیر کی اولادسے ہیں۔ہم کوعبدالوہاب ابن ہبتہ اللہ نے اپنی سندکوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حجا ج بن یوسف نے سعیدجریری سے انھوں نے ابوالسلیل سے انھوں نے عجوزسے جونمیرکی اولادسے تھےنقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہجر۔۔۔
مزید
سکسکی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔فتح مصرمیں شریک تھے۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کوابن یونس نے کہاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید