۔رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی اسد پرحاکم تھے یہ سیف بن عمرو کاقول ہے۔ابن دباغ نے ان کا تذکرہ ابوعمرپر استدراک کرنے کےلیے لکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
یلی۔جعفرنے کہاہے کہ ان کا ذکرایک حدیث میں ہےجو ان کے صحابی ہونے پردلالت کرتی ہے۔اوزاعی نے ابن سراقہ سے روایت کی ہے کہ خالدبن ولیدنے اہل دمشق کویہ تحریرلکھ دی تھی کہ میں نے ان لوگوں کی جان اورمال اورعبادت خانوں کوامان دیااوراس تحریرکے آخرمیں یہ عبارت تھی گواہ شدابوعبیدہ بن جراح و شرحبیل بن جسنہ وقضاعی بن عامریہ تحریر۱۳ھ ہجری کی لکھی ہوئی تھی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ اس روایت میں کلام ہے کیونکہ تاریخ کارواج حضرت ابوبکرکی خلافت اورحضرت عمر کی خلافت کے شروع زمانہ میں نہ تھابعد اس کے ہواہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان کا ذکرعلأ بن حضرمی کی کتاب میں ہے۔اوپران کا تذکرہ ہوچکاہے۔جعفرنے ان کا نام قصی بن ابی عمروحمیری بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسٰی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان کا ذکرعلأ بن حضرمی کی کتاب میں ہے۔اوپران کا تذکرہ ہوچکاہے۔جعفرنے ان کا نام قصی بن ابی عمروحمیری بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسٰی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن خزیمہ بن جریربن عمرو بن جریربن مخضب بن جریربن لبیدبن سنبسی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے تھے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابواسرائیل تھی۔یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے آفتاب میں کھڑےہونے۱؎ کی اورکلام نہ کرنے کی نذرکی تھی۔بغوی نے ان کا نام قشیربیان کیاہے اورانھوں نے اسی طرح کریب سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ابواسرائیل یعنی قشیرنے یہ نذرکی تھی۔ ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔واللہ اعلم۔ ۱؎یہ نذرزمانہ جاہلیت کی ہے اسلام میں ایسی نذرجائز نہیں واللہ اعلم۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔یزیدرقاشی نے موسیٰ بن سیارسے انھوں نے قسامہ بن زبیرسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ مومن کے قاتل (کی مغفرت)سے انکارکرتاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ غالباً یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ قسام اکثرابوموسیٰ(اشعری)وغیرہ سے روایت کرتےہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔یزیدرقاشی نے موسیٰ بن سیارسے انھوں نے قسامہ بن زبیرسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ مومن کے قاتل (کی مغفرت)سے انکارکرتاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ غالباً یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ قسام اکثرابوموسیٰ(اشعری)وغیرہ سے روایت کرتےہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
طائی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےطلحہ بن عبیداللہ کی حدیث میں ان کاتذکرہ ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
طائی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےطلحہ بن عبیداللہ کی حدیث میں ان کاتذکرہ ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید