بعض لوگ کہتے ہیں شعواء یافعی تھے۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا شمارصحابہ میں ہے ان سے سلیمان بن زیاد اورابومعشرحمیری نے روایت کی ہے ابن امیہ نے عیاش بن عباس قتبانی سے انھوں نے ابومعشرحمیری سے انھوں نے عمروبن شعواء یافعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات آدمیوں پرمیں نے لعنت کی ہےاور ہرنبی کی دعامقبول ہوتی ہے جن سات آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہےوہ یہ لوگ ہیں۔کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا اورتقدیر الٰہی کی تکذیب کرنے والااوراللہ کی حرام کی ہوئی چیزکوحلال کرنے والااورمیری عترت کی بےحرمتی کوجائزجاننے والا اور میری سنت کو ترک کرنےوالااور مال غنیمت کواپنے لیے مخصوص کرنے والااوراپنی سلطنت کے غرورمیں اس شخص کوعزت دینے والاجسے خدانے ذلیل کیااوراس کو ذلت دینے والاجسے خدانے عزت دی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قبیلۂ بنی قریظہ سے ہیں بنی قریظہ کے قلعہ سے اسی شب میں اترےتھے جس کی صبح کو قلعہ فتح ہواتھاشب کو یہ مسجد رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم میں رہے مگرصبح کو نہ معلوم ہواکہ کہاں چلے گئے پھراس وقت سے آج تک ان کا پتہ نہ ملا ابن شاہین نے اس کو بیان کیاہے ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوکبشہ ہے۔انماری یحییٰ بن یونس نے نام ان کا اسی طرح بیان کیاہے اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام عمروبن سعیدہے ۔یہی زیادہ مشہورہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اوربعض لوگ کہتےہیں کہ یہ سعدالخیرکے بیٹے ہیں نام ان کا عامر بن مسعود تھا۔جعفرنے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری اشہلی۔یہ انہیں سعد کے بیٹے ہیں جن کی وفات سے رحمن کا عرش ہل گیا تھاکنیت ان کی ابوواقد تھی بیعتہ الرضوان میں شریک تھے۔ان سے ان کے بیٹے واقد نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قباپہنی جس میں ریشمی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں لوگ اس قباکوتعجب کی نظرسے دیکھنے لگےتو آپ نے فرمایا کہ جنت میں سعد کے رومال اس سے بہترہیں۔ان کی اولاد میں سے محمد بن حصین بن عبدالرحمن بن عمروبن سعد بن معاذ ہیں جو علمائے انصارمیں سے ایک شخص ہیں محمدبن عبداللہ بن حسن کے ساتھ یہ بھی تھے اور انصارکاجھنڈاانھیں کے ہاتھ میں تھا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔(اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبعہ بن حارث بن فہر قریشی فہری ۔کنیت ا ن کی ابوسعید ہے یہ اور ان کے بھائی وہب بن ابی سرح مہاجرین حبش سے تھےاوردونوں غزوہ بدرمیں شریک تھے یہ ابن عقبہ اورابن اسحاق اور کلبی کاقول ہے اورواقدی اورابومعشر نے کہاہے کہ ان کا نام معمرہےاوران دونوں نے بیان کیاہے کہ یہ بدراوراحداورخندق اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ہمیں ابوجعفرنے اپنی سندکے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں روایت کیاہے کہ بی حارث بن فہرکے خاندان سے عمروبن ابی سرح بن ربیعہ تھے ان کی کوئی اولاد نہ تھی نیزاس سندکے ساتھ ابن اسحاق سے مہاجرین حبش کے ناموں میں بھی عمرو بن ابی سرح بھی تھے۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی وفات مدینہ میں بعہد خلافت حضرت عثمان ۳۰ھ ہجری میں ہوئی طبری نے اس کوبیان کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبعہ بن حارث بن فہر قریشی فہری ۔کنیت ا ن کی ابوسعید ہے یہ اور ان کے بھائی وہب بن ابی سرح مہاجرین حبش سے تھےاوردونوں غزوہ بدرمیں شریک تھے یہ ابن عقبہ اورابن اسحاق اور کلبی کاقول ہے اورواقدی اورابومعشر نے کہاہے کہ ان کا نام معمرہےاوران دونوں نے بیان کیاہے کہ یہ بدراوراحداورخندق اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ہمیں ابوجعفرنے اپنی سندکے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں روایت کیاہے کہ بی حارث بن فہرکے خاندان سے عمروبن ابی سرح بن ربیعہ تھے ان کی کوئی اولاد نہ تھی نیزاس سندکے ساتھ ابن اسحاق سے مہاجرین حبش کے ناموں میں بھی عمرو بن ابی سرح بھی تھے۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی وفات مدینہ میں بعہد خلافت حضرت عثمان ۳۰ھ ہجری میں ہوئی طبری نے اس کوبیان کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر۔۔۔
مزید
ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ یہ دوسرے شخص ہیں۔جعفر نےبھی ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ حضرت عمربن خطاب نےوادی القری میں ان کو حصہ دیاتھا۔جعفرنے ان دونوں کے درمیان فرق پیداکیاہے۔اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ اسحاق سے اس کو روایت کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ حافظ ابوعبداللہ نے عمروبن سراقہ انصاری کا ذکرکیاہے شاید وہ انہیں دونوں میں سے ایک ہیں۔میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ کا یہ کہنا کہ شاید وہ انہیں دونوں میں سے ایک ہیں تعجب انگیزبات ہے کیوں کہ پہلے عمروبن سراقہ کو عدوی بیان کیاگیاہے پس لامحالہ یہ عمرو بن سراقہ انصاری ہوں گےواللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن معتمربن انس بن اواۃ بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی قریشی عدوی۔یہ ابونعیم اور ابوعمرکاقول ہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ عمروبن معتمرانصاری عبداللہ بن سراقہ کے بھائی تھے۔ ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس سے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں نقل کرکے بیان کیاکہ بنی عدی بن کعب سے عمروبن سراقہ اوران کے بھائی عبداللہ بن سراقہ بھی تھے ان کے کوئی اولادنہ تھی موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی طرح بیان کیاہے اوران دونوں نے کہاہے کہ یہ عمرواحد اورخندق اورتمام مشاہد میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ کہتےتھے ہمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹے لشکر کے ساتھ بھیجاتھاہمارے ساتھ عمروبن سراقہ بھی تھے ان کا پیٹ بہت ہلکاتھااورقد لانبا تھاان کو بھوک معلوم ہوئی تو بیٹھ گئے ہم لوگوں نے ایک پتھرلے کر ان کےشکم پر باندھ دیاپس وہ چلے۔۔۔
مزید
۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں ۱ھ ہجری میں وفد بن کے آئے تھے۔ہشام بن کلبی نے عمران بن ہزان رہاوی سے انھوں نے اپنےوالد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے عمروبن سبیع رہاوی مسلمان ہو کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے لیے ایک جھنڈابنوادیاتھااوریہ اس جھنڈے کولے کرحضرت معاویہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھےجب یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے توانھوں نے یہ اشعار نظم کیےتھے۔ ۱؎الیک رسول اللہ من سرو حمیر اجوب الفیافی اسملقا بعد سملق علی ذات الواح اکفلہاالسری &۔۔۔
مزید